’ بیگم‘ ممتا بنرجی، ہندوستان کی طاقتور ترین خاتون کیسے بنیں؟

ممتا بنرجی بدھ کی صبح حلف اٹھا کر بھارت کی پہلی خاتون سیاست دان بن گئی ہیں جو مسلسل تیسری بار کسی ریاست کی وزیرِاعلیٰ بننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

ممتا بنرجی دو مئی کو کولکتہ میں اپنے گھر کے باہر ہاتھ لہرا کر جیت کا جشن منا رہی ہیں (اے ایف پی)

ممتا بنر جی بدھ کی صبح مغربی بنگال ریاست کی وزیرِ اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا کر بھارت کی پہلی خاتون سیاست دان بن گئی ہیں جو مسلسل تین بار وزیرِ اعلیٰ بنی ہیں۔

ممتا بنرجی عوام میں دیدی کے نام سے مشہور ہیں۔ انہیں مغربی بنگال کی آئرن لیڈی بھی کہا جاتا ہے۔ نچلے متوسط گھرانے میں پیدا ہونے دیدی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ آج بھی بالکل عوامی نظر آتی ہیں۔ ان کا لباس ہو، سٹائل یا گفتگو کا انداز سب عوامی ہوتا ہے۔

دنیا میں جمہوری طریقے سے لگاتار اقتدار میں رہنے کا ریکارڈ کمیونسٹ پارٹی کا ہے۔ ویسٹ بنگال میں کمیونسٹ پارٹی نے مسلسل 34 سال حکومت کی۔ بالآخر 2011 کے ریاستی انتخابات میں ایک ریکارڈ عرصے بعد بائیں بازو کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ممتا بنرجی کا وزیر اعلیٰ کیا بننا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی کی الٹی گنتی شروع ہو گئی۔ ویسٹ بنگال جو کبھی کمیونسٹ پارٹی کا مضبوط مرکز سمجھا جاتا تھا آج یہ حالت ہے کہ حالیہ انتخابات میں ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکی۔

ممتا بنرجی نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 70 کی دہائی میں انڈین نیشنل کانگریس سے کیا- اپنی محنت اور صلاحیت کا لوہا منواتے ہوئے جلد پارٹی میں اپنی جگہ بنا لی اور پارٹی کے ریاستی خواتین کانگریس (مہیلا کانگریس) کی جنرل سیکرٹری بنیں۔ ممتا بنرجی نے 1984 کے پارلیمانی انتخابات میں کمیونسٹ پارٹی کے دگج نیتا سومناتھ چٹرجی کو ہرا کر سب کو حیران کر دیا۔ اس وقت ان کی عمر 29 سال کی تھی۔ اس کے بعد 2009 تک وہ لگا تار پارلیمانی حلقہ کلکتہ ساؤتھ سے ہر پارلیمانی الیکشن میں کامیاب ہوتی رہیں۔

1997 میں ریاستی پردیش کانگریس کمیٹی سے اختلافات کی بنیاد پر کانگریس کو خیر آباد کہتے ہوئے ترنمول کانگریس کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنالی۔ قومی سیاست کے دوران وہ متعدد بار مختلف وزارتوں پر بھی فائز رہیں۔ مس بنرجی اٹل بہاری واجپئی کی حکومت کا حصہ بھی رہی۔ 2009 میں وہ مرکز میں یو پی اے کا حصہ بنی اور 2009 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد من موہن سنگھ کی یو پی اے دوم میں وزارت ریلوے کا قلمدان دیا گیا۔ 2011 کے اسمبلی انتخابات کے بعد وہ ریلوے کی وزارت سے مستعفی ہو کر پہلی بار مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ بنیں۔ 2016 میں دوسری اور اب حالیہ انتخابات کے بعد مسلسل تیسری بار وزیر اعلیٰ بننے میں کامیاب ہوئی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ممتا بنرجی اس وقت ہندوستان کی طاقتور خاتون سیاستدان ہیں۔ 2014 سے شدت پسندی کا ایسا ماحول بنایا گیا کہ سیکیولر سیاسی جماعتوں کی جڑیں بھی کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی کھلے عام بات کرنے سے سیاسی جماعتیں کتراتی ہیں۔ اس ماحول میں دیدی پر بعض سیاسی جماعتیں مسلم اقلیت کو فیصلہ سازی میں ہندو اکثریت پر فوقیت دینے کا الزام بھی عائد کرتی رہتی ہیں۔ ان میں بی جے پی سر فہرست ہے۔ ان کے مخالفین کی جانب سے انہیں کھلے عام ’بیگم‘ کہا جاتا ہے۔ بیگم چونکہ مسلم خواتین کے نام کے ساتھ لگتا ہے اس لیے یہ لقب طعنہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ممتا بنرجی نے ’بنگال سب کے لیے‘ کا نعرہ لگایا۔

 ممتا بنرجی ڈنکے کی چوٹ پر بات کرتی ہے۔ 2006 میں اس وقت کی ویسٹ بنگال حکومت نے سنگر کے کسانوں کی زمین خصوصی اقتصادی زون کے لیے مختص کی، جس کے خلاف انہوں نے سخت احتجاج اور 26 دن کی بھوک ہڑتال کی۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد پہلا کام سنگر کے کسانوں کو ان کی زمینیں واپس کرنا تھا۔ اس کے علاوہ تعلم اور صحت کے شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے۔ ان کی سیٹوں کا عدد ہمیشہ بڑھا ہے۔ 2011 میں ترنمول کانگریس نے 184 سیٹیں جیتی تھیں-2016 میں 209 اور 2021 میں 213- 

توقعات کے باوجود بی جے پی کیوں ہاری؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی نے ’پھوٹ ڈالو اور ووٹ بٹورو‘ کا بھر پور استعمال کیا۔ اس پالیسی سے یہ اپنا کچھ ووٹ بنک بڑھانے میں تو کامیاب ہوئے ہیں لیکن جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بنگال کے لوگ ابھی بھی کافی حد تک سیکیولر نظریات کے حامل ہیں، اس لیے بی جے پی کی ہندوتوا کے قائل نہیں ہو سکے۔

بنگال کے لوگ ابھی بھی مذہبی تہوار جیسا کہ عیدین، سرسوتی پوجا، وشواکرن پوجا، کالی و درگا پوجا وغیرہ مل کے مناتے ہیں۔ بی جے پی جیسے مذہبی نعرے لگا جے ماتا کی اور جے شری رام جیسے نعرے اتنے زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئے۔

سوشل میڈیا پر وزیر داخلہ امت شاہ کی الیکشن کی ایک ویڈیو کافی وائرل ہے جس میں وہ نعرہ لگاتے ہیں ’بھارت ماتا کی۔۔۔‘ لیکن پورا مجمع خاموش رہتا ہے، کوئی جواب نہیں آتا۔ یہی نعرہ اگر کسی ہندی بیلٹ سٹیٹ میں لگایا جاتا ہے تو فلک شگاف جواب ملتا ہے۔ ہارنے کا دوسری بڑی وجہ کچھ رہنماؤں کے خلاف گھوٹالا بھی ہے۔ مثلاً ایک رہنما سوندو ایک اسٹنگ آپریشن میں ماؤ نوازوں کو ہتھیار سپلائی میں ملوث پایا گیا۔ ماؤ نوازوں کو ہتھیار ویسٹ بنگال حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے دیے جا رہے تھے۔

مودی کی ہار کی سب سے بڑی وجہ ممتا بنرجی کا ’لوک پریا‘ سٹائل یعنی لوگوں کے ساتھ براہ راست میل ملاپ بنا کے رکھنا ہے۔ ممتا بنرجی لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتی ہیں- یہی وجہ ہے کہ بنگال کی اکثریت عوام ان پر اعتماد کرتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین