لاہور میں دو سال سے کوئی درخت نہیں کاٹا گیا: پی ایچ اے

ڈائریکٹر جنرل جواد قریشی کے مطابق: ’پی ایچ اے چاہتی ہے کہ اس طرح کا ماحول بنائیں کہ شہد کی مکھیاں واپس آئیں، تتلیاں واپس آئیں، جگنو واپس آئیں، لیکن یہ سب آہستہ آہستہ ہوگا۔ ابھی تو صرف شروعات ہوئی ہے۔‘

 پی ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل جواد قریشی کے مطابق  درخت نہ کٹنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان دو سالوں میں ایسے ترقیاتی منصوبوں پر بہت کم کام ہوا جن میں درختوں کی کٹائی ناگزیر ہوتی ہے (تصویر: پی ایچ اے)

پنجاب ہورٹی کلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں لاہور شہر میں کوئی درخت نہیں کاٹا گیا اور اب پی ایچ اے شہر میں لگے تمام درختوں کی گنتی کرکے ریکارڈ مرتب کرے گی جو اتھارٹی نے خود لگائے ہیں۔

پی ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل جواد قریشی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پی ایچ کا دعویٰ ایک طرف لیکن اس وقت جو حالات ہیں ان میں درخت کاٹنا کوئی عقل مندی نہیں ہے۔ درخت نہ کٹنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان دو سالوں میں ایسے ترقیاتی منصوبوں پر بہت کم کام ہوا جن میں درختوں کی کٹائی ناگزیر ہوتی ہے۔‘

جواد قریشی کے مطابق: ’جہاں درخت کاٹنے کی ضرورت پڑی وہاں ہم نے انہیں بچانے کی پوری کوشش کی ہے۔ اس لیے اگر درخت کٹے بھی تو بہت کم جیسے دس، 20 یا 25 کی تعداد میں۔ وہ بھی شاید کسی سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے۔ اس وقت درخت نہ کاٹنے کی پالیسی پر مستعدی سےعمل ہو رہا ہے اور اس معاملے میں عدالتوں کی جانب سے بھی سختی کی جا رہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت پی ایچ اے کا ہدف مزید نئے درخت لگانا ہے۔ خاص طور پر مقامی اور پھلوں کے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ ’ہم اس وقت جتنے بھی درخت لگا رہے ہیں ان کا حساب کتاب رکھیں گے کہ پی ایچ اے نے شہر میں کس جگہ کتنے درخت لگائے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم درختوں کی نہ صرف جیو ٹیگنگ کریں گے بلکہ ان کی اقسام کا بھی ایک ریکارڈ تیار کریں گے کیونکہ ہمارے بہت سے مقامی درخت اب ناپید ہو گئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان مقامی درختوں کو واپس لائیں۔‘

جواد قریشی کا کہنا تھا: ’لاہور میں رہنے والوں کو اندازہ ہو گیا ہے کہ اب یہاں پرندوں کے نام پر صرف کوے یا چیلیں ہی دکھائی دیتی ہیں، جو کہ بہت دکھ کی بات ہے۔ پی ایچ اے چاہتی ہے کہ اس طرح کا ماحول بنائیں کہ شہد کی مکھیاں واپس آئیں، تتلیاں واپس آئیں، جگنو واپس آئیں، لیکن یہ سب آہستہ آہستہ ہوگا۔ ابھی تو صرف شروعات ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پی ایچ اے کہیں یہ دعویٰ نہیں کر رہا کہ ہم نے مسئلہ حل کردیا ہے لیکن ہم یہ دعویٰ ضرور کر رہے ہیں کہ ہم اس ماحولیات کے مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔‘

ڈی جی پی ایچ کے مطابق وہ یہ نہیں جانتے کہ دو برس سے میگا پراجیکٹس پر کام کیوں ںہیں ہوا البتہ ابھی حکومت نے کچھ منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔ ’ہم نے اس پر عدالت سے رابطہ کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ اگر کسی منصوبے میں 15 سے 20 درخت بھی راستے میں آرہے ہیں تو ہم ان کو وہاں سے اکھاڑ کر کہیں اور لگا دیں گے اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا تو عدالت نے دوسرا راستہ یہ بتایا ہے کہ جتنے درخت کٹیں گے، ہر ایک درخت کے بدلے ہم دس سے 20 درخت کسی اور جگہ لگائیں گے اور اس کے پیسے ہمیں ایل ڈی اے دے گا۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ درخت لگائے جائیں۔‘

جواد قریشی کا کہنا تھا کہ انہیں ڈی جی کی کرسی سنبھالے ایک برس بیت چکا ہے۔ ’ہم نے اس دوران تین ساڑھے تین لاکھ درخت لگائے ہیں اور یہ کوئی خام خیالی نہیں ہے بلکہ ہم نے وہ درخت حقیقت میں لگائے ہیں اور میں ان کو مانیٹر بھی کر رہا ہوں۔ یہاں تک کہ وزیراعظم نے بھی ان درختوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔‘

لاہور میں گذشتہ چند برسوں میں بننے والے میگا پراجیکٹس کے حوالے سے ڈویلپمنٹ کے مختلف شعبوں کی انوائرنمنٹ امپیکٹ اسیسمنٹ رپورٹس کے مطابق لاہور میں اب تک 3000 سے زیادہ درخت کاٹے جا چکے ہیں جبکہ یہاں کی مقامی جھاڑیاں اور گھاس وغیرہ اس کے علاوہ ہے۔

ان رپورٹس کے مطابق اقبال ٹاؤن اور گلاب دیوی انڈر پاس کی تعمیر کے نتیجے میں بھی تقریباً 45 درختوں کو اکھاڑ دیئے جانے کا امکان ہے جبکہ لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے میں ارجن، ڈھاک، مہوا، بہارا، الستونیا، اشوکا، شیشم، الٹا، کینیر، ویپنگ ولو، پیپل، سنبل، بیری، سکھ چین اور چنار جیسے مختلف اقسام کے 620 درخت اور جڑی بوٹیاں ختم کر دی گئیں۔ لبرٹی سے شادمان چوک تک کے گلبرگ سگنل فری پراجیکٹ کے لیے 196 درختوں کی قربانی دی گئی جبکہ حکام نے کینال روڈ کو وسیع کرنے کے منصوبے کے لیے بھی تقریباً 1300 درختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا، جن میں متعدد پھلوں کے درخت خصوصاً جامن اور آم کے درخت بھی شامل تھے۔

اسی طرح رپورٹس کے مطابق فردوس مارکیٹ والے انڈر پاس اور لاہور میٹرو بس پراجیکٹ کے قریب بھی ہائی ٹینشن ٹرانسمیشن لائن ڈالنے کے لیے کافی درخت کاٹے گئے۔

دنیا بھر کی ایئر کوالٹی انڈیکس کی بات کریں تو آٹھ جون کی شام چھ بجے لاہور شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پانچویں نمبر پر تھا۔ ( یہ ریٹنگ ہر گھنٹے میں تبدیل ہوتی رہتی ہے)۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ماہر ماحولیات رافع عالم نے بتایا: ’یہ کہنا درست نہیں کہ ترقیاتی منصوبوں پر کام نہیں ہو رہا۔ میں نے دسمبر 2019 میں عدالت میں کیس فائل کیا تھا جس میں جلو پارک کے قریب لیسکو کی جانب سے درخت کاٹنے کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔ وہ درخت پی ایچ اے کی زمین پر تھے۔ دو ہفتے پہلے بھی لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد کریم نے فیروز پور روڈ پر گلاب دیوی ہسپتال کے قریب بننے والے انڈر پاس کے نتیجے میں کٹنے والے درختوں کا نوٹس لیا تھا۔ وہاں بھی درخت کٹ رہے ہیں مگر اس کیس کے اندر معزز جج کو بتایا گیا تھا کہ ان درختوں کو نکال کر کہیں اور لگا دیا جائے گا۔‘

رافع عالم کے مطابق: ’معزز جج نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا کسی درخت کو ایک جگہ سے اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانا مناسب ہوگا تو میں نے انہیں بتایا تھا کہ اگر درخت بڑا ہے اور آپ اسے جڑوں سے نکالتے ہیں تو اس کے بچنے کا امکان صرف 50 فیصد ہوتا ہے۔ یہ درختوں کے لیے موت کی سزا سنانے کے مترادف ہوگا، لیکن یہ بات درست ہے کہ کافی حد تک تقریباً ڈیڑھ برس سے لاہور میں کوئی درخت نہیں کاٹے گئے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جہاں تک اورنج لائن کی بات ہے تو اس کا روٹ درختوں کے قریب سے نہیں گزرتا۔ وہ جی ٹی روڈ سے گزرتی ہے اور آگے ملتان روڈ کے اوپر سے گزرتی ہے۔ اس علاقے میں درختوں کی کوئی خاص تعداد نہیں ہے لیکن اورنج لائن ٹرین کی بجلی کے لیے لیسکو کو نہر سے ایک ٹرانسمیشن لائن کھینچنی پڑی تھی جس کی وجہ سے درخت کاٹنے پڑے تھے، کیونکہ اورنج لائن کی پاور سپلائی کے لیے انہیں نئی ٹرانسمیشن لائن لگانے کی ضرورت تھی۔

رافع عالم کے مطابق گذشتہ 25 سالوں میں لاہور شہر کا رقبہ چار سے چھ گنا بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے ہماری ہریالی سیمنٹ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ یہاں مزید سڑکیں اور گھر بن چکے ہیں۔ مسئلہ صرف درختوں کا نہیں بلکہ یہ شہر اور گرد و نواح کے پھیلاؤ کا مسئلہ ہے۔ جتنا ہمارا شہر پھیلا ہے، اس کی وجہ سے ہمارے ہاں ہریالی کم ہوئی ہے، لیکن گذشتہ دو برس میں لاہور میں جتنے بھی درخت لگے ہیں وہ بے مثال ہیں اور ان کا فائدہ ہم آنے والے 20، 25 سال میں دیکھیں گے۔

دوسری جانب ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ گذشتہ دو برس میں کوئی میگا پراجیکٹ یا انڈر پاس لاہور میں نہیں بنا۔ ہم نے فردوس مارکیٹ والا لعل شہباز قلندر انڈر پاس مکمل کیا ہے، وہ ایک میگا پراجیکٹ تھا۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ درخت نہیں کٹے، اگر کٹے بھی تو بہت معمولی تعداد میں جس سے ماحولیات کو کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پنجاب حکومت ترقیاتی پراجیکٹس پر کام کر رہی ہے، جن میں سب سے پہلے لاہور کی اپ گریڈیشن ہے۔ اس میں بھی شمالی لاہور کو سرفہرست رکھا گیا ہے اور وہاں کی گلیاں اور سڑکیں بجٹ کے فوری بعد اپ گریڈ ہونا شروع ہو جائیں گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات