زمبابوے کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز میں جیت، سہرا رضوان کے سر

زمبابوے کے ابتدائی بلے بازوں نے پاکستان کے دیے گئے ہدف 166 رنز کے جواب میں عمدہ بیٹنگ کی مگر مڈل آرڈر میں تجربہ کار بلےباز رنز کی رفتار برقرار نہ رکھ سکے۔

(اے ایف پی)

زمبابوے کے خلاف  ٹی ٹوینٹی سیریز میں فتح کا سہرا محمد رضوان کے سر رہا جنھوں نے آج بھی شاندار اننگز کھیلی۔

تیسرے اور آخری ٹی ٹونٹی میچ میں زمبابوے کے نوجوان کھلاڑیوں مورامانی اور ویسلے کی شاندار جوابی بیٹنگ کے باوجود پاکستانی بولرز 165رنز کے مجموعے کا دفاع کرنے میں کامیاب رہے اور  زمبابوے کو 24  رنز سے ہرا کر سیریز 1-2 سے جیت لی۔

زمبابوے کے ابتدائی بلے بازوں نے پاکستان کے دیے گئے ہدف 166 رنز کے جواب میں عمدہ بیٹنگ کی مگر مڈل آرڈر میں تجربہ کار بلےباز رنز کی رفتار برقرار نہ رکھ سکے۔

نوجوان ویسلے مہادیویرے نے 59 اور مورامانی نے 35 رنز کی اننگز کھیلی اور دوسری وکٹ کی شراکت میں 65 رنز بناکر زمبابوے کی امیدیں بڑھا دی تھیں لیکن ان دونوں کے آوٹ ہونے کے بعد کوئی اور بلے باز ہدف تک نہ پہنچاسکا۔

20ویں اوور کے اختتام پر زمبابوے 7 وکٹ کھوکر 141 رنز بناسکا۔

پاکستانی بولرز نے اننگز کے اختتامی اوورز میں عمدہ بولنگ کی محمد حسنین اور حسن علی نے پے درپے وار کرکے میزبان ٹیم کے 4 کھلاڑی آؤٹ کردیے۔

پاکستان کی طرف سے حسن علی نے عمدہ بولنگ کی اور 18 رنز دے کر 4 وکٹ لیے۔

پاکستان کی بیٹنگ کی خاص بات محمد رضوان کی ایک اور شاندار اننگز تھی انھوں نے آج بھی پاکستان کے 165 رنز کے مجموعہ میں91 رنز کا حصہ ڈالا جس سے ان کی کارکردگی میں تسلسل کا عنصر مزید مضبوط ہوگیا۔ 

رضوان نے اپنی اننگز میں 5 چوکے اور 3 چھکے لگائے لیکن ہر گیند ہر ایک یا دو رنز لے کر انھوں نے زمبابوے کے کسی بھی بولر کو سیٹ نہیں ہونے دیا، یہی ان کی شاندار اننگزکا راز تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بابر اعظم کے ساتھ 126 رنز کی پارٹنرشپ نے ایک بار پھر پاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

بابر اعظم بھی بہت اچھا کھیلے اور 52 رنز بنائے۔

بابر نے اپنے اس 54ویں  میچ میں اپنے 2000 رنز مکمل کرکے ویرات کوہلی کا 60 میچوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔

پاکستان نے آج تین تبدیلیاں کیں، شرجیل خان سرفراز احمد اور حسن علی کو آصف علی دانش عزیز اور ارشد اقبال کی جگہ شامل کیا، شرجیل خان نے 18 رنز بنائے ۔

پاکستان نے اس سیریز میں جیت کے بعد اعتماد میں پڑنے والی  اس دراڑ کو کافی پر کردیا ہے جو دوسرے میچ میں شرمناک شکست کےبعد پڑی تھی۔

پاکستان کی بیٹنگ اور بولنگ نے آج اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور ایک ورلڈ کلاس ٹیم ہونے کا ثبوت دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ