چین کی سرینا ہوٹل پر ’خودکش‘ حملے کی مذمت

چینی نے کوئٹہ کے سرینا ہوٹل پر گذشتہ رات ہونے والے ’خودکش‘ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے بم دھماکے کو خود کش حملہ قرار دیا ہے۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کی رات زرغون روڈ پر واقع سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں کُل پانچ افراد ہلاک جبکہ 13 زخمی ہوگئے تھے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ کی رات ہونے والے خود کش حملے میں 60 سے 80 کلو گرام دھماکہ خیر مواد استعمال کیا گیا تھا۔

اس موقع پر شیخ رشید نے حملے میں پانچ افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کو سکیورٹی ہائی الرٹ کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ’پاکستان کو اندر سے غیرمستحکم کرنے کی غیر ملکی کوشش جا ری ہے۔‘

دوسری جانب چین نے کوئٹہ میں ہونے والے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بن نے کہا کہ انہیں اس واقعے میں کسی چینی شہری کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران مزید بتایا کہ چینی وفد حملے کے وقت ہوٹل میں موجود نہیں تھا-

محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں حملے کو ’خود کش‘ قرار دیتے کہا کہ سکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور ہدف تک نہ پہنچ سکا۔

حکام کے مطابق دھماکے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں جبکہ سی ٹی ڈی تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف اس واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

ٹی ٹی پی کا ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے سوشل میڈیا ایپس وٹس ایپ اور ٹیلی گرام پر جاری کیے گئے بیان میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم انڈپینڈنٹ اردو اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں کرسکا۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس بلوچستان محمد طاہر رائے نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ دھماکہ ہوٹل کے پارکنگ ایریا میں ہوا، جس کی اطلاع ملتے ہی سی ٹی ڈی کے عملے نے جائے وقوع پر پہنچ کر اسے سیل کردیا۔

آئی جی نے مزید بتایا کہ ’دھماکے کی شدت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے اور ماہرین تفتیش میں مصروف ہیں، فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔‘ دھماکے کے نتیجے میں پانچ سے چھ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

دوسری جانب بلوچستان پولیس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’یہ خودکش دھماکہ ہو سکتا ہے۔ بم کو گاڑی میں نصب کیا گیا تھا اور چونکہ حملہ آور ہوٹل میں داخل نہیں ہوسکا لہٰذا اس نے پارکنگ میں ہی دھماکہ کر دیا۔‘

سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان وسیم بیگ نے واقعے میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ ہسپتال میں 13 زخمی لائے گئے، جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔

دوسری جانب سول ہسپتال اور کوئٹہ کے دیگر ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

چینی سفیر ہوٹل میں موجود نہیں تھے

یاد رہے کہ سرینا ہوٹل کے قریب بلوچستان ہائی کورٹ اور بلوچستان اسمبلی کی عمارت بھی واقع ہے اور یہ کوئٹہ کا واحد ہوٹل ہے جہاں ملکی اور غیر ملکی وی آئی پیز بھی آتے ہیں۔

دھماکے کے بعد خبریں گردش کرنے لگیں کہ شاید پاکستان میں تعینات چینی سفیر بھی اس وقت ہوٹل میں موجود تھے۔

تاہم وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نجی نیوز چینل سے گفتگو میں تصدیق کی کہ چینی سفیر اس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے، تاہم وہ دھماکے کے وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

ٹوئٹر پر بعض صارفین کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں جائے وقوع پر آگ لگی ہوئی دیکھی جاسکتی ہے۔

حکومتی رہنماؤں کی جانب سے دھماکے کی مذمت

وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔

وزیراعلیٰ نے دھماکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ  اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیراعلی جام کمال نے سکیورٹی فورسز کو سکیورٹی کے فول پروف اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پوری قوم متحد ہے۔‘

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ ‏وفاقی وزارت داخلہ حکومت بلوچستان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور ابتدائی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ جیسے ہی دھماکے کی نوعیت اور نقصانات کا تعین ہوگا، حکومت بیان جاری کرے گی۔

یہ کوئی پہلا دھماکہ نہیں!

کوئٹہ اس سے پہلے بھی کئی بار دہشت گردی اور بم دھماکوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

  • بدترین دھماکوں میں سے ایک اگست 2016 کو ایک ہسپتال میں ہوا جس میں 70 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔ 
  • ستمبر 2010 میں یوم القدس کے جلسے میں ہونے والے دھماکے میں 73 افراد ہلاک اور 160 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ 
  • دو مارچ 2004  کو عاشورہ کے موقع پر ہونے والے بم دھماکے میں 42 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
  • اگست 2013 میں ایک پولیس افسر کی نماز جنازہ میں ہونے والے خود کش حملے میں 31 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
  • دسمبر 2017 میں کرسمس کے موقع پر کوئٹہ کے ایک چرچ میں خودکش دھماکے میں نو مسیحی ہلاک ہو گئے تھے۔
  • اس کے علاوہ کوئٹہ کے ہزارہ ٹاؤن کو بھی کئی بار نشانہ بنایا گیا ہے۔
  • 16 فروری 2013 کو ایک واٹر ٹینک میں نصب بم سے 91 افراد ہلاک اور 190 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان