’بجٹ ایسا ہونا چاہیے کہ غریب عوام سیٹ رہے‘

انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کے کچھ بڑے شہروں میں لوگوں سے جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر وہ اس بجٹ سے کیا توقع رکھتے ہیں۔

بجٹ کے موضوع پر انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرنے والوں میں سے اکثریت نے مہنگائی کی شکایت کی (سکرین گریب)

پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت مالی سال 22-2021 کا بجٹ آج (جمعے کو) پیش کر رہی ہے، جس میں شرح نمو میں اضافے کے ساتھ ساتھ مجموعی اخراجات پر توجہ دیے جانے کا امکان ہے۔

اپنے دور میں ملکی شرح نمو میں اضافے اور معیشت کی بحالی کا ارادہ رکھنے والے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین بجٹ تقریر میں آئندہ مالی سال کے لیے ترقی کا نیا ہدف مقرر کر سکتے ہیں۔

لوگوں نے یہ بھی کہا کہ بجٹ میں کمزور طبقے کے لوگوں کی ضرورتوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ سروے کے دوران مزید کیا جواب ملے جانیے اس ویڈیو میں۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ معاشی نمو، ملازمتوں کے بہتر مواقع، کرونا وبا کے تناظر میں امدادی اقدامات اور مالی عدم توازن کی درستگی بجٹ کی نمایاں خصوصیات ہو سکتی ہیں۔

مزید یہ کہ بجٹ میں انفراسٹرکچر، زراعت، مینوفیکچرنگ سیکٹر کے ساتھ ساتھ تعمیرات اور مکانات بنانے کی حوصلہ افزائی کے لیے مراعات فراہم کرنا حکومتی ترجیح نظر آتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم عوام کی بجٹ سے خواہشات اور توقعات کچھ مختلف ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو نے پاکستان کے کچھ بڑے شہروں میں لوگوں سے جاننے کی کوشش کی ہے کہ آخر وہ اس بجٹ سے کیا چاہتے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر نے مہنگائی کی شکایت کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان پر زور دیا کہ وہ روز مرہ کی اشیا کی قیمتیں نیچے لانے کے لیے اقدامات کریں۔

اسی طرح کچھ لوگوں نے مہنگی بجلی پر تشویش کا اظہار کیا تو کچھ نے کہا کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا