آگ لگنے کا خطرہ: ہنڈائی ٹوسون گاڑیوں کو ری کال کر لیا گیا

ہنڈائی نشاط نے اپنے صارفین کو ایک پیغام میں کہا ہے کہ یہ خرابی ’ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ‘ کا سبب بن سکتی ہے اور گاڑی کو ہنڈائی ڈیلر شپ پر لے جانے کا مشورہ دیا ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان میں ٹوسون جیسی کراس اوور گاڑیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے (ہنڈائی پاکستان فیس بک پیج)

کاریں بنانے والی کمپنی ہنڈائی نشاط موٹر نے اینٹی لاک بریکنگ سسٹم میں ممکنہ خرابی کے پیش نظر پاکستان میں اپنی 1600 سے زائد ٹوسون گاڑیوں کو واپس بلانے، یا ری کال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کمپنی کے اعلان کے مطابق ری کال ہونے والی گاڑیوں کو مفت مرمت کے بعد دوبارہ صارفین کے حوالے کیا جائے گا۔

اس سے پہلے ہنڈائی کمپنی امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ اور کینیڈا میں بھی چار لاکھ کے قریب گاڑیوں کو واپس بلا چکی ہے۔  ٹوسون ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ان گاڑیوں میں بریک فلوئڈ اینٹی لاک بریکنگ کے کمپیوٹر میں لیک ہو کر شارٹ سرکٹ اور آگ لگنے کا باعث بن سکتا ہے۔ 

حالیہ برسوں میں پاکستان میں ٹوسون جیسی کراس اوور گاڑیوں کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اب تک نصف درجن کے قریب برانڈ لانچ ہو چکے ہیں۔ کراس اوور وہ گاڑی ہوتی ہے جو کار اور ایس یو وی کے درمیان ہو۔

ہنڈائی امریکہ کے مطابق متاثرہ گاڑیوں میں ایک فیوز اور اگر ضرورت پڑی تو اے بی ایس کا کمپیوٹر تبدیل کیا جائے گا۔ دستاویزات کے مطابق امریکہ میں ان گاڑیوں کے باعث 18 مرتبہ آگ لگ چکی ہے۔ جب کہ امریکہ کی روڈ سیفٹی کے محکمے نے ٹوسون گاڑیوں کے مالکان سے کہا ہے کہ جب تک ان گاڑیوں کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، وہ گاڑیاں گھر کے اندر نہیں بلکہ باہر کھڑی کریں۔

فروری 2021 میں آسٹریلیا میں بھی 93 ہزار سے زیادہ ہنڈائی ٹوسون گاڑیوں کو ری کال کیا گیا تھا اور آسٹریلین کمپیٹیشن اینڈ کنزیومر کمیشن نے صارفین سے کہا تھا کہ وہ اپنی گاڑیوں کو کھلی جگہ پر اور جلنے والی اشیا سے دور پارک کریں، چاہے گاڑی کا انجن بند ہی کیوں نہ ہو۔ ہنڈائی نشاط نے اپنے صارفین کو ایک پیغام میں کہا ہے کہ یہ خرابی ’ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ‘ کا سبب بن سکتی ہے اور گاڑی کو ہنڈائی ڈیلر شپ پر لے جانے کا مشورہ دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس اعلان سے وہ صارفین متاثر ہوں گے جنہوں نے اگست 2020 میں لانچ کے پہلے چار ماہ کے اندر گاڑی حاصل کی تھی۔ اس پیش رفت کی تصدیق پیر کو کمپنی کے چیف فنانشل آفیسر نوریز عبداللہ نے کی جنہوں نے کہا کہ یہ احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا جا رہا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ متاثر چیسیس نمبر 0001 سے 1611 تک ہیں۔ صارفین سے کہا گیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر کے طور پر حفاظتی کٹ نصب کریں اور الیکٹرانک کنٹرول یونٹ (ای سی یو) کو اپ گریڈ کریں۔

پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے میں لوگوں میں کراس اوور گاڑیوں کا رجحان بڑھا ہے۔ گذشتہ اگست میں ملک میں لانچ ہونے والی ہنڈائی ٹوسون کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹوسون کی لانچ کے بعد سے کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اب تک 3200 سے زائد یونٹ فروخت کر چکی ہے۔ صرف گذشتہ تین ماہ میں 1662 گاڑیاں فروخت ہوئی ہیں۔ ٹوسون سے پہلے کیا سپورٹیج کو خاصی مقبولیت ملی تھی، جب کہ اس کے علاوہ ٹویوٹا کراس، ڈی ایف ایس کے گلوری، ہوال جولیون، ہوال ایچ 6 بھی پاکستان میں لانچ ہو چکی ہیں، جب کہ کئی دوسری کمپنیاں اپنی کراس اوور گاڑیاں متعارف کروانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی