’امن کے سفیر‘ مولانا وحید الدین کے انتقال پر تعزیت کا سلسلہ جاری

دو سو سے زیادہ کتابوں کے مصنف مولانا وحید کا شمار ان علما میں ہوتا تھا جو دینی علوم کے علاوہ سائنس اور انگریزی سمیت دوسرے مغربی علوم پر بھی عبور رکھتے تھے۔

مولانا وحید نے تین زبانوں میں دو سو سے زائد کتابیں لکھیں (Goodword1~commonswiki: CC BY-SA 3.0)

معروف عالمِ دین مولانا وحید الدین خاں کا 96 برس کی عمر میں نئی دہلی میں انتقال ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ کرونا (کورونا) کی بیماری کے باعث ہسپتال میں داخل تھے۔

مولانا وحید کو ڈیمرگس پیس پرائز، پدم وبھوشن، نیشنل سٹیزن ایوارڈ اور دیگر کئی اعزازات سے نوازا گیا۔

مولانا کی تعلیمات کا ایک جزو جسے خاص طور پر شہرت ملی وہ عدم تشدد کا نظریہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں صرف دفاعی جہاد کی اجازت ہے، اقدامی جہاد و قتال منسوخ ہو چکا ہے۔

تاہم بعض طبقوں کی جانب سے اس سلسلے میں انہیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ 200 سے زیادہ کتابوں کے مصنف تھے، جن میں اردو، عربی اور انگریزی کتب شامل ہیں۔

مولانا وحید کا شمار ان گنے چنے علما میں ہوتا ہے جو دینی علوم کے علاوہ سائنس اور انگریزی سمیت دوسرے مغربی علوم پر بھی عبور رکھتے تھے۔

ان کے بنیادی موضوعات میں تقابلِ ادیان، سیکیولرزم، الحاد وغیرہ شامل ہیں۔ وہ ’الرسالہ‘ نامی ایک رسالے کے مدیر تھے اور انہوں نے انگریزی میں قرآن کا ترجمہ بھی کیا۔

مولانا وحید یکم جنوری، 1925 کو اترپردیش کے قصبے اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ایک مقامی مدرسے سے حاصل کی، لیکن دینی تعلیم پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ انگریزی، سائنس اور دیگر مغربی علوم سے بھی استفادہ کیا۔

1955 میں ان کی کتاب ’نئے عہد کے دروازے پر‘ شائع ہوئی جس سے لوگوں کو علم ہوا کہ ایک نیا دینی عالم میدان میں آ گیا ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد اردو ایڈیشنز کے علاوہ اس کا عربی میں بھی ترجمہ ہوا اور یہ کئی عرب جامعات کے نصاب میں شامل ہے۔

1949 میں مولانا وحید مولانا ابوالاعلی مودودی سے متاثر ہو کر جماعتِ اسلامی ہند میں شامل ہو گئے۔ تاہم کچھ برسوں کے بعد انہیں اس جماعت کے تصورِ دین میں بنیادی خامیاں نظر آنے لگیں۔

اس کا اظہار انہوں نے ’تعبیر کی غلطی‘ نامی کتاب لکھ کر کیا۔ اس کتاب میں کہیں کہیں جماعتِ اسلامی اور اس کے بانی کے بارے میں سخت زبان استعمال کی گئی، جس کا جماعتِ اسلامی کی طرف سے شدت پر مبنی جواب دیا گیا اور یہ سلسلہ برسوں تک چلتا رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد مولانا وحید کئی برس تک تبلیغی جماعت کا حصہ رہے۔ تاہم 1975 میں انہوں نے انفرادی حیثیت میں دعوتی و علمی کام شروع کر دیا۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مولانا وحید کا فکری سفر کئی ارتقائی منازل سے گزرا اور انہوں نے کسی ایک مقام پر ٹھہرنے پر اکتفا نہیں کیا۔

ان کے انتقال پر سوشل میڈیا پر تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور لوگ انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

ٹوئٹر پر علی حماد سندھو نے لکھا: ’ہم ایک ایسے شخص سے محروم ہو گئے جو دہشت گرد تنظیموں القاعدہ اور داعش کی جانب سے سیاسی اسلام کے خلاف تھے۔ وہ امن اور محبت کے سفیر تھے۔ یہ اسلامی دنیا کے لیے بڑا نقصان ہے۔‘

ایڈووکیٹ حیدر سید نے فیس بک پر لکھا: ’انہوں نے اسلام، اور دیگر مذاہب کے مابین پرامن بقائے باہمی، سیکولرازم، الحاد اور پند و نصائح کے عنوان  سے سینکڑوں کتابیں لکھی ہیں۔ مولانا جیسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔ ایک مصلح اور ایک عالم باعمل کی حیثیت سے ان کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا