طالبان کا کئی اضلاع پر قبضے کا دعویٰ مگر پورے ملک پر ’قبضہ ناگزیر نہیں‘

افغان امور پر برسوں کا تجربہ رکھنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز میں ناقص قیادت، بدعنوانی اور نسلی تقسیم نے طالبان کو فائدہ پہنچایا ہے۔

28 مارچ 2021 کو لی گئی اس تصویر میں طالبان مخالف ملیشیا کا ایک رکن صوبہ ہلمند میں لشکر گاہ کے نواح میں واقع مختار گاؤں میں طالبان کے ساتھ جاری لڑائی کے دوران بھاری مشین گن فائر کر رہا ہے (اے ایف پی)

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ افغان طالبان انخلا کے ایک سال کے اندر کابل پر قبصہ کر سکتے ہیں، لیکن ایسا ہونا ناگزیر نہیں ہے اور اس کا انحصار ایک بہتر افغان دفاعی فورس پر ہو گا۔

چونکہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ جنگ زدہ افغانستان میں ’باغی‘ دوبارہ اقتدار حاصل کر سکتے ہیں اس لیے افغان امور پر برسوں کا تجربہ رکھنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز میں ناقص قیادت، بدعنوانی اور نسلی تقسیم نے طالبان کو فائدہ پہنچایا ہے۔

اس کے علاوہ اس سب کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ صدر اشرف غنی کی ’پریشان حال‘ حکومت کتنی دیر قائم رہ سکتی ہے۔

واشنگٹن کے ذریعے ستمبر کو انخلا کی آخری تاریخ طے کرنے کے بعد سے طالبان نے افغانستان کے 400 اضلاع کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ دوسری جانب جمعے کو اشرف غنی وائٹ ​​ہاؤس میں امریکی ہم منصب جو بائیڈن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

بدھ کو وال سٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا کہ امریکی انٹیلی جنس کی ایک نئی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ طالبان امریکی انخلا کے چھ سے 12 ماہ کے اندر اندر ملک کے دارالحکومت کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔

’ایسا نہیں ہے کہ طالبان کو روکا نہیں جا سکتا‘

بین الاقوامی کرائسس گروپ کے اینڈریو واٹکنز نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’واقعی حکومت کو جس طرح علاقے چھننے کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی شدت اور رفتار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں نے جن اضلاع پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے وہ ’زیادہ تر ملک کے مضافات میں واقع ہیں جن کی فوجی اور تزویراتی اہمیت کم ہے۔ وہاں ان علاقوں میں فوری طور پر کوئی کارروائی کرنے یا پھر فوج بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چند علاقے ٹرانسپورٹ کے راستوں پر ہیں اور صوبائی دارالحکومتوں کے اطراف ہیں۔‘

اینڈریو واٹکنز نے بتایا ہے کہ ’طالبان ملک کے بڑے شہروں کے اطراف میں اپنے ٹھکانوں کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ وہ ماضی قریب میں ان شہروں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں۔‘

ان کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز کی گذشتہ ایک سال کے دوران طالبان پر امریکی فضائی حملے کرنے والی مدد ختم ہو گئی ہے  اور ان کی اپنی فضائیہ کو کمزور کیا جا سکتا ہے اگر ہزاروں امریکی ٹھیکیدار جو افغان طیاروں کو اڑا رہے ہیں ستمبر میں امریکہ روانہ ہو جائیں۔

پینٹاگون کے سابق اہلکار اور سی این اے کنسلٹینسی میں افغان سکیورٹی امور کے ماہر کارٹر ملکاسیان نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ’فوری طور پر ممکن نہیں ہے کہ طالبان کابل میں داخل ہو جائیں۔‘

البتہ ان کا کہنا ہے کہ ایسا ایک سال کے دوران آسانی سے سوچا جا سکتا ہے کیونکہ خطے کے دارالحکومتوں کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ملکاسیان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ قندہار یا مزار شریف جیسے بڑے شہروں کے نقصانات کا جائزہ لیں تو میں کابل پر قبضے کے لیے فکر مند ہونا شروع ہوں گا۔‘

’ہدف حوصلے پست کرنا ہے‘

جیمز ڈوبنز افغانستان کے لئے امریکہ کے سابق نمائندے اور اب رینڈ کارپوریشن کے ماہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ توقع کر رہے ہیں کہ لڑائی بڑھتی جائے گی۔

انہوں نے کہا فی الحال ’طالبان کو کچھ برتری حاصل ہے لیکن اس کا فائدہ ان کو صرف ان دیہی علاقوں میں ہوگا جہاں ان کے حامی موجود ہیں۔‘

شہروں میں ان کو 1996 میں قبضہ کرنے کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اب ملک میں زیادہ آبادی ہے، زیادہ جدت آگئی ہے، روابط زیادہ ہیں اور سب کو اپنے طریقے پر چلانا مشکل ہے۔

ان کے مطابق ’ان علاقوں میں طالبان کے زیادہ حمایتی نہیں ہیں جہاں انتظامی ڈھانچہ مضبوط ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کابل اب 50 لاکھ افراد کا شہر ہے۔ یہ وہ شہر نہیں ہے جس پر طالبان نے احری بار قبضہ کیا تھا۔ اور میرے خیال میں اس کو قابو میں کرنے میں انہیں مشکل وقت سے گزرنا پڑے گا۔‘

بین الاقوامی کرائسس گروپ کے اینڈریو واٹکنز کا کہنا ہے کہ افغان فوج وہ کر رہی ہے جو اسے کرنا چاہیے۔ وہ اپنا کام سمیٹ کر زیادہ آبادی والے علاقوں کا دفاع کرنے پر توجہ دے رہی ہے اور اعلی عہدیداروں کی تبدیلی سے اس کی کارکردگی پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

اپنا ہاتھ اوپر رکھنا

افغان سکیورٹی امور کے ماہر کارٹر ملکاسیان کا کہنا ہے کہ طالبان کی ساری توجہ عوام کا حکومت پر سے اعتبار ختم کرنے اور مورال گرانے پر مرکوز ہے۔ اس طرح وہ آئندہ حکومت سازی کے بارے میں مذاکرات میں اپنا ہاتھ اوپر رکھ رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ امن مذاکرات عسکریت پسندوں کے لیے کافی اہم ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعے ساکھ بنا سکیں اور آخر کار حکومت میں آسکیں۔

’آپ سب کو مبارک ہو‘

افغان طالبان نے حالیہ چند واقعات کے بعد ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ان کی جانب سے عام عوام سمیت افغان فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر شہریوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔

طالبان کی جانب سے جاری کیے گئے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمارے ملک کے لوگ جانتے ہیں کہ اسلامی امارات کے مجاہدین نے اللہ کی مدد اور لوگوں کی حمایت سے پڑا علاقہ، کئی اضلاع، اڈے، چیک پوسٹ اور سیگر مراکز دشمن سے خالی کرا لیے ہیں۔‘

’اس صورتحال میں جبکہ ابھی مزید کام ہو رہا ہے ہم اپنے مجاہدین اور عام عوام پر کچھ چیزیں واضح کرنا چاہتے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ  واضح فتح تمام مسلمانوں اور مجاہد افغان قوم کی فتح ہے۔ ہم سب کو اس موقع پر مبارک باد دیتے ہیں اور مقدس جہاد کے مقاصد کو حاصل کرنے کی امید دلاتے ہیں۔‘

’چونکہ اسلام امارات مختلف قبلیوں، علاقوں اور گروہوں پر مشتمل ہے اور تمام عوام کی نمائندہ قوت ہے اس لیے ہم تمام شہریوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ کسی کے ساتھ بھی جارحانہ اور امتیازی رویہ نہیں اپنایا جائے گا۔‘

بین میں شہریوں، فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو مخطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہم پھر سے فوجیوں، پولیس اہلکاروں، ملیشیا اور دشمن کی صفوں میں موجود ارکان کو دعوت دیتے ہیں کہ اسلام امارات کی جانب آجائیں۔ ہم ان کا خیرمقدم کریں گے اور انہیں ان کے خاندان والوں کے پاس بھیجنے کی مکمل یقین دہانی کراتے ہیں۔‘

’وہ تمام سابق حکام اور سپاہی جو مخالفت چھوڑ کر مجاہدین کی پناہ میں ہیں، اعتماد کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا