اسلام آباد یونائیٹڈ کی ریکارڈ ساز فتح، کراچی کنگز کا سفر جاری

لاہور قلندرز کی کراچی کنگز کے ہاتھوں شکست نے اس کی پوزیشن کو ایک بار پھر اگر مگر میں لا کھڑا کردیا۔

کراچی کے لیے یہ میچ جیتنا بہت ضروری تھا کیونکہ شکست کی صورت میں وہ پلے آف سے باہر ہو سکتی تھی(پی سی بی)

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے سیزن میں جمعرات کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز نے اپنے اپنے میچ جیت لیے۔

کراچی کے لیے یہ میچ جیتنا بہت ضروری تھا کیونکہ شکست کی صورت میں وہ پلے آف سے باہر ہو سکتی تھی۔ دوسری طرف لاہور قلندرز کی جیت اسے پلے آف کی ٹکٹ دلا دیتی۔

کراچی کے کپتان عماد وسیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اب تک سب ہی ٹاس جیت کر فیلڈنگ کرتے آئے تھے۔

اوپنر شرجیل ایک بار پھر جلدی آؤٹ ہوگئے لیکن بابر اعظم (54) اور مارٹن گپٹل (43) نے 88 رنز کی پارٹنر شپ کر کے ایک بڑے سکور کی بنیاد رکھ دی۔

بابر آج خوش قسمت رہے کہ ان کے تین آسان کیچ چھوڑ دیے گئے۔

کراچی کے سکور کو 176 رنز تک پہنچانے میں عماد وسیم کا بھی ہاتھ تھا کیونکہ انھوں نے 30 رنز بنائے۔

لاہور کی بولنگ اور فیلڈنگ غیر معیاری رہی جس کا کراچی نے پورا فائدہ اٹھایا۔ لاہور کے لیے 177 کا ہدف زیادہ مشکل نہیں تھا لیکن ان کی بیٹنگ مایوس کن رہی۔

فخر زمان اور محمد حفیظ جیسے تجربے کار بلے باز 16 سالہ افغان بولر نور احمد کے سامنے پریشان نظر آئے۔ نور کے چار اوورز نے میچ کو بدل دیا۔

لاہور کے بلے بازوں کی خراب بیٹنگ نے میچ کو کراچی کی جھولی میں ڈال ہی دیا تھا لیکن ٹم ڈیوڈ اور جیمس فالکنر نے 24  گیندوں پر 58 رنز بنا کر میچ دوبارہ لاہور کی طرف موڑ دیا۔

تاہم دونوں کے آؤٹ ہونے کے بعد یہ ہدف عبور نہ ہوسکا اور کراچی کنگز نے میچ سات رنز سے جیت لیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ پشاور زلمی

ایک ایسا میچ جس میں دونوں ٹیموں کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں تھا ریکارڈ ساز بن گیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ نے صرف دو وکٹ پر 247 رنز بنا کر پی ایس ایل کا سب سے بڑا سکور بنا دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عثمان خواجہ نے شاندار سنچری سکور کی جبکہ آصف علی نے جارحانہ 43 اور برینڈن کنگ نے 46 رنز بنائے۔

پشاور نے بھی اس بڑے سکور کا اچھا جواب دیا اور مقررہ اوورز میں 232 رنز بنا کر اپنی مضبوط بیٹنگ کا ثبوت دے کرسب سے بڑے جوابی سکور کا ریکارڈ بنایا۔

پشاور کی طرف سے شعیب ملک نے 68، کامران اکمل نے 53 اور ردھر فورڈ نے تیزی سے 29 رنز بنائے۔

میچ کا تیسرا ریکارڈ اسلام آباد کے ظفر گوہر نے اپنے چار اوورز میں 65 رنز دینے کا بنایا۔

اگرچہ اس میچ کی ہار جیت سے دونوں ٹیموں کے پوزیشن پر کوئی اثر نہیں پڑا لیکن شائقین کو چوکوں چھکوں کی بارش ضرور دیکھنے کو ملی۔

پی ایس ایل کے پلے آف کے لیے بقیہ تین میچ بہت اہمیت کے حامل ہیں جن میں فائنل کے مرحلے میں جانے والی دو ٹیموں کا انتخاب ہونا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ