پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعے کو کہا ہے کہ بلوچستان کے علاقے خاران میں عسکریت پسندوں نے سٹی پولیس سٹیشن، نیشنل بینک اور حبیب بینک پر متعدد ’دہشت گردانہ کاروائیاں‘ کیں اور 34 لاکھ روپے لوٹ لیے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 15 جنوری 2026 کو ضلع خاران کے شہر خاران میں ’تقریباً 15 سے 20 انڈین حمایت یافتہ دہشت گردوں نے متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیں۔‘
بیان کے مطابق ’سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں سے مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں وہ پسپا ہو گئے۔‘
پاکستان فوج کے مطابق بعد میں کلیئرنس آپریشن کے دوران تین مختلف جھڑپوں میں 12 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ ’پولیس سٹیشن میں یرغمال بنانے کا منصوبہ بھی ناکام بنا دیا گیا ہے۔‘
اس حوالے سے جمعے ہی کو کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’خاران شہر میں 20 کے دہشت گرد مختلف راستوں سے داخل ہوئے جن کا مقصد بینکوں کو لوٹنا تھا۔‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ \بلوچ نوجوانوں کو پروپیگنڈہ ڈول کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے اور دہشت گرد بلوچ لوگوں کے پیسے لوٹنے کے لیے خاران میں داخل ہوئے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’دہشت گرد نیشنل بینک آف پاکستان سے 34 لاکھ روپے لے کر گئے۔‘
انہوں نے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے بارے میں بتایا کہ گذشتہ سال 900 عسکریت پسند مارے گئے۔
ساتھ ہی انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہیں۔‘
اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان فوج کے ترجمان لفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ایک میڈیا بریفنگ میں بتایا تھا کہ 2025 میں عسکریت پسندوں کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر 75,175 آپریشنز کیے گئے جن میں ان کے بقول 2597 ’دہشت گرد‘ مارے گئے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ ’سال 2025 میں ملک میں ’دہشت گردی‘ کے 5397 واقعات ہوئے جن میں سب سے زیادہ 71 فیصد خیبر پختونخوا جبکہ 29 فیصد واقعات بلوچستان میں ہوئے جن میں 1235 افراد جان سے گئے جن میں سویلین اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل تھے۔‘