’لاپتہ‘ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ سرمد سلطان کون ہیں؟

بدھ کی رات سے سرمد کے دونوں موبائل نمبر بند ہوگئے، ٹوئٹر پر بھی کوئی نئی ٹویٹ نہیں آئی بلکہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہی معطل ہوگیا، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ’لاپتہ‘ ہو گئے ہیں۔

سرمد سلطان کا تعلق فتح جنگ کے ایک متوسط زمیندار خاندان سے ہے اور وہ خود بھی کاشت کار ہیں (تصویر: سرمد سلطان فیس بک)

دھیما لہجہ، دبلا پتلا جسم، گھنی مونچھیں اور مدلل انداز بیان رکھنے والے سرمد سلطان 2017 کے بعد سے ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا فورمز پر کافی متحرک دکھائی دیے۔

تاریخی واقعات سے مطابقت رکھنے والی پوسٹس کی وجہ سے انہیں ٹوئٹر پر کافی پذیرائی ملی جبکہ ان کے فالورز کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔

آخری بار ان کی نامور سندھی مصنفہ اور ڈرامہ نگار نورالہدیٰ شاہ سے ٹوئٹر پر بات ہوئی، جس میں نور الہدیٰ نے ان کی تحریروں اور جمہوری سوچ سے متعلق تعریفی کلمات ادا کیے تھے۔

لیکن اچانک بدھ کی رات سے سرمد کے دونوں موبائل نمبر بند ہوگئے، ٹوئٹر پر بھی کوئی نئی ٹویٹ نہیں آئی بلکہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہی معطل ہوگیا، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ’لاپتہ‘ ہو گئے ہیں۔

سرمد سلطان کون ہیں؟

سرمد سلطان کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک کے شہر فتح جنگ کے ایک متوسط زمیندار خاندان سے ہے اور وہ خود بھی کاشت کار ہیں۔

وہ پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے ماسٹرز ڈگری ہولڈر اور تاریخ پر مضامین بھی لکھتے رہے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر بھی ہر واقعے کو تاریخی پہلوؤں سے جوڑتے ہیں۔

سرمد جمہوری قوتوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں کی حمایت میں بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کی عمر تقریباً 32 یا 33 سال ہے اور وہ غیر شادی شدہ ہیں۔

دو ماہ قبل وہ دوستوں سے ملاقات کے لیے لاہور آئے تو انہیں ایک وکیل دوست نے کھانے پر مدعو کیا، جہاں ایک ہوٹل میں میری ان سے ملاقات ہوئی۔

دو، تین گھنٹے کی گپ شپ کے دوران ان سے دوستوں نے پوچھا کہ وہ جمہوریت کے حق میں سخت موقف کیوں رکھتے ہیں؟ اور کیا ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پر انہوں نے بڑے مدلل انداز میں بتایا کہ وہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور نہ ہی کسی ادارے کے لیے کام کرتے ہیں۔

ان کی سوچ ہے کہ ’ملک میں ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرے، اسٹیبلشمنٹ اپنا کام کرے، عدلیہ اور پارلیمنٹ اپنے فرائض انجام دیں کیونکہ ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قائم ہوئے 73 سال سے زائد ہوگئے مگر ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے کہ یہاں جمہوریت کا نظام چلنا ہے یا آمریت کے ذریعے امور چلانے ہیں۔

ان کے خیال میں اگر یہ طے ہوجائے تو حالات بہتر کرنے کی ذمہ داری کسی ایک طبقے پر فکس ہوگی، یوں آدھا تیتر، آدھا بٹیر والا تاثر ختم ہوسکتا ہے۔

سرمد کے مطابق: ’دنیا میں آزاد جمہوری اداروں کے قیام سے ترقی ممکن ہوئی اور معاشروں سے بے چینی بھی کم ہوئی ہے، اسی لیے تاریخی پہلوؤں سے مختلف واقعات پر بات کرنا میرا شوق بھی ہے اور جذبہ بھی تاکہ لوگوں کو میرے مطابق حقائق کا پتہ چلتا رہے۔‘

اس نشست کے بعد رات گئے وہ بس کے ذریعے لاہور سےاپنے شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔

بعد ازاں ان سے فون پر کبھی کبھار خیریت دریافت کرنے کے لیے رابطہ رہا مگر گذشتہ روز سے ان کے دونوں نمبر بند ہیں اور وٹس ایپ بھی فعال نہیں جہاں ان سے میسج پر بھی بات ہوتی تھی۔

لاپتہ ہونے کا معاملہ اور ردعمل:

سرمد سلطان کے اچانک غائب ہونے پر ابھی تک ان کے اہل خانہ کی طرف سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مصدقہ اطلاع نہیں مل سکی۔

جب انڈپینڈنٹ اردو نے ایس ایچ او تھانہ فتح جنگ حامد کاظمی سے پوچھا کہ آیا سرمد سلطان کے لاپتہ ہونے سے متعلق کوئی درخواست دی گئی ہے تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک دن پہلے ہی چارج لیا ہے اور یہ کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔

جب ان سے کہا گیا کہ تھانے سے ریکارڈ چیک کر کے بتائیں تو انہوں نے معلومات فراہم کرنے سے اجتناب کیا، تاہم سوشل میڈیا پر ان کے کئی دوستوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ لاپتہ ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ وہ خود لاتعلق ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی سرمد سلطان کے لاپتہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے مبینہ طور پر لاپتہ ہونے پر صحافیوں اور ان کے فالورز کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ان کی محفوظ واپسی کے لیے اظہار ہمدردی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

سینیئر صحافی حامد میر نے ٹویٹ میں لکھا کہ ’سرمد سلطان سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن غیر قانونی طریقے سے غائب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس اسے جواب دینے کے لیے کوئی دلیل نہیں۔‘

بقول حامد میر: ’کل تک وہ صرف ایک آواز تھا آپ نے اسے غائب کر دیا۔ اب اس کی آواز میں کئی آوازیں شامل ہو گئی ہیں، وہ ایک ہیرو بن چکا ہے۔‘

دوسری جانب نورالہدیٰ شاہ نے ٹویٹ کی کہ ‏’لوگ ٹوئٹر پرہی نہیں بول رہے صرف، دراصل آپ صرف ٹوئٹر پڑھتے ہیں ورنہ لوگ گلیوں/ محلوں/ بازاروں/ کوٹھوں پر بھی بول رہے ہیں۔ محفلوں/ بند کمروں میں بھی بول رہے ہیں۔ آپ پرخوب ہنستے بھی ہیں ملک پر آنسو بھی بہاتے ہیں۔ ٹوئٹرسے باہر یہ ایک نہیں لاکھوں/کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔‘

دوسری جانب کئی سوشل میڈیا صارفین ان کے لاپتہ ہونے کو جھوٹ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سستی شہرت حاصل کرنے کا طریقہ بھی ہوسکتا ہے، جب تک ان کے خاندان، پولیس یا کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے سے ردعمل سامنے نہیں آتا، اداروں پر تنقید بلا جواز ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل