وادی نیلم: 'سال میں ستر ہزار سبز درخت جلانے کے لیے کٹتے ہیں'

فاریسٹ آفیسر غلام احمد بٹ  نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ' سردیوں میں جب برفباری ہوتی ہے تو وہاں ہر گھر کے لیے کم از کم دو درخت جلانے کے لیے کاٹے جاتے ہیں، لوگوں کا دارومدار وہاں جنگل پر ہی ہے۔'

1947 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی آبادی 48،000 تھی جبکہ نیلم کی آبادی 12،000 سے 15،000 تھی۔ اس وقت نیلم کی آبادی دو لاکھ ہے۔

نیلم کا کل رقبہ نو لاکھ تئیس ہزار ایکڑ ہے جس کے چھ لاکھ ستتر ہزار ایکڑ رقبہ پر جنگلات ہیں۔

دو ڈھائی لاکھ ایکڑ لوگوں کے پاس ہے لیکن اب جنگلات کی کٹائی اور اور آبادی کی جنگل کی زمین میں دخل اندازی کی وجہ سے جنگل دن بدن کم ہو رہا ہے جس کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ 
غلام احمد بٹ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر نیلم کیرن ڈویژن نے بتایا کہ' سردیوں میں جب برفباری ہوتی ہے تو یہاں ہر گھر تقریباً دو درخت جلانے کے لیے کاٹتا ہے، یہاں کے لوگوں کا دارومدار جنگل پر ہے۔'

'ان لوگوں کو چولہا جلانے کے لیے، کمرہ گرم کرنے کے لیے اور مکان بنانے کے لیے لکڑی کی ضرورت پڑتی ہے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ سالانہ ساٹھ سے ستر ہزار سبز درخت کاٹے جاتے ہیں۔'

'لیکن اس کے علاوہ ان کے پاس متبادل ذرائع موجود نہیں ہیں۔ میں نے 2009 اور 2015 میں گورنمنٹ کو لکھا میرے بعد ڈی ایف اور نصیر نے بھی لکھا کہ جب تک نیلم کے لوگوں کو متبادل ذرائع نہیں دیے جائیں گے تو ان کا دباؤ جنگل پر رہے گا۔ جہاں پر آٹھ سے دس فٹ برف پڑتی ہے وہاں پر وہ لکڑی نہ جلائیں تو اور کیا جلائیں؟' 

'پرانے لوگ بتاتے ہیں ضلع مظفرآباد اور ضلع باغ میں بھی لوگ لکڑی جلاتے تھے کیونکہ ان کے پاس متبادل ذرائع نہیں تھے۔ اب جب ان کے پاس متبادل ذرائع جیسے بجلی، ایل پی جی وغیرہ آ گئے ہیں تو اب وہاں پر کوئی لکڑی نہیں جلاتا کیونکہ ان کے پاس متبادل ذرائع ہیں۔'

'گورنمنٹ کو چائیے کہ ایل پی جی سبسڈی قیمت پر دیں۔ یہاں پر نالے ہیں، دریا ہے، ان پر ہائیڈرل یونٹ لگائیں اور عوام کو مفت بجلی 24 گھنٹے دیں تو یہ لکڑی جلانے والا رواج ختم ہو جائے گا اور جنگلات کی کٹائی رک سکتی ہے۔ غیر قانونی درخت کاٹنے پر ہم لوگوں کے خلاف کارروائی بھی کرتے ہیں اور ان سے جرمانہ لے کر سرکاری خزانے میں جمع بھی کرتے ہیں۔' 

انہوں نے بتایا کہ 'نیلم میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور زمین ان کے پاس کم ہے۔ جو زمین ہے اس میں انہوں نے زراعت بھی کرنی ہے اس میں مال مویشی بھی پالنے ہیں اور اس میں ہی مکانات بھی بنانے ہیں۔ اس لیے زیادہ دباؤ جنگل کی طرف ہے۔ وہ جنگل میں تجاوزات کرنا چاہتے ہیں اور کرتے بھی ہیں کہیں فصل لگاتے ہیں کہیں مکان بناتے ہیں۔'

'نیلم ویلی میں  گولہ باری کا سلسلہ عرصہ بیس بائیس سال سے جاری ہے۔ انڈین آرمی جو آگ لگانے والا گولہ پھینکتی ہے اس سے ہمارے جنگلوں میں آگ لگ جاتی ہے۔ صرف ان آٹھ دس سالوں میں لاکھوں مکعب فٹ لکڑی جل گئی۔' 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

'یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ ہم آگ کو فوراً بجھا بھی نہیں سکتے، مسلسل فائرنگ ہوتی رہتی ہے۔ جب ہمارا عملہ آگ بجانے جاتا ہے اس وقت بھی انڈین آرمی فائرنگ کرتی ہے۔ '

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک پالیسی کے مطابق ہر سال ٹی ٹی کوٹہ دیتی ہے۔ جس میں ہم جنگل کے قریب رہنے والے لوگوں کو کائل کا ایک ایک درخت دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی عمارتی ضروریات پوری کریں گے لیکن وہ نہیں کرتے،یہاں کے لوگ بڑے مکانات بناتے ہیں۔ یہ مکان بنانے کے لیے ایک درخت کافی نہیں ہوتا۔ ایک مکان بنانے میں چار سے پانچ درخت لگتے ہیں۔ تو وہ ناجائز طور پر دو تین مزید دیودار اور کائل کے درخت کاٹتے ہیں۔  

'جب سے محکمہ اکلاس بنا ہے تو محکمہ جنگلات اور اکلاس نے چھ کروڑ مکعب فٹ لکڑی نکالی ہے۔ محکمہ جنگلات تو صرف خشک اور گری پڑی لکڑی کی نکاسی کرتا ہے لیکن محکمہ اکلاس نے سبز درجت بھی کاٹے ہیں۔'

سماجی ورکر راجہ امیر خان نے بتایا کہ 'نیلم میں جنگلات کا رقبہ دن بدن سکڑ رہا ہے اگر جنگلات کی کٹائی کو روکا نہ گیا تو سو سال میں نیلم کے جنگلات ختم ہو جائیں گے۔ جس سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہوں گی'۔ 

'نیلم کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے اور نیلم کا حسن سر سبز جنگلات سے ہے۔ ہر سال یہاں لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ اگر جنگلات اس رفتار سے کم ہوتے رہے تو یہاں پر سیاحت پر بھی منفی اثرات پڑیں گے۔' 

غلام احمد بٹ نے بتایا کہ 'نیلم کے جنگلات کو کم کرنے میں سمگلر بھی شامل ہیں۔ محکمہ جنگلات نے اس سال سمگلروں کی گاڑیاں ضبط کر کے جرمانے لے کر پانچ لاکھ روپے حکومتی خزانے میں جمع کروائے ہیں۔ 'ا

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات