اسرائیلی کابینہ کی مغربی کنارے میں 19 نئی بستیوں کی منظوری

اسرائیلی وزیر خزانہ کے مطابق مغربی کنارے میں گذشتہ دو برسوں کے دوران نئی بستیوں کی مجموعی تعداد 69 ہو چکی۔

اسرائیل کی کابینہ نے اتوار کو مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 نئی یہودی بستیاں قائم کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی۔

اس کا اعلان انتہائی دائیں بازو کے وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹریچ نے کیا۔

ان میں دو ایسی بستیاں بھی شامل ہیں جنہیں 2005 کے انخلا کے منصوبے کے دوران خالی کر دیا گیا تھا۔ 

مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع کے ایجنڈے کے حامی سموٹریچ نے ایکس پر لکھا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران نئی بستیوں کی مجموعی تعداد 69 ہو چکی۔

انسداد آبادکاری پر نظر رکھنے والے ادارے پیس ناؤ کے مطابق اس منظوری کے بعد موجودہ حکومت کے دور میں مغربی کنارے میں بستیوں کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہو گیا، جو 2022 میں 141 سے بڑھ کر اب 210 تک پہنچ گئی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جاتی ہیں۔

یہ منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی جب امریکہ اسرائیل اور حماس پر زور دے رہا ہے کہ وہ غزہ میں 10 اکتوبر سے نافذ العمل جنگ بندی کے نئے مرحلے کو آگے بڑھائیں۔ 

امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ممکنہ راستے کی بات کی گئی ہے، جسے روکنے کے لیے یہ بستیاں قائم کی جا رہی ہیں۔

پیس ناؤ کے مطابق کابینہ کے فیصلے میں بعض پہلے سے قائم غیر قانونی چوکیوں کو قانونی حیثیت دینا اور اُن زمینوں پر نئی بستیاں قائم کرنا بھی شامل ہے جہاں سے فلسطینیوں کو پہلے ہی بے دخل کیا جا چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا