کپتان کی کابینہ کے کئی مستعفی ’کھلاڑی‘ واپس میدان میں آ چکے

پاکستان تحریک انصاف کی وفاق اور صوبوں میں حکومتوں کے اتنے وزیر اور مشیر مستعفی ہو چکے ہیں کہ برطانیہ میں شیڈو کابینہ کی طرح پی ٹی آئی حکومت کی ’مستعفی کابینہ‘ تیار کی جا سکتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان وفاقی کابینہ کے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے(تصویر بشکریہ اے پی پی)

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی سید ذوالفقار بخاری راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں اپنا نام آنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔

زلفی بخاری عمران خان کی کابینہ کے پہلے رکن نہیں جنہوں نے کسی سکینڈل میں الزامات لگنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا ہو بلکہ جیسے برطانیہ میں شیڈو کابینہ ہوتی ہے، ویسے ہی پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت کی ’مستعفی کابینہ‘ تیار کی جا سکتی ہے۔

زلفی بخاری سے قبل جو کابینہ ارکان مختلف وجوہات کی بنیاد پر استعفے دے چکے ہیں ان میں سرفہرست اسد عمر ہیں، جنہیں عمران خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر خزانہ مقرر کیا تھا لیکن کچھ عرصے بعد ان سے اچانک وزارت خزانہ کا چارج واپس لینے کے بعد وہ کابینہ کا حصہ نہیں رہے تھے۔ بعد ازاں انہیں وزارت منصوبہ بندی سونپ دیی گئی تھی۔

کابینہ سے نکالے جانے والے افراد میں سینیٹر اعظم سواتی، ڈاکٹر بابر اعوان، فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر فروغ نسیم، ارباب شہزاد، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، ندیم افضل چن، ڈاکٹر ظفر مرزا، تانیہ ایدروس اور عامر کیانی شامل ہیں۔

تاہم مختلف مسائل، سکینڈلز اور الزامات کی بنا پر مستعفی ہونے کے باوجود ان میں سے کئی دوبارہ کابینہ میں شامل ہو چکے ہیں جبکہ کچھ کی وزارتیں تبدل کر دی گئی ہیں۔

کابینہ میں ایسے وزرا بھی شامل ہیں جن کی وزارتیں بار بار تبدیل کرنے کے باوجود انہیں کابینہ سے نہیں نکالا گیا۔ ان میں بڑے نام شیخ رشید احمد، مخدوم خسرو بختیار، فواد چوہدری اور شبلی فراز کے ہیں۔

دوسری طرف پنجاب کابینہ میں بھی ایسے ارکان شامل ہیں جنہیں مقدمات، تنازعات اور بیانات کی بدولت اپنے عہدوں سے استعفے دینے پڑے۔

ان میں سر فہرست عبدالعلیم خان، فیاض الحسن چوہان، شہباز گل، اسد کھوکھر اور عون چوہدری ہیں جبکہ کئی معاونین کبھی وفاق اور کبھی پنجاب میں اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبہ خیبر پختونخوا بھی پنجاب سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں اور یہاں بھی کابینہ کے ارکان کی آمد و رخصت کا سلسلہ جاری رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ محمود خان کی کابینہ میں کئی ایسے افراد ہیں جو مختلف وجوہات کی بنیاد پر کابینہ سے رخصت ہوئے اور پھر واپس شامل کیے جا چکے ہیں۔

ان میں سب سے اہم نام عاطف خان اور شہرام ترکئی کے ہیں۔ ان کے علاوہ ضیا اللہ بنگش، غزن جمال اور حمایت اللہ خان بھی اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔

وفاقی کابینہ سے مستعفی ہونے والے وزرا اور معاونین

  • زلفی بخاری

راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل میں الزامات لگنے کے بعد زلفی بخاری معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی کے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

انہوں نے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے سکینڈل کی تحقیقات مکمل ہونے تک حکومتی عہدے پر نہ رہنے کا اعلان کیا ہے۔

  • ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ

سابق وزیر خزانہ اسد عمر کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا لیکن سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر شکست کے بعد انہوں نے بطور وزیر خزانہ کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ان کی جگہ پہلے حماد اظہر کو وزیر خزانہ اور پھر شوکت ترین کو مشیر خزانہ بنایا گیا ہے۔ شوکت ترین تحریک انصاف کے تین سالہ دور میں وزارت خزانہ کا چارج سنبھالنے والے چوتھے فرد ہیں۔

  • ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو فواد چوہدری کی جگہ وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپا گیا تھا لیکن ایک سال بعد ان سے یہ عہدہ واپس لے کر مشیر کا عہدہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ جبکہ وزارت کا قلم دان سینیٹر شبلی فراز کو دے دیا گیا تھا۔

بعد میں فردوس عاشق اعوان کو وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات مقرر کر دیا گیا۔

  • لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ

سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنا معاون خصوصی برائے اطلاعات مقرر کیا تھا لیکن حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ان پر سخت تنقید کے بعد وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے۔

ان کے پہلی بار پیش کیے گئے استعفے کو وزیر اعظم عمران خان نے منظور نہیں کیا تھا۔

  • عامر کیانی

وزیر صحت کے عہدے پر تعینات عامر کیانی کو ادویات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

  • ڈاکٹر بابر اعوان

نندی پور سکینڈل کی تحقیقات کے دوران ڈاکٹر بابر اعوان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جو اس وقت مشیر پارلیمانی امور کے عہدے پر تعینات تھے۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان نے انہیں دوبارہ مشیر پارلیمانی امور کے عہدے پر تعینات کر دیا۔

  • اعظم سواتی

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر اعظم سواتی کو اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال پر سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی ایک رپورٹ کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا لیکن بعد میں انہیں وزارت ریلوے کا چارج دے دیا گیا۔

  • ڈاکتر فروغ نسیم

تین سالہ دور میں جس وفاقی وزیر نے سب سے زیادہ بار اپنی وزارت سے استعفی دینے کے بعد وہی وزارت دوبارہ سنبھالی ہے وہ فروغ نسیم ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ ان کے استعفیٰ دینے کے بعد کسی اور کو یہ وزارت سونپی بھی نہیں گئی۔ وزیر قانون فروغ نسیم تحریک انصاف حکومت کے تین سالہ دور میں دو بار اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد تیسری بار کابینہ کا حصہ ہیں۔

وہ پہلی بار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے جبکہ دوسری بار سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کے خلاف وفاق کی نمائندگی کرنے کے لیے انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔

  • ندیم افضل چن

قومی اسمبلی کے سابق رکن اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سابق چیئرمین ندیم افضل چن وزیر اعظم عمران خان کے ترجمان کے عہدے پر تعینات رہنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ ان کے استعفے کی وجہ سیاسی اختلافات بتائی جاتی ہے۔

  • غلام سرور خان

موجودہ وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان اس سے قبل وزیر پیٹرولیم کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔ اخبار دی نیوز میں شائع ہونے والے سابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے بیان کے مطابق غلام سرور خان کو گیس کے بلوں میں اضافے پر لاپروائی کے باعث اپنے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

  • شہریار آفریدی

سابق وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیر مملکت برائے سیفرون اور نارکوٹکس رہنے والے شہریار آفریدی اس وقت چئیرمین کشمیر کمیٹی کے عہدے پر تعینات ہیں۔

  • ندیم بابر

گذشتہ سال ملک میں آنے والے پیٹرولیم بحران پر تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی۔

  • افتخار درانی

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے میڈیا افتخار درانی بھی گذشتہ سال فروری میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ مبینہ طور پر ان پر بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

پنجاب کابینہ سے مستعفی ہو کر دوبارہ شامل ہونے والے ارکان

  • فیاض الحسن چوہان

پنجاب کابینہ کے رکن فیاض الحسن چوہان کو ہندو برادری کے خلاف مبینہ طور پر قابل اعتراض زبان استعمال کرنے پر اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا تھا لیکن چند ماہ بعد انہیں دوبارہ پنجاب کابینہ میں شامل کر لیا گیا۔

  • عبدالعلیم خان

پنجاب کابینہ کے رکن اور تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان اپنے خلاف نیب تحیقات کے دوران اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

انہیں نیب نے اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا تھا۔ رہائی کے بعد وہ دوبارہ پنجاب کابینہ کا حصہ بن چکے ہیں۔

کے پی کابینہ سے مستعفی ہو کر دوبارہ شامل ہونے والے ارکان

  • عاطف خان اور شہرام ترکئی

خیبر پختونخواہ کابینہ کے وزرا عاطف خان اور شہرام ترکئی وزیر اعلیٰ محمود خان سے اختلافات کے بعد کے پی کابینہ سے مستعفی ہو گئے تھے لیکن وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد انہیں دوبارہ کے پی کابینہ کا حصہ بنا لیا گیا۔

ان کے علاوہ گذشتہ برس جولائی میں صوبائی حکومت کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر کو بھی ایک آڈیو سکینڈل سامنے آنے کے بعد عہدے سے الگ کر دیا گیا تھا، تاہم وہ دوبارہ کابینہ کا حصہ نہیں بن سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست