ملکہ برطانیہ اور شہزادہ فلپ کی ملاقات کیسے ہوئی تھی؟

یہ جوڑا پہلی بار 1934 میں شہزادہ فلپ کی کزن شہزادی مرینہ کی ڈیوک آف کینٹ پرنس جارج سے شادی کے موقعے پر ملا تھا۔ اس وقت شہزادہ فلپ کی عمر 13 سال جبکہ اس وقت کی برطانوی شہزادی الزبتھ کی عمر آٹھ سال تھی۔

ملکہ الزبتھ دوم کے ساتھ 74 سال تک رفاقت نبھانے والے ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ جمعے کو انتقال کر گئے۔

یہ جوڑا پہلی بار 1934 میں شہزادہ فلپ کی کزن شہزادی مرینہ کی ڈیوک آف کینٹ پرنس جارج سے شادی کے موقعے پر ملا تھا۔

اس وقت کارفو میں پیدا ہونے والے فلپ، یونان اور ڈنمارک کے شہزادے تھے۔ اس وقت ان کی عمر 13 سال جبکہ اس وقت کی برطانوی شہزادی الزبتھ کی عمر آٹھ سال تھی۔

شاہی شادی کے بعد یہ جوڑا پانچ سال بعد یعنی 1939 میں ڈارٹ ماؤتھ رائل نیول کالج میں دوبارہ ملا۔

الزبتھ کی شاہی خادمہ ماریون کرافورڈ کے مطابق شہزادی کو فلپ کی اچھی شکل و صورت نے اپنی طرف راغب کر لیا تھا۔ کرافورڈ اپنی یاد داشت ’دی لٹل پرنسز‘ میں لکھتی ہیں کہ نوعمر الزبتھ جب جب اس خوش شکل نوجوان کو دیکھتیں تو ان کا چہرہ شرم کے مارے سرخ ہو جاتا۔

الزبتھ کی ایک اور قریبی ساتھی اور ان کی کزن مارگریٹ روڈس کو الزبتھ کی فلپ سے انسیت کا جلد ہی علم ہو گیا تھا۔ انہوں نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ ’وہ ابتدا ہی سے حقیقتاً فلپ کی محبت میں گرفتار ہوچکی تھیں۔‘

کہتے ہیں عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتا، اس طرح بظاہر شہزادہ فلپ کی جانب الزبتھ کی چاہت کا ان کے چچا لارڈ لوئس ماؤنٹ بیٹن کو بھی علم ہو گیا، جنہوں نے اپنی ڈائری میں اس جوڑے کی پہلی ملاقات کو ’ایک بڑی کامیابی‘ قرار دیا تھا۔

ابتدائی ملاقاتوں کے بعد دوسری جنگ عظیم کے دوران بحیرہ روم اور بحر الکاہل کے بیڑے میں خدمات انجام دینے والے شہزادہ فلپ اور الزبتھ کے درمیان خط و کتابت کا آغاز ہو گیا تھا۔

جب شہزادہ فلپ محاذ جنگ سے واپس لوٹے تو انہوں نے الزبتھ کے والد شاہ جارج ششم سے الزبتھ کو شادی کی پیشکش کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس جوڑے نے نو جولائی 1947 کو اپنی منگنی کا اعلان کیا۔ جوہری فلپ اینٹروبس نے منگنی کی انگوٹھی کے لیے فلپ کی والدہ شہزادی ایلس کے تاج سے لیے گئے ہیرے کو استعمال کرکے تیار کیا تھا۔

اس جوڑے کی شادی منگنی کے اعلان کے ٹھیک چار ماہ بعد یعنی 20 نومبر کو ویسٹ منسٹر ایبی میں منعقدہ ایک شاہی تقریب میں ہوئی۔

شہزادی الزبتھ شاہی خاندان کی 10 ویں رکن تھیں، جن کی ویسٹ منسٹر ایبی میں شادی منعقد ہوئی تھی۔ 2011 میں ڈیوک آف کیمبرج شہزادہ ولیم کی شادی کے لیے بھی اسی مقام کا انتخاب کیا گیا تھا۔

شادی سے پہلے ہی شہزادہ فلپ کو دو دیگر القابات کے ساتھ ڈیوک آف ایڈنبرا کے لقب سے نوازا گیا تھا۔

اس جوڑے نے اپنی شادی کی تقریب میں دو ہزار مہمانوں کو مدعو کیا تھا، جن میں کینٹربری کے آرچ بشپ جیوفری فشر اور یارک کے آرچ بشپ سیرل گربیٹ شامل تھے، جنہوں نے اس جوڑے کو شادی کے بندھن میں باندھا۔

الزبتھ کا عروسی لباس سر نارمن ہارٹنل نے ڈیزائن کیا تھا۔ فرشی گاؤن میں پھولوں اور ستاروں کی نمائش کی گئی تھی اور یہ لباس بوٹیسیلی کی ’پریمیورا‘ پینٹنگ سے متاثر تھا۔

یہ ڈچس ساٹن سے بنا ہوا تھا، جسے امریکہ سے درآمد کیے گئے 10 ہزار سچے موتیوں سے مزین کیا گیا۔ عروسی لباس کے ساتھ 15 فٹ لمبی ٹرین بھی تھی۔

اس جوڑے نے 2017 میں اپنی شادی کی 70ویں یا پلاٹینم سالگرہ منائی تھی۔ اس موقع پر ویسٹ منسٹر ایبے کی گھنٹیاں اس دن کی مناسبت سے بجائی گئی تھیں۔

بعد میں انہوں نے ونزر کیسل میں اپنے خاندان کے ارکان اور دوستوں کے ساتھ نجی ڈنر کے ساتھ جشن منایا تھا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین