چیف جسٹس نے کراچی کے مسائل کا پوسٹ مارٹم کیسے کیا؟

چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی کی ’تباہ کن‘صورت حال کے حوالے سے اپنا تجربہ بھی بتایا کہ کیسے ایک سڑک پر ان کی گاڑی کا پہیہ گٹر میں دھنس گیا تھا۔

چیف جسٹس نے کراچی کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کچھ اہم سوال بھی اٹھائے (اے ایف پی )

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کراچی کی موجودہ صورت حال پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ سندھ حکومت کی رٹ کہاں پر ہے؟

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی کراچی رجسٹری میں شہر کے مسائل کے حوالے سے پیر کو ہونے والی سماعت کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا جب چیف جسٹس کے سوال پر میئر کراچی سیٹ سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے دوران سماعت شہر کی ’تباہ کن‘ صورت حال کے حوالے سے اپنا تجربہ بھی بتایا کہ کیسے ایک سڑک پر ان کی گاڑی کا پہیہ گٹر میں دھسن گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پورے شہر میں ہر طرف کچرے، گندگی اور تعفن کی صورت حال ہے۔ ’وزیر اعلیٰ سندھ صرف ہیلی کاپٹر پر دورہ کر کے آجاتے ہیں، ہوتا کچھ نہیں ہے۔‘

چیف جسٹس نے کراچی کی موجودہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے کچھ اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا: ’میئر کراچی کہتے ہیں میرے پاس اختیارات نہیں، اگر اختیارات نہیں تو گھر جائیں میئر کیوں بنے بیٹھے ہیں؟ لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ شہر میں صفائی کا ذمہ دار کون ہے؟ اور کیا کراچی کے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی دشمنی نکالی جاتی ہے؟‘

انہوں نے کراچی میں ہونے والی حالیہ مون سون بارشوں اور عیدالاضحیٰ کے بعد ہونے والی گندگی، غیر قانونی بل بورڈز، غیراعلانیہ اور طویل لوڈ شیڈنگ، سرکلر ریلوے کی بحالی، زمینوں پر قبضے اور کراچی جم خانے میں غیر قانونی تعمیراتی کاموں کے حوال سے اہم ریمارکس دیے اور فیصلے سنائے۔

’شہر میں صفائی کا ذمہ دار کون؟‘

آج سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ ’کوئی ہے جو اس شہر کو صاف کرے؟‘۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ اس شہر میں بچے گٹر کے پانی میں روز ڈوبتے ہیں۔ ’مجھے تو لگتا ہے کراچی کے لوگوں کے ساتھ دشمنی ہے۔ سندھ حکومت کی بھی اس شہر سے دشمنی ہے اور لوکل باڈیز کی بھی۔‘

 چیف جسٹس نے جب میئر کراچی سے پوچھا کہ وہ اپنے عہدے سے کب جائیں گے تو وہ اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بتایا کہ ان کی مدت 28 اگست کو ختم ہو رہی ہے۔ اس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ وہ شہر کی ’جان چھوڑ کر جائیں کیوں کہ کراچی کے میئرز نے اس شہر کو تباہ کیا ہے۔‘

میئر کراچی نے پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’صرف نالوں کی صفائی کے لیے پورا پاکستان آگیا ہے۔ اختیارات کا بہانہ بنا کر دونوں حکومتوں نے کراچی کا ستیاناس کر دیا۔ کراچی کا صرف 10 فیصد کنٹرول کے ایم سی کے پاس ہے، اس لیے کوئی بھی میئر کراچی کا حال درست نہیں کرسکتا۔‘

’ایک چھوٹا سا آدمی کراچی کی بجلی بند کر دیتا ہے‘

چیف جسٹس نے کراچی میں طویل گھنٹوں کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے معاملے اور بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات پر سی ای او کے الیکٹرک کو طلب کر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روز ٹی وی چینلز پر بجلی کا مسئلہ چل رہا ہوتا ہے۔ ’ایک چھوٹا سا آدمی کراچی کی بجلی بند کر دیتا ہے۔ روز آٹھ، دس لوگ کرنٹ لگنے سے مر جاتے ہیں۔ کس کی اتنی ہمت کہ وہ کراچی کی بجلی بند کرے۔ کے الیکٹرک نے اربوں کھربوں کے حساب سے کما لیا ہے۔‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کے الیکٹرک کے ڈائریکٹرز کو گرفتار کیا جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے، کے الیکٹرک کے سی ای او کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ ’ناصرف یہ بلکہ کے الیکٹرک کی پوری انتظامیہ کا نام ایی سی ایل میں شامل کیا جانا چاہیے جس کے حوالے سے وہ حکم نامہ بھی جاری کریں گے۔‘

’بل بورڈ کس نے لگایا تھا‘

چیف جسٹس نے حالیہ بارشوں کے دوران کراچی میں بل بورڈ گرنے کے معاملے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے پورے شہر سے بل بورڈز ہٹانے کا فیصلہ سنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پورے شہر میں ہر جگہ آپ کو بل بورڈ نظر آئیں گے۔ اگر یہ بل بورڈز کسی پر گر گئے تو بہت نقصان ہوگا۔ کراچی کی عمارتوں پر اتنے بل بورڈز لگے ہوئے ہیں کہ کھڑکیاں بند ہوگئی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’مکانوں پر اشتہارات اور بل بورڈ کی وجہ سے ہوا ہی بند ہوگئی ہے۔ یہ تو قانون کے خلاف ورزی ہے، حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، ہر بندہ خود مارشل لا بنا بیٹھا ہے، سندھ حکومت کی رٹ کہاں پر ہے؟‘

کراچی میں بل بورڈ حادثے کے حوالے سے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بل بورڈ کس نے لگایا تھا؟ اس پر ایس ایس پی ساؤتھ نے بتایا کہ دو ملزمان نامزد اشرف موتی والا اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ کیا وہ سمندر کے نیچے چلے گئے ہیں؟ ’عدالت میں فضول باتیں مت کرو، جاؤ اور ان کو آدھے گھنٹے میں ڈھونڈ کر لاؤ۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ پانچ سال قبل بھی سپریم کورٹ نے کراچی میں فٹ پاتھوں اور گرین بیلٹس پر لگائے گئے غیر قانونی سائن بورڈز اور ہورڈنگز کو ہٹانے کا حکم دیا تھا۔ تاہم اس حکم کے باوجود ایک بار پھر شہر میں بڑی تعداد میں بل بورڈز نظر آتے ہیں۔

اس حوالے سے کمشنر کراچی کے پی ایس احمر پاشا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے بارش کے دوران شہری پر بل بورڈ گرنے کے حادثے کے بعد سات اگست کو ہی کراچی سے تمام بل بورڈز ہٹانے کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا تھا۔ ان کے مطابق آج سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اس حوالے سے کمشنر کراچی کی جانب سے رپورٹ بھی جمع کروائی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کو پورے شہر سے بل بورڈز ہٹانے کی ذمہ داری دی ہے۔ ’ہم نے اس سے پہلے ہی کئی علاقوں میں یہ کام شروع کر دیا تھا اور جلد از جلد یہ کام مکمل کیا جائے گا۔‘

پاشا کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ کون ذمہ دار ہے کیوں کہ بل بورڈز ڈی ایم سی، کے ایم سی، کنٹونمنٹ بورڈ اور پرائیویٹ اداروں کی جانب سے لگائے جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان