کراچی ضمنی الیکشن: تحریک لبیک پابندی کے باوجود ’تیسرے نمبر‘ پر

قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 پر ہونے والے ضمنی الیکشن کے سرکاری نتائج کے مطابق پی پی پی پہلے، ن لیگ دوسرے جبکہ کالعدم ٹی ایل پی تیسرے نمبر پر رہی۔

رواں ماہ ہی تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دیا گیا تھا (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 249 پر جمعرات کو ہونے والے ضمنی الیکشن کے 276 پولنگ سٹیشنز کے سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل کامیاب ہو گئے۔   

الیکشن کمیشن کے فارم 47 کے تحت مرتب کردہ نتائج کے مطابق قادرخان مندوخیل 16156 ووٹ لے کر پہلے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل 15473 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

اسی طرح کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے نذیر احمد 11125 ووٹ لے کر تیسرے، پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے مصطفیٰ کمال 9227 ووٹ لے کر چوتھے، وفاق میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امجد آفریدی 8922 ووٹ لے کر  پانچویں جبکہ ایم کیوایم کے حافظ محمد مرسلین 7511 ووٹ لے کر چھٹے نمبر پر رہے۔ 

پاکستان میں رواں ماہ پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت نے مذہبی و سیاسی جماعت ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

تاہم اس ضمنی الیکشن میں نہ صرف اس جماعت کے امید وار نے حصہ لیا بلکہ وہ غیر حتمی نتائج کے مطابق تیسرے نمبر پر رہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعت کے طور پر تحلیل ہونے تک تحریک لبیک انتخابات میں حصہ لے سکتی ہے۔

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے اپریل میں وزارت داخلہ کی ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دینے کی تجویز کی منظوری دی تھی۔

اسی طرح یہ اعلان بھی کیا گیا تھا کہ حکومت پاکستان سپریم کورٹ میں اس جماعت کو تحلیل کرنے کی درخواست دائر کرے گی۔

’عرب نیوز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق قانونی طور پر کسی بھی جماعت پر پابندی عائد کرنے کے بعد حکومت کو یہ معاملہ 15 دن کے اندر سپریم کورٹ میں لے جانا ہوتا ہے جہاں اس پابندی کی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔

اگر سپریم کورٹ حکومتی پابندی کو برقرار رکھتی ہے تو مذکورہ جماعت تحلیل ہو جاتی ہے اور سیاسی جماعت کی حیثیت کھو دیتی ہے۔

حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر یہ پابندی 12 اپریل کو اس کے رہنما سعد رضوی کی لاہور میں گرفتاری کے بعد ملک گیر پرتشدد مظاہروں کے باعث عائد کی تھی۔

انڈپینڈنت اردو کے نامہ نگار ارشد چوہدری کے مطابق کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے خود پر لگنے والی پابندی کے خلاف وزارت داخلہ سے رجوع کر لیا ہے۔

پارٹی نے وزارت داخلہ میں باقاعدہ ایک درخواست جمع کرائی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ’حکومت نے نقص امن و کار سرکار میں مداخلت کے الزامات پر 15 اپریل، 2021 کو تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کی جو حقائق کے منافی ہے۔ حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان پر سے پابندی ہٹائے۔‘

سعد رضوی کو فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بے دخل نہ کرنے پر مظاہروں کی دھمکی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے تک جاری رہنے والے ان مظاہروں میں چھ پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ 800 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

28 اپریل کو تحریک لبیک کے لاہور میں واقع میڈیا سیل سے جاری بیان میں کہا گیا کہ این اے 249 میں اس کی ریلیوں نے ’مخالفین کی نیندیں اڑا دیں ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر بھی اس جماعت کے حامیوں کی جانب سے ’این اے 249 ٹی ایل پی کا‘ ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے۔

’عرب نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے این اے 249 کے پریزائڈنگ آفیسر سید ندیم حیدر جعفری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمشن نے ابھی تک تحریک لبیک پاکستان کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا کیونکہ یہ ابھی تک ’رجسٹرد سیاسی جماعت‘ ہے۔

وزارت داخلہ کے ترجمان علی نواز ملک کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان 15 اپریل، 2021 سے تحریک لبیک کو کالعدم جماعت قرار دے چکی ہے اور اس جماعت کے امیدواروں کے این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے۔

علی نواز ملک کے مطابق 'سال 1997 کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے سیکشن 11 سی کے تحت کالعدم تحریک لبیک کے پاس پابندی کے خلاف نظرثانی اپیل کرنے کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔

’حکومت درخواست ملنے کے بعد اس پر نظر ثانی کرے گی۔ تاحال ٹی ایل پی نے وزار داخلہ کو ایسی کوئی درخواست نہیں دی۔‘

سندھ ہائی کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر صلاح الدین احمد کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نہیں سمجھتا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دی جانے والی جماعت کس طرح الیکشن میں حصہ لے سکتی ہے چاہے اسے الیکشن کمیشن نے ابھی تک تحلیل نہیں کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صلاح الدین احمد کے مطابق اے ٹی اے کے تحت تحریک لبیک کے دفاتر کو سیل اور بینک اکاؤنٹس کو منجمند کرنا لازمی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’اس جماعت کی تمام مطبوعات، پوسٹرز، بینرز، مواد، اور اس کی ایما پر کیے جانے والے عوام اجتماعات، پریس کانفرنسز اور پیغامات پر پابندی ہے۔‘

بیرسٹر صلاح الدین کے مطابق ’تحریک لبیک یا اس سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد چندہ اکٹھا بھی نہیں کر سکتا اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو جرم ہے۔ تو ان کا امیدوار کیسے کہہ سکتا ہے کہ وہ ٹی ایل پی کا امیدوار ہے؟‘

لیکن تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار نذیر احمد کا کہنا تھا کہ وہ اپنی  جماعت کی جانب سے الیکشن مہم نہ چلانے کے باوجود اس حوالے سے ’پرامید‘ ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم دہشت گرد جماعت قرار دیے جانے کی وجہ سے انتخابی مہم نہیں چلا سکے اور ہمارے کارکن خوف زدہ ہیں لیکن الیکشن کمیشن کی کوئی ایسی رکاوٹ نہیں تھی جو ہمیں ان کے قوانین کے مطابق الیکشن مہم چلانے سے روک سکتی۔

’ہمارا ایک مضبوط ووٹ بینک ہے اور باوجود اس کے کہ ہمارے ورکرز اس طرح باہر نہیں نکلے جیسے عام انتخابات میں نکلے تھے ہمارا خاموش ووٹ بینک قائم ہے اور وہ ہمیں ہی ووٹ ڈالے گا۔‘

2018 کے عام انتخابات میں تحریک لبیک پاکستان نے کراچی سے سندھ اسمبلی کی دو نشتوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس کی خاتون رکن مخصوص نشتت پر منتخب ہوئی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان