ریٹائرڈ کرنل نے مولانا مودودی کے بیٹے کے ساتھ کیسے فراڈ کیا؟

وزیراعظم پورٹل پر تین بار شکایت کرنے کے بعد لاہور پولیس نے فراڈ میں ملوث لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ یونس جاوید کی گرفتاری کے لیے تین رکنی ٹیم بنا دی لیکن تاحال اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

ممتاز مذہبی سکالر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے صاحبزادے خالد فاروق مودودی ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کی جانب سے کیے گئے مالی فراڈ کے ایک واقعے میں 20 سال سے انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ رواں برس وزیراعظم پورٹل پر تین بار شکایت کرنے کے بعد لاہور پولیس نے معاملہ فعال کرکے فراڈ میں ملوث فوجی افسر کی گرفتاری کے لیے تین رکنی ٹیم بنا دی لیکن تاحال اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

خالد فاروق مودودی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اس واقعے کی تفصیل بتائی، جس کے مطابق انہوں نے 2000 میں سنی ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ یونس جاوید سے سات کنال چودہ مرلے کے چھ پلاٹ خریدے تھے۔

خالد فاروق مودودی کے مطابق: 'لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ یونس جاوید نے اپنی سوسائٹی کے پلاٹ اس معاہدے کے ساتھ فروخت کیے کہ جلد ہی یہ سوسائٹی ڈی ایچ اے میں شامل ہو جائے گی تو پھر ان پلاٹوں کی فائلز بنا کر دے دوں گا۔'

خالد فاروق مودودی نے بتایا کہ بعد ازاں کرنل یونس جاوید نے ڈی ایچ اے لاہور کو اپنی سوسائٹی بیچ دی اور اس میں وہ پلاٹ بھی شامل تھے جن کی وہ ادائیگی کر چکے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام اصلی دستاویزات ان کے پاس موجود ہیں، لیکن نہ تو انہیں ان کے چھ پلاٹوں کی رقم واپس ملی اور نہ ہی پلاٹ ملے۔

خالد فاروق مودودی نے مزید بتایا کہ انہوں نے ڈی ایچ  اے انتظامیہ کو اس فراڈ کے بارے میں آگاہ کیا اور استدعا کی کہ ان چھ پلاٹوں کی رقم کرنل یونس جاوید کے بجائے انہیں ادا کی جائے کیونکہ وہ اصل مالک ہیں اور تمام دستاویزات کے ساتھ حق محفوظ رکھتے ہیں۔ لیکن انہیں جواب ملا کہ 'یہ معاملہ آپ کے اور کرنل یونس کے درمیان ہے اور وہ اس میں فریق نہیں ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خالد فاروق مودودی نے مزید بتایا کہ انہوں نے جب اس وقت کے کور کمانڈر لاہور جنرل شاہد عزیز، جو بعد میں نیب کے سربراہ بھی رہے، سے ملاقات کے دوران انہیں اس معاملے سے آگاہ کیا تو انہوں نے کرنل یونس جاوید کو سختی سے حکم دیا کہ وہ مولانا مودودی صاحب کے صاحبزادے خالد فاروق مودودی کی رقم فی الفور واپس کریں۔

خالد فاروق مودودی کے مطابق: 'جنرل شاہد عزیز کے سامنے کرنل جاوید نے رقم لوٹانے کا وعدہ کرلیا اور دو بعد از تاریخ چیک دیے لیکن وہ باؤنس ہو گئے اور انہیں ایک کروڑ 85 لاکھ روپے کی رقم نہ مل سکی۔'

اس فراڈ پر خالد فاروق مودودی نے 2005 میں لاہور کے تھانہ فیکٹری ایریا میں ایف آئی آر درج کرائی جبکہ 2007 میں عدالت میں فراڈ کا مقدمہ بھی درج کرایا۔

چار سال بعد 2009 میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج خواجہ محمد ظفر اقبال نے خالد فاروق مودودی کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ 'دستاویزات کی تناظر میں یہ کیس لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ یونس جاوید کے خلاف ثابت ہو چکا لہذا عدالت انہیں ایک کروڑ 85 لاکھ روپے کی رقم واپس کرنے کاحکم جاری کرتی ہے۔'

عدالتی فیصلے کی نقول


اس عدالتی فیصلے کو 11 برس گزر گئے لیکن اس پر عملدر آمد نہ ہوسکا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول دستاویزات کے مطابق خالد فاروق مودودی نے 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی خط لکھا لیکن کوئی سنوائی نہ ہوئی۔

گذشتہ برس جون میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بھی ایک خط لکھا گیا، جس میں خالد فاروق مودودی نے موقف اپنایا کہ 'فوج کا ادارہ احتساب کے لیے مشہور ہے۔ چاہے حاضر سروس افسر ہوں یا ریٹائرڈ، فوج احتساب ضرور کرتی ہے۔ اسی امید کے ساتھ آرمی چیف سے درخواست کی جارہی ہے کہ ریٹائرڈ لیفٹینیٹ کرنل یونس جاوید کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے اور سائل کی سنوائی کرتے ہوئے ان کی رقم واپس دلوائی جائے۔'

خالد فاروق مودودی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں آرمی چیف سے امید ہے کہ وہ اس معاملے پر ضرور نوٹس لیں گے اور انہیں انصاف دلوائیں گے۔

پولیس کیا کہتی ہے؟

لاہور میں تھانہ فیکٹری ایریا کی پولیس نے 2005 میں ضابطہ فوجداری  154 کے تحت لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ یونس جاوید کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کیا۔

لاہور پولیس حکام سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے رابطہ کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ 'کرنل یونس جاوید پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے، لیکن وہ گرفتار نہیں ہوئے۔ پولیس ان کو اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ گذشتہ دور حکومت میں شہباز شریف کے حکم پر ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا گیا لیکن ان کا اثر و رسوخ ہونے کے باعث گرفتاری ممکن نہ ہو سکی۔'

رواں برس عوامی شکایات کے اندراج کے لیے بنائے گئے وزیراعظم پورٹل پر تین مرتبہ فاروق مودودی کی جانب سے شکایت درج کی گئی جس کے بعد آئی جی پنجاب نے معاملہ ڈی آئی جی کو بھجوا دیا جبکہ ڈی آئی جی نے یہ درخواست کارروائی کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن لاہور کینٹ کو بھجوا دی۔

ایس پی انویسٹی گیشن نے گذشتہ ماہ جون میں مقدمے کا چالان بنا کر مجرم کو پکڑنے کے لیے انسپکٹر طاہر جاوید کی سربراہی میں تین رکنی ٹیم تشکیل دے دی لیکن تاحال پولیس بھی اس معاملے پر کچھ نہیں کرسکی ہے۔

اس معاملے پر موقف لینے کے لیے لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ یونس جاوید سے متعدد بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے پیغامات موصول ہونے کے باوجود اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان