بیٹا اور بیٹی پی ٹی آئی میں مگر منظور وٹو کے پیپلز پارٹی سے رابطے

سیاسی رہنما اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہنے والے منظور احمد وٹو کہتے ہیں کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی کا قومی اسمبلی میں کردار دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے۔

منظور وٹو کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ نہ دی تو آئیندہ انتخابات میں مقابلہ نہیں کر سکے گی (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے ایوانوں کے 20 سال سے زائد عرصے تک رکن رہنے والے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو کا کہنا ہے کہ اس حکومت میں قومی اسمبلی کا حال دیکھ کر وہ شکر ادا کرتے ہیں کہ وہ ایسے ایوان کا حصہ نہیں۔

وٹو خاندان 1985کے بعد ہر دور حکومت میں اقتدار کے ایوانوں میں کسی نہ کسی صورت میں نظر آیا لیکن 2018 کے عام انتخابات میں اوکاڑہ سے میاں منظور وٹو آزاد جبکہ ان کے بیٹے خرم جہانگیر وٹو اور صاحبزادی روبینہ شاہین وٹو پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر صوبائی نشست پر میدان میں آئے مگر الیکشن نہ جیت سکے۔

میاں منظور وٹو کے بیٹے اور بیٹی اب بھی پی ٹی آئی میں ہیں جبکہ وہ خود پیپلز پارٹی میں فعال کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں کیونکہ اس سے قبل بھی وہ پیپلز پارٹی کی حمایت سے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے اور پارٹی کے صوبائی صدر بھی رہے۔

 

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گتفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی قومی  اسمبلی میں جو کردار ادا کر رہی ہے وہ دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے کیونکہ کوئی بھی حکومت اپوزیشن کے مقابلے میں مزاحمت کی سیاست سے اجتناب کرتی ہے تاکہ ایوان منظم چلتا رہے۔

منظور وٹو کے مطابق ’جس طرح حکومت کے اراکین کا طرز سیاست ہے اس پر انہیں جوائن کرنا ممکن نہیں، کیونکہ سیاست میں بھی اقدار ہوتی ہیں اور احترام ہوتا ہے مخالفین کی مخالفت کا بھی ایک مناسب طریقہ ہوتا ہے۔‘

ان سے پوچھا گیا کہ تینوں جماعتوں میں سے کس میں شمولیت کا امکان ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اختلافات کی وجہ سے مسلم لیگ ن میں تو کسی صورت نہیں جائیں گے نہ ہی پی ٹی آئی کے ساتھ۔

سابق وزیر اعلیٰ کے مطابق پیپلز پارٹی سے پرانے مراثم کو اہمیت دیتے ہوئے وہ ان کے ساتھ سیاسی کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اس سے پہلے بھی پیپلز پارٹی کی قیادت سے رابطے جاری تھے اور زرداری صاحب دورہ لاہور پر ہیں تو ان سے بھی ملاقات ممکن ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منظور وٹو کا مزید کہنا تھا کہ اگر حکومت نے ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ نہ دی تو آئندہ انتخابات میں مقابلہ نہیں کر سکے گی۔

حکومت کی مدت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ حکومت کو پانچ سال مدت پوری کرتے دیکھتے ہیں مگر اگلے عام انتخابات میں کسی جماعت کو واضع اکثیریت ملتے دکھائی نہیں دے رہی۔

ان کے بقول کوئی جماعت اتنی مضبوط نہیں دکھتی کہ اکیلے حکومت بنا لے اور 2023 کے انتخابات میں وہ اتحادی حکومت ہی بنتے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کا حال دیکھ کر وہ شکر کرتے ہیں کہ اس کا حصہ نہیں۔

ان کے مطابق صرف پنجاب کا ایوان بہتر چل رہا ہے کیونکہ پرویز الہی تجربہ کار سیاست دان ہیں اور وہ حکومتی یا اپوزیشن اراکین کو بدنظمی کرنے سے روکنے میں کامیاب ہیں۔ ’اگر وہ نہ ہوں تو پنجاب اسمبلی پارلیمنٹ سے بھی زیادہ بڑا اکھاڑا بنی ہو۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا