کیا زمبابوے ٹیسٹ سیریز میں بھی سخت حریف ثابت ہوگا؟

پاکستان ٹیم نے گذشتہ ایک سال میں زیادہ تر کرکٹ کمزور ٹیموں کے خلاف کھیلی ہے۔ صرف نیوزی لینڈ کا دورہ ایک مشکل دورہ تھا لیکن اس کی شکست کا ذکر ہی نہیں ہے کیونکہ کیویز اپنے ملک میں ہمیشہ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔

24 فروری 2020 کو ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں زمبابوے کے کھلاڑی حریف بیٹس مین کو آؤٹ کرنے کے بعد (اے ایف پی)

آئی سی سی رینکنگ میں 12ویں پوزیشن کی ٹیم جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے بھی کوالیفائی نہ کرسکی ہو اور انٹرنیشنل کرکٹ بھی نچلے درجے کی ٹیموں کے ساتھ کھیلتی ہو اس سے اگر پاکستان کی مضبوط ٹیم کو سخت مقابلہ کرنا پڑے تو انگلیاں پاکستان ٹیم پر ہی اٹھتی ہیں جس میں ورلڈ نمبر ون بلے باز بابر اعظم ہوں اور بقیہ ٹیم بھی ورلڈ کلاس کھلاڑیوں پر مشتمل ہو۔

پاکستان ٹیم نے گذشتہ ایک سال میں زیادہ تر کرکٹ کمزور ٹیموں کے خلاف کھیلی ہے۔ صرف نیوزی لینڈ کا دورہ ایک مشکل دورہ تھا لیکن اس کی شکست کا ذکر ہی نہیں ہے کیونکہ کیویز اپنے ملک میں ہمیشہ بہت خطرناک ہوتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کی بی کلاس ٹیم سے جیت پر نازاں پاکستانی ٹیم بھول گئی کہ کرکٹ کسی کتاب میں لکھے ہوئے سبق کی طرح نہیں بلکہ ہر لمحہ بدلتی ہوئی صورت حال کا نام ہے جس میں ذرا سی غفلت اور لاپرواہی مخالف کمزور حریف کو بھی شیر بنا دیتی ہے۔

زمبابوے کی کمزور ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی سیریز میں سخت مقابلہ کیا اور پاکستانیوں کے دانت کھٹے کردیے۔ کئی بار تو سیریز ہاتھ سے جاتی نظر آئی لیکن آخر میں تجربہ جیت گیا اور جوش ہار گیا۔

اب پاکستان کو سرخ گیند کی جنگ لڑنی ہے۔

زمبابوے ماضی میں ایک مضبوط ٹیم ہوا کرتی تھی اور بڑی بڑی ٹیموں کو سر کرچکی ہے لیکن اب ٹیم میں ایک دو کھلاڑیوں کے علاوہ کوئی قابل ذکر کھلاڑی نہیں ہے۔ 

برینڈن ٹیلر اور کپتان شان ولیمز عمر رسیدہ ہو رہے ہیں جبکہ بیٹنگ میں بھی کوئی خاص بلے باز نہیں ہے۔

ویسلے مدھاویرے نے ٹی ٹوئنٹی میں اچھی بیٹنگ کی جس سے ان سے امیدیں وابستہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چھوٹی ٹیموں سے مسلسل کھیلنے کے باعث زمبابوے کا تجربہ بھی اس ہی نوعیت کا ہے اور پاکستان کے خلاف کمزوریاں کھل کر سامنے آجائیں گی۔

زمبابوے کی اصل طاقت ان کی بولنگ ہے۔ فاسٹ بولر مزربانی سے میزبان ٹیم کو سب سے زیادہ امیدیں ہیں، انہیں زمبابوے کا ربادا کہاجاتا ہے۔ طویل قامت مزربانی نے افغانستان کے خلاف سیریز میں عمدہ بولنگ کی تھی اور پہلے ٹیسٹ کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے علاوہ بقیہ بولنگ واجبی سی ہے اور ایک اچھے سپنر کی سخت قلت ہے۔

پاکستان ٹیم کیا ہوگی

پاکستان ٹیم آخری مرتبہ 2013 میں زمبابوے سے ہرارے کلب گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ ہاری تھی۔ اس وقت کپتان مصباح الحق تھے اور آج وہ کوچ ہیں، اس شکست  کی کسک تو آج بھی ہوگی لیکن موجودہ ٹیم کے ہار جانے کا خوف بھی ہوگا کیونکہ ٹیم میں محمد رضوان اور بابراعظم کے سوا کسی کی کارکردگی میں تسلسل نہیں ہے۔


اوپنر عمران بٹ اور عابد علی ہوں گے۔ دونوں مسلسل ناکام ہو رہے ہیں لیکن مصباح شاید ابھی مزید موقع دینا چاہتے ہیں۔ ون ڈاؤن اظہر علی ہوں گے جبکہ بابر اعظم چوتھے اور فواد عالم پانچویں نمبر پر کھیلیں گے۔

محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، شاہین شاہ آفریدی اور نعمان علی تو یقینی طور پر ہوں گے تاہم گیارھویں کھلاڑی کے لیے زاہد محمود اور حارث رؤف میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

ویسے زمبابوے کی کمزور بیٹنگ کو دیکھتے ہوئے سعود شکیل کو ٹیسٹ کیپ بھی دی جاسکتی ہے جس سے بیٹنگ مزید مضبوط ہو جائے گی۔

پچ کیسی ہوگی

ہرارے کلب کے گراؤنڈ میں پانچ پچز ہیں جن میں سے دو پر باؤنس ہمیشہ دوہرا ہوتا ہے اگر ان میں سے کسی ایک پچ پر ٹیسٹ کھیلا گیا تو پاکستان کے لیے مشکلات ہوسکتی ہیں۔ توقع یہ ہے کہ زمبابوے کسی ایسی ہی ایک پچ کا انتخاب کرے گا۔

جمعرات سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ میں کس کا پلڑہ بھاری رہے گا یہ تو آنے والا وقت بتائے گا لیکن کمزور ٹیم بھی مخالف ٹیم کی غلطیاں دیکھ کر طاقتور حریف کو چاروں شانے چت کر سکتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ