ہم بدلتے ہیں رخ ہواؤں کا

اسرائیلی بمباری سے زمین بوس ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے فلسطینی عوام ایک ایسی قوم بن کر دوبارہ ابھرے ہیں جو ہر قیمت پر آزادی چاہتے ہیں۔

26 مئی، 2021کو لی گئی اس تصویر میں ایک فلسطینی بچہ اسرائیلی بمباری سے ڈھیر ہونے والی عمارت کے قریب سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)

اس سال کی فلسطینی بغاوت کو خطے کی تاریخ کا سب سے زیادہ اہم واقعہ قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس انقلاب نے فلسطین سے متعلق اندرون اور بیرون ملک اجتماعی سوچ کا دھارا یکسر تبدیل کر دیا۔

فلسطین کی تاریخ میں دو ہی ایسے واقعات ملتے ہیں جن کا موازنہ مئی 2021 کی بغاوت سے کیا جا سکتا ہے۔ ان میں پہلا واقعہ 1936 میں ہونے والی بغاوت اور پھر 1987 میں بپا ہونے والی فلسطینی انتفاضہ ہے، جس میں فلسطنیوں نے پے پناہ قربانیاں دیں۔

فلسطین میں 39-1936 کے درمیان ہونے والی ہڑتالیں اور بغاوت فلسطینیوں کی اجتماعی سیاسی سوچ کا پہلا ناقابل تردید اظہار بنیں جس کی بنا پر انہیں تاریخی پیش رفت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ تنہائی اور مزاحمت کے متواضع ہتھیاروں کے ساتھ فلسطینی ملک کے طول وعرض سے اٹھے اور انہوں نے برطانوی راج اور صہیونی نو آبادیوں کو ایک ہی آن میں للکارا۔

فلسطین میں بپا ہونے والی 1987 کی انتفاضہ تاریخی پیش رفت تھی۔ 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد اسرائیلی قبضے میں جانے سے بچ جانے والے فلسطینی علاقوں میں 1987 کی انتفاضہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے خلاف عدیم النظیر متحد اور پائیدار اقدامات میں ایک قابل ذکر اضافہ تھا۔

عبقری نوعیت کی عوامی بغاوت میں یقیناً فلسطینیوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا، تاہم اس کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطینیوں کو اپنے سیاسی موقف کو مضبوطی سے تھام کر بیک آواز ہو کر بطور فلسطینی اسے منوانے کا موقع ملا۔

ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں 13 ستمبر 1993 کو طے پانے والے نام نہاد ’امن معاہدے‘ پر دستخط کے ساتھ انتفاضہ کی بساط لپیٹ دی گئی۔ اوسلو معاہدہ، فلسطینی قیادت کی جانب سے اسرائیل کے ایک ایسا تحفہ تھا جس کے تحت انتفاضہ کو دبانے کی اجازت ملی اور نو زائیدہ فلسطینی اتھارٹی سے اسرائیلی فوج اور مجبور ومقبوضہ فلسطینیوں کے درمیان بفر زون کا کام لیا جانے لگا۔

اس دور میں فلسطین کی تاریخ ایسی بےبسی کی راہ پر چل نکلی کہ جس میں جگہ جگہ تفریق، گروہی اور سیاسی مقابلہ بازی کا چلن دیکھنے کو ملا جبکہ کچھ مراعات یافتہ طبقے نے بہتی گنگا میں اپنے ہاتھ جیبوں میں دولت سمیٹ کر بھرے۔

امریکی اور اسرائیلی ترجیحات کے گرد گھومتی خود فریب سیاست میں چار دہائیوں کا عرصہ ختم ہو گیا۔ ان ترجیحات کا مرکزی نکتہ ’اسرائیلی سلامتی‘ اور ’فلسطینیوں کی دہشت گردی‘ قرار پایا۔

’آزادی‘، ’مزاحمت اور ’عوامی جدوجہد‘ ایسی شاندار اصطلاحات کی جگہ ’امن عمل‘، ’مذاکرات کی میز‘ اور ’شٹل ڈپلومیسی‘ جیسی خود ساختہ عملیت پسند اصطلاحات نے لینا شروع کر دی۔ گمراہ کن سوچ کے نتیجے میں فلسطین پر اسرائیلی تسلط کو ’قضیہ‘ اور ’تنازع‘ بنا کر پیش کیا جانے لگا۔ اس کوشش کے ذریعے انسانی حقوق کو سیاسی تشریح کا عنوان بنا دیا گیا۔

پہلے سے طاقت کے نشے میں چور اسرائیل خود کو زیادہ دلیر محسوس کرنے لگا اور اسی دھن میں اس نے دریائے اردن کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی غیر قانونی یہودی بستیوں میں تین گنا بڑھوتری کر لی جن میں اسی تناسب سے یہودی آباد کاروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔

فلسطین کو جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے قائم کردہ چھوٹے چھوٹے گھروندوں میں A, B  اور C جیسے کوڈز سے موسوم علاقوں میں بانٹ دیا گیا۔ اپنے ہی ملک میں فلسطینیوں کی نقل وحرکت کے لیے اسرائیل کے جاری کردہ مختلف رنگوں کے شناختی کارڈز جاری کیے جانے لگے۔

غرب اردن کے علاقے میں فلسطینی خواتین پیچیدہ شناخت کے عمل کی وجہ سے فوجی چوکیوں میں زچگی کے عمل سے گزرنے لگیں۔ غزہ کی پٹی سے مصر کی رفح راہداری استعمال کر کے بیرون ملک علاج کی خاطر جانے والے سرطان کے مریض راستے میں ہی جان دینے لگے۔ ایسے بہت سے مظالم فلسطینیوں کا مقدر ٹہرے۔

وقت گزرنے کے ساتھ فلسطین پر اسرائیلی تسلط بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک غیر اہم معاملہ بنتا گیا۔ ماضی میں جو ملک کبھی فلسطین کے حامی تھے، وہ ایک ایک کر کے صہیونیوں کے دوست بننے لگے۔ اسرائیل نے نصف جنوبی کرہ ارض کے متعدد ملکوں سمیت ساری دنیا سے اپنے تعلقات مضبوط بنا لیے۔

 فلسطینیوں کے حقوق کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے والی بین الاقوامی تحریک مخمصے کا شکار ہوگئی جس سے انتشار اس کا مقدر بنتی گئی۔ یہ پیش رفت فلسطینیوں کی صفوں میں انتشار اور مخمصے کا پتا دے رہی تھی۔

فلسطین کی دیرینہ سیاسی لڑائی میں کسی متحد آواز کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا کر بہت سے لوگوں نے فلسطینیوں کو مزاحمت کے لیکچر دینے شروع کر دیے۔ انہیں مشورے دیے جانے لگے کہ وہ کس ’حل‘ کے لیے لڑیں اور کون سا سیاسی موقف اختیار کریں۔ ایسا لگتا تھا کہ اسرائیل کو بالآخر فلسطین پر بالادست پوزیشن حاصل ہو گئی۔

فلسطینیوں کو دوبارہ سر اٹھاتا دیکھنے کے بجائے تیسری انتفاضہ کے حق میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں۔ درحقیقت کئی سالوں سے متعدد فلسطینی دانشور اور سیاسی رہنما فلسطین میں تیسری انتفاضہ کے حق میں آواز بلند کرتے چلے آ رہے تھے۔

وہ سمجھتے تھے کہ شاید فلسطین سمیت دنیا بھر میں تاریخ کا دھارا مخصوص اکیڈیمک بیانیے سے جڑا رہے گا، یا سے چند افراد اور تنظیموں نے ہی اسے آگے چلانا ہے۔

اس کا منطقی جواب یہی تھا کہ فلسطینی اپنے کسی بھی اجتماعی اقدام کی ہیئت، سمت اور دائرہ کار خود طے کریں۔ عوامی بغاوت ذاتی خواہش کے نتیجے میں بپا نہیں ہوتی، اس کا فیصلہ فلسطینیوں نے خود کرنا ہے۔

رواں سال مئی کا مہینہ اس انقلاب کے لیے فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔ مقبوضہ فلسطین کے چپے چپے بشمول غزہ کی پٹی سے لے کر مشرقی بیت المقدس کے بسنے والے فلسطینی ایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔

مشرق وسطیٰ میں بسنے والے فلسطینی مہاجرین نے بھی اپنی توانا آواز شامل کر دی، جس کے بعد انہوں نے ایک ناممکن سیاسی بیانیہ ممکن کر دکھایا۔

قضیہ فلسطین کا مطلب اب صرف مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مشرقی بیت المقدس پر تسلط نہیں رہا بلکہ اسرائیل کے اندر بسنے والی فلسطینی برادری کے خلاف صہیونی نسل پرستی اور امتیازی پالیسی بھی اس کے دائرے کار میں آ چکی ہے۔ یہ معاملہ اب قیادت کے بحران اور گہری تفریق اور سیاسی بدعنوانی کا مرکزی نکتہ بن چکا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے آٹھ مئی کو پولیس کی معیت میں انتہا پسند یہودیوں کے جتھے مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال کرنے اور عبادت میں مصروف فلسطینیوں کو گزند پہنچانے کے لیے بھیجنے کا فیصلہ کیا تو اس کا مقصد صرف دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی انتہا پسند یہودیوں تنظیموں کو خوشنودی اور سیاسی فائدہ حاصل کرنا تھا۔

یہ سب وہ اقتدار سے چمٹے رہ کر اپنی بدعنوانی کی پاداش میں جیل جانے سے بچنے کی خاطر کر رہے تھے۔

ان کے وہم وگماں میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایسا کر کے فلسطین کی تاریخ کا ایسا رخ متعین کرنے جا رہے ہیں جو آگے چل کر مسئلہ فلسطین کے حقیقی حل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نیتن یاہو کی غزہ پر کھلی جنگ میں سینکڑوں بچے، خواتین اور مرد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ ہزاروں زخمی ہیں۔ غرب اردن اور اسرائیل کے عرب علاقوں میں صہیونی وزیر اعظم کے عاقبت نااندیش اقدامات سے دسیوں فلسطینی لقمہ اجل بنے اور اب بھی سینکڑوں زخمی ہیں، لیکن اس سب کے باوجود 20 مئی کو کامیابی کا جشن منانے ہزاروں فلسطینی سڑکوں پر فخریہ فتح کا جشن منانے نکل آئے۔

آزادی کی جنگوں میں کامیابی اور شکست کا معیار فریقین کی صفوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے پیرائے میں نہیں لگایا جاتا کیونکہ اگر ان نقصانات کو معیار بنایا جائے تو کوئی بھی نو آبادی استعمار سے کبھی آزادی حاصل نہ کر پاتی۔

فلسطینی جیت گئے۔ وہ اسرائیلی بمباری سے زمین بوس ہونے والی عمارتوں کے ملبے سے ایک ایسی قوم بن کر دوبارہ ابھرے ہیں کہ جو ہر قیمت پر آزادی چاہتی ہے۔ سڑکوں پر فاتحانہ جشن مناتے فلسطینیوں کے چہروں سے یہ عزم جھلکتا تھا۔ ان میں ہر تنظیم کے نوجوان کسی بھی امتیاز اور تعصب کے بغیر اپنے بینرز لہراتے دکھائے دیے جن پر ایک ہی نعرہ ’آزادی‘ درج تھا۔

ہمیں یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں کہ فسلطینی مزاحمت نے اسرائیلی مظالم کو شکست دے دی۔ یہ کامیابی جدوجہد کے استعارے فلسطین کی قابل فخر تاریخ کا ایک اور روشن باب ہے۔ اس جنگ میں پہلی مرتبہ اسرائیل کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑی ہے کہ کھیل کے اصول تبدیل ہو چکے ہیں اور صہیونی ریاست کو یہ کھیل اب ہمیشہ فلسطینیوں کے طے کردہ اصولوں کی روشنی میں کھیلنا ہے۔

اسرائیل اب تک وتنہا جنگ کے اصول مرتب کرنے کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ مقبوضہ فلسطین کے سیاسی نتائج طے کرنے پر قادر رہا ہے۔ فلسطینی اب ایک ایسی قوت بن کر سامنے آئے ہیں جنہیں طاق نسیاں میں رکھ کر اس کے سیاسی مستقبل کے فیصلے نہیں کیے جا سکیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ