’ججوں کو ناقابل عمل، کم فہمی پر مبنی فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے‘

سپریم کورٹ کے اردو فیصلہ نافذ کرنے سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ پالیسی امور پر فیصلوں سے جتنا اجتناب کرے اتنا پاکستان کے لیے بہتر ہے۔‘

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ طویل عرصے سے سرکاری خط و کتابت انگریزی میں ہو رہی ہے جسے بدلنے میں کچھ وقت لگے گا (فواد چوہدری/ آفیشل فیس بک پیج)

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ جہاں اردو رائج کر سکیں وہاں فوری طور پر اردو رائج کی جانی چاہیے۔

انہوں نے یہ بات وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک سرکاری مراسلے کے حوالے سے کہی جس میں کہا گیا ہے کہ ’اب سے وزیراعظم عمران خان جس بھی تقریب میں جائیں گے اس کا انعقاد قومی زبان اردو میں ہو گا۔‘

تاہم وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والا یہ مراسلہ اردو زبان کی بجائے انگریزی زبان میں ہے۔

اس حوالے سے جب وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے پوچھا گیا کہ کیا مراسلہ بھی اردو میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟

تو فواد چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مراسلہ اس لیے انگریزی میں ہے کہ دفتری زبان انگریزی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’1859 سے ہمارے ہاں سرکاری خط و کتابت انگریزی زبان میں ہو رہی ہے اس طویل مدت سے جاری پریکٹس کو بدلنے کے لیے وقت درکار ہو گا۔‘

’ہمارے تمام قوانین، رولز اور ریگولیشنز انگریزی میں ہیں۔ اردو کی ترویج  کا مطلب انگریزی کی حوصلہ شکنی نہیں، انگریزی زبان کو بولنا اور سمجھنا ضروری ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’وزیر اعظم سمجھتے ہیں کہ جہاں ہم اردو رائج کر سکیں وہاں فوری طور پر اردو رائج کی جانی چاہیے اور یہ مراسلہ بھی اسی پس منظر کا عکاس ہے۔‘

یہ مراسلہ تمام سرکاری محکموں کو جاری کر دیا گیا ہے جس کا مقصد قومی زبان کا فروغ ہے لیکن کیا یہ اقدام پہلی بار کیا گیا ہے؟

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ جو صرف 24 دن کے لیے چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے اور اس کے بعد ریٹائر ہو گئے تھے انہوں نے اردو کے فروغ اور سرکاری دفتری سطح پر اس کی ترویج کے لیے آٹھ ستمبر 2015 میں  تاریخی فیصلہ دیا تھا۔

اس فیصلے پر ان کے دور میں تو کچھ حد تک ہی عمل ہوا لیکن اس کے بعد سے آج تک وہ عدالتی فیصلہ عمل درآمد کا منتظر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے چیف جسٹس بننے سے پہلے بھی ان کی عدالت میں فیصلہ دو زبانوں میں جاری ہوتا تھا بلکہ سماعت کے اختتام پر جب عدالتی عملے کو مختصر فیصلہ کمرہ عدالت میں لکھوایا جاتا تو وہ اس وقت بھی اردو میں ہی لکھوایا کرتے تھے تاکہ عام سائلین کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس سپریم کورٹ میں ایک اغوا کے مقدمے کی سماعت کے دوران مغوی بچی کے والدین نے میڈیا پر دہائی دی تھی کہ ’انہیں علم نہیں کہ عدالتی کارروائی میں کیا باتیں ہوئیں کیونکہ جج صاحبان انگریزی میں مکالمہ کر رہے تھے۔‘

سپریم کورٹ کے اردو فیصلہ نافذ کرنے سے متعلق جب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ پالیسی امور پر فیصلوں سے جتنا اجتناب کرے اتنا پاکستان کے لیے بہتر ہے۔‘

انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’ججوں کو نا قابل عمل اور کم فہمی پر مبنی فیصلوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔‘

دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس کا مراسلہ منظر عام پر آنے کے بعد سرکاری دفاتر میں انگریزی مراسلوں پر دوبارہ بحث چِھڑ گئی ہے۔

بہت سے صارفین کا یہ کہنا ہے کہ مراسلے کا متن ہے کہ تقریبات کا انعقاد اردو میں ہو گا لیکن وہی بات انگریزی میں کی گئی ہے۔

عدالتی صحافی ثاقب بشیر نے کہا کہ ’‏ماشاءاللہ، اردو کی ترویج کے لیے انگریزی کا نوٹیفکیشن، عمل درآمد بھی اس طرح ہی ہو گا۔‘

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ’سرکاری پریس ریلیز، بیانات، وضاحتی بیانات، پالیسی بیانات، خبریں، فیصلے، نوٹیفکیشن اور سرکاری افسران کی ٹویٹس بھی اگر اردو میں ہوں تو کروڑوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان