ایران صدارتی انتخاب: محسن علی زادہ عہدوں کے متلاشی

مہر علی زادہ معیشت کو ’ملک کی پہلی ترجیح‘ سمجھتے ہیں اور ان کے بقول اگر وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ایران میں ’جرمن اقتصادی پروگرام‘ کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایران کے سابق نائب صدر محسن مہرعلی زادہ نے 13 مئی 2021 کو ایران کے صدارتی انتخابات کے لیے دارالحکومت تہران میں وزارت داخلہ میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)

محسن مہر علی زادہ، جو ایران کے صوبے مشرقی آذربائیجان کے شہر مراغہ میں پیدا ہوئے، ان سات صدارتی امیدواروں میں سے ایک ہیں جنہیں گارڈین کونسل نے اہل قرار دیا ہے۔

اس پینسٹھ سالہ سیاست دان نے یونیورسٹی آف تبریز سے مکینیکل انجینئرنگ میں بیچلرز اور ماسٹر کی ڈگری مکمل کی ہے جبکہ تہران یونیورسٹی سے فنانشل مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ہے۔ وہ ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ٹلبرگ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی رکھتے ہیں۔

مہر علی زادہ کو اس سے قبل دو بار نااہل قرار دیا گیا تھا، ایک بار صدارتی اور ایک بار پارلیمانی انتخابات میں۔

2005 کے صدارتی انتخابات میں مہر علی زادہ کو بالآخر ایران کے اعلی رہنما علی خامنہ ای کے حکومتی فرمان کے ذریعہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی لیکن وہ صرف 1.3 ملین ووٹ یا 5 فیصد سے بھی کم ووٹ حاصل کر سکے۔ یوں وہ چھ دیگر امیدواروں کے خلاف دوڑ میں ساتویں نمبر پر رہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گارڈین کونسل کے ذریعہ مہر علی زادہ کی منظوری کی وجہ ان کا ایک ایسا امیدوار ہونا ہے جو مہر علی زادہ کو ایوان صدر میں تو نہیں لاتا لیکن ووٹرز کی تعداد میں اضافہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

رائے دہندگان کی کم تعداد کے بارے میں حکومت کی تشویش کے پیش نظر یہ دلیل بڑی حد تک قابل فہم معلوم ہوتی ہے۔

 ایران میں ’انتخابات کو نہ‘ کی مہم حالیہ مہینوں میں تیز ہوئی ہے۔ دوسری طرف محمد خاتمی اور روحانی کی اصلاح پسند حکومتوں کے 16 سالہ اصلاحی تجربے سے مایوس بہت سارے ووٹر آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے گریزاں ہیں۔

مہر علی زادہ نے 1979 میں مشرقی آذربائیجان میں ’جہاد سازندگی‘ کے بانی اور سات رکنی وفد کی حیثیت سے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔

اس کے بعد 1982 میں وہ سایپا آٹو موبائل کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر اور ڈپٹی سی ای او بن گئے جس کے بعد وہ اٹامک انرجی آرگنائزیشن کے پاور پلانٹس کے ڈپٹی ڈائریکٹر رہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا، ’میں نے بوشہر پاور پلانٹ شروع کیا، جسے اس سے قبل ترک کر دیا گیا تھا۔‘ وہ کچھ عرصہ کے لیے کیش فری زون آرگنائزیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر بھی رہے۔

یہ صدارتی امیدوار محمد خاتمی کی پہلی حکومت میں چار سال تک خراسان کے گورنر رہے اور محمد خاتمی کی صدارت کے دوسرے دور میں، وہ فزیکل ایجوکیشن کی تنظیم کے نائب صدر اور سربراہ رہے۔ انہیں حسن روحانی کے دور میں 2017 میں اصفہان کا گورنر بھی مقرر کیا گیا تھا۔ وہ ایک سال تک اس منصب پر فائز رہے۔

مہر علی زادہ، جنہوں نے اپنی ممکنہ حکومت کے لیے ’تبدیلی اور انصاف‘ کے عنوان کا انتخاب کیا ہے، خود کو اصلاح پسند امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اصلاحی محاذ کے سربراہ بہزاد نبوی کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے تمام اصلاح پسندوں کے ایک اتفاق رائے میں شامل ہونے اور صدارت کے لیے اپنے منصوبوں کو پیش کرنے کا کہا تھا۔

 دریں اثنا، اصلاحی محاذ یا ریفارم فرنٹ نے گارڈین کونسل کی جانب سے وسیع تعداد میں امیدواروں کی نااہلی کے بعد اعلان کیا تھا کہ اس کے ان صدارتی انتخابات کے لیے کوئی امیدوار نہیں میدان میں نہیں ہے۔ ایران کے اصلاحی محاذ کے ترجمان آذر منصوری نے ٹویٹ کیا کہ ’اصلاحی محاذ ایران کے تمام امیدواروں کی نااہلی کے بعد ہم انتخابات میں فعال طور پر حصہ لینے کے مواقع سے محروم ہوگئے ہیں اور ہم اس میں حصہ نہیں لے پائیں گے۔‘ تاہم اب جب اس مقام پر امیدواروں کے واضح ہونے پر اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا ریفارم فرنٹ صدارتی انتخابات میں اصلاح پسند امیدوار کی حیثیت سے مہر علی زادہ کی حمایت کرتا ہے یا نہیں۔

تاہم، لوگوں کی ایک قابل ذکر تعداد اب اصلاح پسندوں کو زیادہ اہم نہیں مانتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اصلاح پسند امیدوار کی موجودگی یا عدم موجودگی کا انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے پر بہت کم اثر پڑے گا۔

تاہم، حکومتی میڈیا 13 ویں صدارتی انتخابات میں مہر علی زادہ کی موجودگی کو اجاگر کر رہا ہے تاکہ وہ یہ ظاہر کرسکیں کہ اصلاح پسندوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی ہے۔ وہ البتہ مہر علی زادہ کو حکومت کے پسندیدہ امیدواروں بشمول ابراہیم رئیسی کے سنجیدہ حریف کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں۔

کچھ کا خیال ہے کہ اگر مہر علی زادہ ابراہیم رئیسی اور سعید جلیلی جیسے لوگوں کی فتح کے لیے سنگین خطرہ تھے تو وہ علی لاریجانی اور محمود احمدی نژاد یا اسحاق جہانگیری کی طرح نااہل ہو جائیں گے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ نے باران فاؤنڈیشن کے ایک سینیئر رکن محمود زمانی قومی کی مہر علی زادہ کی انتخابی مہم کے سربراہ کے طور پر تقرری کو صدارتی امیدوار مہر علی زادہ کے لیے اصلاح پسندوں کی حمایت کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔

باران فاؤنڈیشن ایک ایسا ادارہ ہے جس کی بنیاد ایران کے سابق صدر محمد خاتمی نے اپنی دوسری میعاد ختم ہونے کے بعد رکھی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ اصلاحی محاذ نے اعلان کیا ہے کہ اس کا ان انتخابات میں کوئی امیدوار نہیں ہے، فارس چیریٹی (انقلابی گارڈز کے قریب) اور آر ایف ای/ آر ایل نے مہر علی زادہ کے لیے ’اصلاحی محاذ آف ایران‘ کی حمایت کو واضح کیا ہے۔ ادھر، ایران کے اصلاحی محاذ نے کہا ہے کہ اس تنظیم کا محمد خاتمی اور اصلاح پسند جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مہر علی زادہ معیشت کو ’ملک کی پہلی ترجیح‘ سمجھتے ہیں اور ان کے بقول اگر وہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ایران میں ’جرمن اقتصادی پروگرام‘ کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عام طور پر مہر علی زادہ کو گذشتہ دو دہائیوں میں ایک سیاست دان کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے، جو انتخابات، خاص طور پر صدارتی انتخابات کی دوڑ میں، خبروں اور سیاسی حلقوں میں اپنا نام برقرار رکھنے اور ایک منصب اور سینیئر پوزیشن حاصل کرنے کے لیے اپنے آپ کو ایک امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اس خیال کے ماننے والوں کو یقین ہے کہ مہر علی زادہ لازمی طور پر صدر کے عہدے کے لیے نہیں بلکہ وزارت، نائب صدر یا حتی کہ گورنر بننے کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

کونسل انتخابات کے پچھلے دور میں جب تہران کے میئر کی تقرری کا معاملہ اٹھایا گیا تھا تو مہر علی زادہ کے آس پاس کے کچھ لوگوں نے اس عہدے کے لیے ان کا نام ایک اہم امیدوار کی حیثیت سے خبروں اور سیاسی حلقوں میں پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اگرچہ وہ روحانی حکومت میں اصفہان کی گورنری تک پہنچنے میں کامیاب رہے تھے، لیکن وہ تہران کے میئر کے عہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ وہ اعلی عہدوں کے لیے کوشش کرتے ہیں، لیکن نچلی سطح کے عہدے ملنے پر بھی وہ مطمئن رہتے ہیں۔

 مہر علی زادہ نے گذشتہ 40 سالوں سے اقتدار میں رہنا سیکھا ہے اور عام طور پر اہم خبروں اور سیاسی پیشرفتوں پر زیادہ تبصرہ نہیں کرتے ہیں اور اس عادت نے انہیں سائے میں رہنے اور عہدوں کے انتظار کرنے میں مدد دی ہے۔ سرکاری عہدوں کا شکار بظاہر اس کی خصوصیت بن گئی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون اس سے قبل انڈی فارسی پر شائع ہوچکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ