طاقتور مون سون سیلاب، کمزور قحط سالی لاتا ہے،مون سون ہے کیا؟ 

'جب یہ ہوائیں سست پڑ جاتی تھیں اور عرب جہاز رانوں کے بحری جہازوں کے رکنے کا خدشہ ہوتا تھا تو وہ لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی تجارت کے لیے لانے والے گھوڑوں کو سمندر میں پھینک کر وزن کم کرتے تھے تاکہ بحری جہاز رک نہ جائیں۔'

(تصاویر: اے ایف پی)

پاکستان میں ہرسال موسم گرما کے بعد جب سورج تپنے لگتا ہے تو لوگ بارشوں کا انتظار کرتے ہیں اور جب مون سون کی موسلا دھار بارشیں ہوتیں ہیں تو لوگ اپنی مخالف سیاسی پارٹی کے حلقوں سے سیلابی صورت حال کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر مخالفوں کی کارکردگی کی قلعی کھولنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔  

پاکستان میں اس سال جون کے آغاز سے مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ اب تک سندھ اور بلوچستان کے ساتھ ملک کے بالائی اور میدانی علاقوں کے علاوہ کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں مون سون کی کئی بارشیں ہوچکیں ہیں اور بارشوں کا یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔  

 مون سون آخر ہے کیا؟ 

ماہرین کے مطابق مانسون یا مون سون، اردو زبان میں برسات کے لیے رائج عربی زبان کے لفظ موسم کی بگڑی صورت ہے جو عرب جہاز رانوں نے پہلی بار استعمال کیا اور انگریزی زبان میں یہ لفظ پہلی بار بھارت پر برطانوی راج کے دوران استعمال ہوا۔

ہندوستان میں مون سون کو ساون کی جھڑی اور برکھا رت کہا جاتا تھا اور برصغیر کے شاعروں نے اس لفظ پر شاعری بھی کی ہے جیسے ساغر صدیقی کا یہ شعر: 

دستکیں دے رہی ہے پلکوں پر 
کوئی برسات کی جھڑی ہوگی 

 یا پھر اردو ادب میں الطاف حسین حالی کی لکھی 'برکھا رت' نظم کا بھی خاصا چرچا ہے۔  

 مون سون یا مانسون، ہواؤں، بادلوں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی یا تیز بارشیں لانے والا ایک موسمی سلسلہ ہے جو موسم گرما میں جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی ایشیا میں بارشوں کا سبب بنتا ہے۔   

محکمہ موسمیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل اور عالمی موسمیاتی تنظیم میں پاکستان کے مستقل نمائندے ڈاکٹر غلام رسول نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مون سون ایک ایسا موسمی نظام ہے جس کے دوران موسم گرما کے دنوں میں ٹراپک آف کینسر یا خط سرطان اور ٹراپک آف کیپری کارن یا خط جدی کے درمیان، بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل تک خَط استوا کی طرف چلتی ہوائیں، جنھیں تِجارتی ہوائیں یا باد مراد ہوائیں کہا جاتا ہے، اپنے معمول کے برعکس الٹ جاتی ہیں۔ 

 ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق : 'یہ ہوائیں خط استوا کے پانچ ڈگری شمال اور پانچ ڈگری جنوب میں چلتی ہیں۔ جب یہ ہوائیں سست پڑ جاتی تھیں اور عرب جہاز رانوں کے بحری جہازوں کے رکنے کا خدشہ ہوتا تھا تو وہ لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی تجارت کے لیے لانے والے گھوڑوں کو سمندر میں پھینک کر وزن کم کرتے تھے تاکہ بحری جہاز رک نہ جائیں۔ اس وجہ سے جس عرض بلد پر ہوائیں رکتی ہیں اسے گھوڑا عرض بلد (Horse Latitude) بھی کہا جاتا ہے۔' 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

' مون سون صرف ایشیا تک محدود نہیں نہیں۔ ہواؤں کے الٹنے کے باعث ٹراپک سے آگے بھی کئی خطوں تک اس کے اثرات جاتے ہیں۔

اس موسم کے دوران سیلابی صورت حال ہوتی ہے اور مون سون کا ہماری اقتصادیات، پانی کے ذخائر، توانائی اور فوڈ سکیورٹی سے بھی گہرا تعلق ہے۔

مون سون کی اچھی بارشیں خوشحالی لاتیں ہیں اور کئی خطوں میں چلنے والی خشک سالی کا خاتمہ ہوتا ہے مگر موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مون سون کی بارشیں متغیر ہوتی جارہی ہیں اور ایک طاقتور مون سون کا نتیجہ اب سیلاب ہوتا ہے جب کہ کمزور مون سون کے باعث قحط سالی کا خدشہ ہوتا ہے، دونوں صورتوں میں ہماری جیسی زرعی اکانومی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔' 

 محکمہ موسمیات جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر واشدیو کھتری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مون سون کا آغاز مئی سے جنوبی چین سے شروع ہوتا ہے ۔

اس دوران تبت کے پہاڑوں پر ہائی پریشر پیدا ہوتا ہے اور اس وقت مغرب کی بجائے مشرق سے ہوائیں چلنا شروع کرتی ہیں اور پھر مون سون کا نظام پہلے میانمار یعنی برما کی طرف رخ کرتا ہے وہاں سے خلیج بنگال سے ہوتا ہوا سری لنکا اوربھارت پہنچتا ہے اور پھر مشرق کی طرف نکل جاتا ہے۔

مون سون کا کچھہ حصہ بھارت کے اوپر برستا ہوا کوہ ہمالیہ سے ٹکراکر واپس آتا ہے اور پھر اس موسمی نظام کا کچھہ حصہ شمال مغرب کی طرف پاکستان کا رخ کرتا ہے اور جولائی کے مہینے میں مون سون کے بادل لاہور پہنچتے ہیں۔

مغربی ممالک کے برعکس جہاں سارا سال بارشیں ہوتی ہیں اس خطے میں مون سون کا بیتابی سے انتظار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے رومانوی رنگ میں بھی دیکھا جاتا ہے اور اکثر فلموں میں بارشوں میں گیت فلمائے جاتے رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات