مشرقی بیت المقدس میں جھڑپیں، 120 زخمی، 50 سے زائد گرفتار

دو الگ مقامات پر ہونے والے جھڑپوں میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو رمضان میں عائد پابندیوں پر احتجاج کرتے فلسطینیوں اور عرب مخالف مظاہرہ کرنے والے شدت پسند یہودیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 

بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کےاحاطے میں فلسطینی مسلمان رمضان کے دوسرے جمعے کی نماز ادا کرتے ہوئے (اے ایف پی)

مقبوضہ بیت المقدس میں گذشتہ رات ہونے والی جھڑپوں میں 120 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ اسرائیلی پولیس نے 50 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق گذشتہ رات بیت المقدسمیں ہونے والے جھڑپوں کے بعد اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے 50 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ جھڑپوں میں 20 اسرائیلی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ گرفتار ہونے والے افراد کو جمعے کی صبح ریمارنڈ کے لیے عدالت میں پیش کر دیا گیا۔ 

دو الگ مقامات پر ہونے والے جھڑپوں میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کو رمضان میں عائد پابندیوں پر احتجاج کرتے فلسطینیوں اور عرب مخالف مظاہرہ کرنے والے شدت پسند یہودیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 

حالیہ دنوں میں مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری نماز جمعہ کے سلسلے میں بڑھتی ہوئی سکیورٹی کی وجہ سے حالات کی مزید خرابی کے خدشے کا شکار ہیں۔ 

رمضان کے مہینے کے آغاز سے ہی فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان روزانہ رات کو جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ رات ہونے والی ان جھڑپوں میں سو سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جبکہ 20 اسرائیلی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ 

فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق ان کے پاس 105 زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے 20 کو ہسپتال میں داخل کر لیا گیا ہے۔

جبکہ اسرائیلی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے 20 پولیس اہلکاروں میں سے تین کو ہسپتال لے جایا گیا۔ 

جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی جب پولیس نے شہر کے قدیم باب دمشق کے باہر رکاوٹیں لگا کر اسے بند کر دیا۔ اس مقام پر مسلمان روایتی طور پر شام میں افطاری کے بعد اکٹھے ہوتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعرات کی رات سینکڑوں فلسیطینیوں نے اسرائیلی پولیس پر پتھروں اور بوتلوں سے حملہ کیا جس کے جواب میں پولیس نے پولیس نے پانی توپ اور سٹن گرنیڈز کا استعمال کر کے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ جس کے دوران درجنوں فلسطینی زخمی ہو گئے۔ 

دوسری جانب لاہاوا نامی شدت پسند یہودی گروہ کی قیادت میں سینکڑوں مظاہرین کے نے باب دمشق کی جانب مارچ شروع کر دیا جو 'عربو نکل جاؤ' کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس گروہ نے یہ مظاہرہ ٹک ٹاک کی ان ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد کیا تھا جن میں فلسطینیوں کو یہودی کو بلاوجہ تھپڑ مارتے دیکھا جا سکتا تھا۔ جس کے جواب میں بنائی جانے والی ویڈیوز میں یہودیوں کو عربوں پر تشدد کرتے دیکھا گیا۔  

پولیس نے دھاتی رکاوٹیں لگا کر دائیں بازو کے اس گروہ کو روکنے کی کوشش کی جس کے بعد ان پر بھی پانی کی توپ اور سٹن گرنیڈز استعمال کیے گئے۔ پولیس کے گھڑ سواروں نے ان افراد کو مقبوضہ بیت المقدس کے مغربی حصے کی جانب واپس دھکیل دیا۔ 

آن لائن موجود ویڈیوز میں شہر کے کئی اور حصوں میں بھی اسی قسم کی چھوٹی جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔ پولیس کے بیان میں گرفتار ہونے افراد کے فلسطینی یا اسرائیلی ہونے کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ 

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ رات ہونے والی ان جھڑپوں میں سو سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جبکہ 20 اسرائیلی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ 

فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے مطابق ان کے پاس 105 زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے 20 کو ہسپتال میں داخل کر لیا گیا ہے۔

جبکہ اسرائیلی پولیس کے مطابق زخمی ہونے والے 20 پولیس اہلکاروں میں سے تین کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا