بچوں کو بتایا ہے کہ پاپا سیر کو گئے ہیں: اہلیہ ساجد گوندل

ایس ای سی پی کے لاپتہ جوائنٹ ڈائریکٹر اور سابق صحافی ساجد گوندل کی اہلیہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد کہا کہ ان کے شوہر نہ تو مجرم ہیں اور نہ ہی تحقیقاتی صحافی تو پھر انہیں کیوں ’پکڑا‘ گیا؟

سکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر نہ تو مجرم ہیں اور نہ ہی تحقیقاتی صحافی تو پھر ان کو کیوں ’پکڑا‘ گیا ہے؟

ساجد گوندل جمعرات تین ستمبر کی رات سے لاپتہ ہیں۔ ان کی 'بازیابی' کے لیے ان کی والدہ عصمت بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کر رکھی جس کی سماعت آج ہوئی۔ سماعت کے بعد ساجد کی اہلیہ سجیلہ گوندل نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ’آج کی کارروائی یک طرفہ تھی، عدالت نے ہمیں سنا ہی نہیں اور نہ ہمارے وکیل سے کچھ پوچھا۔‘

گھر کی صورتحال اور بچوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں بچوں کو کیا جواب دوں کہ ان کے پاپا کہاں ہیں؟ سب سے چھوٹی چار سالہ بیٹی سوتی ہی ان کے پاس تھی لیکن جب سے وہ لاپتہ ہیں بیٹی سوتی ہی نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ بچوں کو یہی بتایا ہے کہ ’آپ کے پاپا سیر کے لیے گئے ہیں جلد واپس آ جائیں گے، لیکن سیر کتنی لمبی ہوتی ہے کیا کہوں کہ کب واپس آئیں گے۔ میرے شوہر سے میری بات کروا دیں، میں خود ان سے پوچھوں گی کہ ان سے ایسی کیا غلطی ہوئی؟ ہم کسی ایجنسی کو الزام نہیں دے رہے، ہمیں صرف یہ پتہ ہے کہ انہیں اٹھایا گیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’آج سے تین سال پہلے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی مخالف پارٹی تھی، ان کے ساتھ ساری تحقیقات کریں کیونکہ براہ راست ساجد کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں، ہمارے گھر کوئی داد رسی کرنے بھی نہیں آیا۔‘

دوسری جانب ساجد کی والدہ عصمت کہتی ہیں کہ جب سے ان کا بیٹا اس ادارے کے ساتھ منسلک ہوا ہے اس کو ہمیشہ پریشان ہی پایا ہے۔ ’کیوں ان کے بیٹے کو ایس ای سی پی والے پریشان کرتے ہیں؟ یہ سب ان کی وجہ سے ہی ہو رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ میرے بیٹے کو پریشان کیا۔‘ ساجد کے والد انور نے کہا کہ 'میں دل کا مریض ہوں بیٹے کی جدائی میری موت کا سبب بن سکتی ہے اگر ہائی کورٹ سے انصاف نہ ملا تو وہ سپریم کورٹ کا در کھٹکٹائیں گے۔'

سماعت کا احوال

پاکستان سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے لاپتہ جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کی بازیابی کے حوالے سے کیس کی سماعت آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔ چیف جسٹس نے کمرہ عدالت میں موجود ساجد کی والدہ کو دیکھ کر سیکرٹری داخلہ سے کہا کہ ’اس ماں کو کیا جواب دیں؟ کوشش کریں کہ کسی اور ماں کو اس طرح کے معاملے میں عدالت نہ آنا پڑے۔‘

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’اگر ہم شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کر سکتے تو ہم یہاں کیا رہے ہیں۔ پھر یہ آئینی عدالت بند کر دیں۔ ایس ای سی پی آفیشل کی بوڑھی ماں اور چھوٹے بچے یہاں موجود ہیں۔ یہ بچے کسی کے بھی ہو سکتے ہیں۔‘

کمرہ عدالت میں سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ، آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر اور چیف کمشنر اسلام آباد موجود تھے۔ اس کے علاوہ ساجد گوندل کے والدین، اہلیہ اور بچے بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران چند سوالات کیے اور کہا: ’کیا یہ عام کیس ہے؟ عدالت بنیادی حقوق کی محافظ ہے۔ دارالحکومت صرف 14 سو سکوائرمیل پر مشتمل ہے۔ سب سے بڑی آئینی عدالت بھی اسلام آباد میں ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ عدالتوں میں اسی نوعیت کی کتنی درخواستیں زیر سماعت ہیں؟‘

سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر وفاقی حکومت کے کسی وزیر کے بیٹے کے ساتھ ایسا ہو تو آپ کا رویہ کیا ہو گا؟

چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے، پولیس اور وزارت داخلہ ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں شریک ہیں۔ وزیراعظم کا وکلا تحریک میں قانون کی حکمرانی کے لیے اہم کردار تھا کیا آپ نے انہیں بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں کیا ہو رہا ہے؟ ’آپ وزیراعظم کو انفارم کریں کہ اداروں کا ریئل اسٹیٹ کاروبار کرنا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ یہ معاملہ آپ وفاقی کابینہ کے نوٹس میں بھی لائیں کہ تفتیشی افسران کی کوئی تربیت نہیں، اسلام آباد میں پراسیکیوشن برانچ ہی نہیں ہے۔ آپ بتائیں کہ اس صورتحال میں آئینی عدالت کیا کرے؟‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ کسی کو تو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ عدالت کو کوئی ایک مثال بتائیں جس میں لاپتہ شہری کو بازیاب کرایا گیا ہو؟ اس پر سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ ’آج صبح اجلاس میں تمام صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ اعلیٰ سطح پر تفتیش کی جا رہی ہے۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت تحقیقات میں مداخلت نہیں کرے گی لیکن آپ شہری کو عدالت میں پیش کرنے میں ناکام ہوئے۔ ’ہر شہری عدم تحفظ کا شکار ہے، یہ صورتحال تشویشناک ہے معلوم ہوا ہے کہ لاپتہ افراد کے کمیشن نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے۔ کیا یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے؟‘

سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایف آئی آر کاٹ کر تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پولیس کی تفتیشی ٹیم کو چیئرمین کمیشن سے پوچھنا چاہیے تھا کہ کیا ان کے پاس کوئی ذاتی معلومات ہیں؟ ’اگر پاکستان کے دارالحکومت میں قانون کی حکمرانی نہیں تو اس کا کیا مطلب ہے؟‘

سیکرٹری داخلہ نے جواب دیا کہ ریاستی اداروں کو ان کا کام کرنے دیا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو وزیراعظم پر مکمل اعتماد اور یقین ہے اس لیے ان کے نوٹس میں یہ معاملہ لے کر آئیں۔ عدالت نے 50 منٹ سماعت جاری رکھنے کے بعد 17 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان