جسٹس فائز عیسیٰ کیس براہِ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد

جسٹس فائز عیسیٰ نے درخواست دی تھی کہ چونکہ یہ قومی اہمیت کا معاملہ ہے اس لیے اس کیس کو ٹیلی ویژن پر براہِ راست نشر کیا جائے۔

(ٹوئٹر)

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کو براہِ راست نشر کرنے کی درخواست اکثریتی فیصلے کی بنیاد پر مسترد کر دی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظر ثانی کیس عدالتی کارروائی کی براہ راست کوریج کے معاملے پر عدالت نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا جس کے مطابق جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور ملک، جسٹس مظہر عالم خان اور جسٹس منصور علی شاہ نے اختلافی نوٹ لکھا۔

سپریم کورٹ نے مختصر حکم نامے میں کہا کہ ’آرٹیکل انیس اے کے تحت معلومات تک رسائی عوامی مفاد کا معاملہ ہے، معلومات تک رسائی کا طریقہ کار اور تفصیلات فل کورٹ اجلاس میں انتظامی سطح پر طے کیا جائے گا۔

’چاروں ججزکے اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ معلومات تک عوامی رسائی کے لیے عدلیہ سمیت تمام ریاستی اداروں پر اقدامات کرنا لازم ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ مفاد عامہ مقدمات کی عدالتی کارروائی دیکھ سکیں۔ رجسٹرار سپریم عدالتی کارروائی کی براہ راست کوریج کے لیے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر لنک فراہم کریں۔

’سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر لنک مہیا کرنے کے لیے رجسٹرار ٹیکنالوجی اور مکمل طریقہ کار کا تعین کریں۔ اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی عدالتی کارروائی اسی دن ویب سائٹ پر دستیاب ہونی چاہیے جس دن کیس کی سماعت ہو۔ جب کہ اختلافی نوٹ پر مشتمل تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔‘

جسٹس یحیی آفریدی نے کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اضافی نوٹ تحریر کیا ہے۔ جسٹس یحیی آفریدی نے اضافی نوٹ میں لکھا ہے کہ ’عوام کا آئینی حق ہے کہ عوامی مفاد کے کیسز کی نشریات دیکھ سکیں لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جو ریلیف مانگ رہے ہیں وہ ایک جج کے اٹھائے گئے حلف کے منافی ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ رجسٹرار سپریم کورٹ براہ راست نشریات کے معاملے کو فل کورٹ میٹنگ میں پیش کریں۔

حکم نامے کے مطابق تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

 

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی بینچ نے 18 مارچ کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو منگل 13 اپریل کو سنایا گیا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ دس رکنی بینچ میں سے چھ ججوں نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی درخواست مسترد کی ہے، جبکہ چار ججوں نے اختلافی نوٹ دیا ہے۔

واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے نظر ثانی کیس کی براہ راست کوریج کی درخواست دی تھی اور موقف اپنایا تھا کہ میڈیا پر کیس اس طرح رپورٹ نہیں ہوتا، جیسے عدالت میں چلتا ہے اور میڈیا دلائل کو اپنےانداز سے رپورٹ کرتا ہے۔

جسٹس فائز نے اپنے کیس میں خود دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ تمام مقدمات میں براہ راست کوریج ہو، صرف اپنے کیس کی براہ راست کوریج کی استدعا کی ہے، میں دکھانا چاہتا ہوں کہ عدالت سب کو عوامی سطح پر قابل احتساب بناتی ہے۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ معلومات تک رسائی عوام کا بنیادی حق ہے لیکن سپریم کورٹ معلومات تک کس انداز میں رسائی دے سکتی ہے، یہ انتظامی معاملہ ہے۔ جب کہ اختلافی نوٹ میں براہ راست نشریات کی استدعا منظور کی گئی ہے۔ اختلافی نوٹ کے مطابق یہ عوامی مفاد کا کیس ہے، سپریم کورٹ ویب سائٹ پر براہِ راست دکھایا جائے۔ عدالتی کارروائی کی آڈیوریکارڈنگ ویب سائٹ پر بھی ڈالی جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس قاضی فائز عیسی سماعت سے قبل ہی سپریم کورٹ کے کورٹ نمبر ون میں اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ہمراہ موجود تھے۔ فیصلہ سننے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جسٹس عمر عطا بندیال سے کہا کہ وہ فیصلہ تحریر کرنے اور اختلاف کرنے والے ججوں کے نام جاننا چاہتے ہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ فیصلہ پڑھیں گے تو آپ کو ناموں کا اندازہ ہو جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بینچ سے پوچھا کہ 27 دن بعد محفوظ فیصلہ سنایا گیا ہے، فیصلے کی تفصیلی وجوہات کب جاری ہوں گی؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے جواب دیا کہ فیصلہ سنانا ججوں کی صواب دید ہے، مختصر فیصلے کی کاپی آپ کو مل جائے گی۔

فیصلہ سنانے کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کہا کہ نظر ثانی درخواستوں پر دلائل دیں۔ جسٹس قاضی عیسیٰ نے جواب دیا کہ میں ذہنی طور پر دلائل کے لیے تیار نہیں ہوں۔ 

قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینہ عیسیٰ نے عدالت میں کہا کہ حکومتی عہدیداروں نے توہین عدالت کی، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ سرینہ عیسیٰ نے مزید کہا کہ رجسٹرار نے فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کیس کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بھی عدالت سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آئی توہین عدالت کی درخواستیں کیوں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں، یہ عدالت کی عزت و تکریم کا معاملہ ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جواباً کہا کہ آپ ذہنی طور پر دلائل کے لیے تیار ہو جائیں تو توہین عدالت کی درخواستیں بھی سماعت کے لیے مقرر ہو جائیں گی۔

عدالت نے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کر دی ہے۔ مرکزی اپیلوں پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کل دلائل دیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان