اپوزیشن کا شیڈو بجٹ کتنا اہم ہوتا ہے؟

وفاقی حکومت 11 جون کو اگلے مالی سال کا بجٹ پیش کرنے جا رہی ہے۔ ایسے میں اپوزیشن کی بڑی جماعتیں اپنا اپنا شیڈو بجٹ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں لیکن ان کے شیڈو بجٹ کی کیا اہمیت ہے اور اس سے عوام کو کیا فائدہ ہو گا؟

پاکستان میں شیڈو بجٹ عام طور پر ایک سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا حصہ ہوتا ہے: معاشی امور کے صحافی  ذیشان حیدر (اے ایف پی فائل فوٹو)

صدر ڈاکٹرعارف علوی نے سات جون کو قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے اور پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اسی سیشن کے دوران 11 جون کو مالی سال 22-2021 کا بجٹ ایوان کے سامنے رکھے گی۔ 

پاکستان میں ہر سال وفاقی حکومت نئے بجٹ کا اعلان کرتی ہے، جس سے ملک کا ہر شہری کسی نہ کسی طریقے سے متاثر ہوتا ہے۔ اسی لیے اس وقت بھی پورے ملک کی نظریں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر لگی ہوئی ہیں۔  

تاہم وفاقی حکومت کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتیں بھی بجٹ سے متعلق الگ الگ سفارشات بنانے کی تیاریاں کر رہی ہیں، جن میں دو بڑی اپوزیشن پارٹیاں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سرفہرست ہیں۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور رکن قومی اسمبلی شازیہ عطا مری کا کہنا تھا کہ معاشی ماہرین اور جماعت کی پارلیمانی پارٹی کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع ہے۔ 

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’ہم تفصیلی دستاویزات عوام کے سامنے رکھیں گے، جن میں آئندہ مالی سال سے متعلق حکومت کے لیے تجاویز ، سفارشات اور عوام دوست مطالبات شامل ہوں گے۔‘ 

اسی طرح ن لیگ کے رہنماؤں نے بھی گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں پری بجٹ سیمینار سے خطاب میں آئندہ مالی سال کے حکومتی منی بل کے متوازی بجٹ تیار کرنے کا عندیہ دیا تھا۔  

تھینک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی (پلڈاٹ) کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے متوازی (شیڈو) بجٹ کا پیش کیا جانا ایک صحت مند رجحان ہے اور اسے فروغ ملنا چاہیے۔ 

شیڈو بجٹ کیا ہے؟ 

اکثر یورپی ملکوں اور امریکہ میں منتخب حکومت کے علاوہ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں متوازی حکومتیں بناتی ہیں، جنھیں شیڈو حکومت کہا جاتا ہے۔ 

شیڈو حکومت بینادی طور پر برطانوی نظام (ویسٹ منسٹر) کی ایجاد ہے، جو حزب اختلاف کی جماعتوں کے سینیئر رہنماوں پر مشتمل ہوتی ہے اور قائد حزب اختلاف کی سربراہی میں حکومت کے متبادل شیڈو کابینہ تشکیل دی جاتی ہے۔   

شیڈو حکومت میں منتخب حکومت کی طرح شیڈو وزارتیں اور شیڈو وزیر ہوتے ہیں، جن کے پاس کوئی انتظامی اختیار تو نہیں ہوتا لیکن وہ منتخب حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات کی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ متبادل پالیسیاں پیش کرتےہیں۔  

پاکستان کی طرح دنیا کے ہر ملک میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہر سال آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ تیار اور پیش کرتی ہیں، جو دراصل اس مخصوص سال کے دوران ممکنہ اخراجات اور آمدن کی تفصیلات بتاتا ہے۔  

بجٹ کی تیاری وزارت خزانہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے جبکہ وزیر خزانہ یہ دستاویز منی بل کی صورت میں پارلیمان میں پیش کرتے ہیں۔ 

شیڈو حکومت میں شیڈو وزارت خزانہ اور شیڈو وزیر خزانہ بھی ہوتے ہیں، جو ہر سال آئندہ سال کے حکومتی بجٹ کے متوازی بجٹ سفارشات اور اقدامات پیش کرتے ہیں، جنھیں ’شیڈو بجٹ‘ کہا جاتا ہے۔ 

کئی ایک ملکوں میں شیڈو حکومت تو موجود نہیں، تاہم وہاں کی حزب اختلاف کی جماعتیں حکومتی بجٹ کے متوازی بجٹ پیش کرتی ہیں۔  

دوسری طرف بعض ممالک میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے علاوہ تھینک ٹنکس، سول سوسائٹی اور دوسری تنظیمیں بھی شیڈو یا متوازی بجٹ تیار کرتی ہیں، جو بعض اوقات محض سفارشات اور مطالبات کا مجموعہ بھی ہو سکتا ہے۔ 

شیڈو بجٹ کی تیاری میں حکومتی بجٹ سے ہی مدد لی جاتی ہے۔ تاہم اخراجات، آمدنی اور ترقیاتی کاموں کی تفصیلات مختلف ہوتی ہیں۔ 

معاشی تجزیہ کار مصطفیٰ نذیر احمد اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: ’شیڈو بجٹ حکومتی بجٹ کی طرز پر بنایا جانا چاہیے، تاہم اسے خواہشات کی فہرست سے آگے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ تمام مجوزہ اقدامات کے مناسب اخراجات کا ذکر اس کی اولین شرط ہے۔‘  

شیڈو بجٹ حکومتی بجٹ سے قبل عوام کے سامنے لایا جاتا ہے تاکہ منتخب حکومت اس میں دی گئی سفارشات اور تجاویز سے مستفید ہو سکے۔ 

پاکستان میں شیڈو بجٹ 

یورپی اور امریکی ملکوں کے علاوہ بعض افریقی اور ایشیائی ملکوں میں بھی شیڈو بجٹ کا پیش کیا جانا سیاسی روایات کا حصہ ہے۔ 

پاکستان میں یہ روایت بہت پرانی نہیں اور نہ ہی یہ ہماری پارلیمانی سیاست کا مستقل فیچر بن پائی ہے۔ 

تاہم پاکستان میں شیڈو بجٹ پیش کیے جاتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پیش پیش رہی ہیں۔ 

ایم کیو ایم نے اس سلسلے میں سرخیل کا کردار ادا کرتے ہوئے 13-2012 کے حکومتی بجٹ کے متوازی شیڈو بجٹ پیش کیا تھا۔ 

ایم کیو ایم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وزیر اعظم عمران کی جماعت پی ٹی آئی نے مالی سال 16-2015 کے لیے شیڈو بجٹ ترتیب دیا تھا، جبکہ دونوں جماعتوں نے دوسرے شیڈو بجٹ بھی پیش کیے۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی نے 18-2017 کا شیڈو بجٹ پیش کیا تھا۔ 

معاشی امور پر لکھنے والے صحافی ذیشان حیدر کے خیال میں پاکستان میں شیڈو بجٹ عام طور پر ایک سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا حصہ ہوتا ہے اور اس مرتبہ بھی حزب اختلاف کا مقصد یہی ہو گا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اس سے صرف منتخب حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور عوام میں شیڈو بجٹ پیش کرنے والی جماعت کی واہ واہ ہو گی۔‘ 

تاہم احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ شیڈو بجٹ کی مدد سے عوام کو متبادل پالیسیوں کا علم ہوتا ہے اور وہ حکومتی اعداد و شمار کے علاوہ بھی سوچنا شروع کر سکتے ہیں۔ 

تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتی بجٹ کی تیاری میں قیود و حدود کا خیال رکھنا پڑتا ہے جبکہ شیڈو بجٹ میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔

’تو شیڈو بجٹ بنانے میں ہماری حزب اختلاف کی جماعتیں مفروضات سے کام لے سکتی ہیں اور اس کے امکانات پوری طرح موجود ہیں۔‘ 

پلڈاٹ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو صوبوں کے لیے بھی شیڈو بجٹ بنانے چاہییں کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وسائل کا بڑا حصہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے۔ 

معاشی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بجٹ بنانا کوئی اتنا پیچیدہ کام نہیں بلکہ یہ ہر سال محض 10 سے 12 فیصد آمدن، چھ سے سات فیصد اخراجات اور آئی ایم ایف کی شرائط کا مجموعہ ہوتا ہے۔ 

’ایسے بجٹ کا شیڈو بجٹ بنانے سے کیا فرق بڑ جائے گا، بنانے دیں اپوزیشن کو۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت