آسکرز: بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ پہلی بار ایک ایشیائی خاتون کے نام

کلوئی ژاؤ آسکرز کی تاریخ میں وہ دوسری خاتون ہیں جنہوں نے بہترین ہیدایت کار کا ایوارڈ جیتا ہے اور پہلی ایشیائی خاتون۔

چین میں پیدا ہونے والی کلوئی زاؤ نے امریکہ میں کالج اور فلم سکول میں تعلیم حاصل کی ہے (اے ایف پی)

فلمی دنیا کے معروف اکیڈمی ایوارڈز 2021 میں بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ جیت کر تاریخ رقم کرنے والی کلوئی ژاؤ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی خاتون بن گئی ہیں۔ 

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آسکرز کی تاریخ میں وہ دوسری خاتون ہیں جنہوں نے بہترین ڈائریکٹر کا ایوارڈ جیتا اور پہلی ایشیائی خاتون ہیں۔

انہوں نے ایوارڈ فلم ’نومیڈ لینڈ‘ کی ہدایت کاری کے لیے یہ ایوارڈ جیتا۔

ان سے پہلے کسی خاتون کو بہترین یدایت کار کا ایوارڈ 2009 میں کیتھرین بیگلو کو فلم ’دا ہرٹ لوکر‘ کے لیے ملا تھا۔

آسکرز کی 93 سالہ تاریخ میں 2021 پہلا سال ہے جب دو خواتین کو اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔

ان خواتین میں ژاؤ اور فلم ’پرومسنگ ینگ وومن‘ کی یدایت کار ایمرالڈ فینل شامل ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر سات خواتین کو ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جا چکا ہے۔

 

’نومیڈ لینڈ‘ کی کہانی ایک 60 سال سے زائد عمر کی خاتون اور جدید امریکہ میں غیرمستقل کارکنوں کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کو مجموعی طور پر چھ ایوارڈز کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔

ایواڈ وصول کرتے ہوئے بالوں میں چٹیا اور ٹینس جوتے پہنے ژاؤ نے فلم کے تمام اداکاروں اور عملے کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا: ’یہ ہر اس شخص کے لیے ہے جس کے اندر اپنی اور دوسروں کی خوبیوں پر بھروسہ کرنے اور ان پر قائم رہنے کا حوصلہ ہو، چاہے ایسا کرنا کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پیدا ہونے والی کلوئی ژاؤ نے امریکہ میں کالج اور فلم سکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ ہدایت کار کی حیثیت سے ’نومیڈ لینڈ‘ ان کی تیسری فلم ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اتوار کو بہترین اداکار کا آسکر ایوارڈ برطانوی اداکار اینتھنی ہاپکنز کے حصے میں آیا۔

یہ اپ سیٹ کامیابی ہے کیونکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ ایوارڈ آنجہانی امریکی اداکار چیڈوک بوزمین کو ملے گا۔ 83 سالہ ہاپکنز نے اپنے کیریئر کا یہ دوسرا ایوارڈ جیتا ہے۔

انہیں یہ ایوارڈ ’دا فادر‘ نامی فلم میں دل کو چھو لینے والی اداکاری پر دیا گیا۔ اس فلم کی کہانی ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جنہیں بھول جانے کا مرض لاحق ہے۔

انعام وصول کرنے کے لیے ہاپکنز تقریب میں موجود نہیں تھے۔ اس بار وہ اکیڈمی ایوارڈ جیتنے والے سب سے زائد عمر اداکار ہیں۔

اداکاری کے میدان میں ہاپکنز کا کیریئر 60 سال پر محیط ہے۔ وہ ٹیلی ویژن اور سٹیج پر کام کر چکے ہیں۔

انہیں 1991 کی تھرلر ’دا سائلنس آف دا لیمبز‘ میں بہترین صلاحیتوں کے مالک لیکن سرپھرے قاتل ہنیبل لیکٹر کا کردار ادا کرنے پر بہترین اداکار کے طور پر جانا جاتا ہے۔

اس کردار پر انہیں پہلا آسکر ایوارڈ دیا گیا تھا۔

رواں سال بہترین فلم کے لیے اکیڈمی ایوارڈ بھی ’نومیڈ لینڈ‘ کے حصے میں آیا۔

فلم میں ہیروئن کے طور پر بہترین اداکاری پر یہ ایوارڈ فرانسس میکڈورمنڈ کو دیا گیا۔

بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ 73 سالہ یون یوجنگ نے جیتا۔ انہیں یہ ایوارڈ ترک وطن کرنے والوں پر فلم ’مناری‘ میں الٹی کھوپڑی کی مالک دادی اماں کے کردار پر دیا گیا۔

جبکہ بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ڈینیئل کلووا کو فلم ’جوڈاس اینڈ دا بلیک مسایا‘ کے لیے ملا۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم