پی ایس ایل 6 فائنل: زازئی یا دھانی، اپنی ٹیم کی قسمت کون بدلے گا؟

اگر حضرت اللہ زازئی کا بیٹ فائنل میں بھی چل گیا تو پھر زلمی کو دوسری مرتبہ چیمپئین بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

فائنل میں حضرت اللہ  زازئی اور شاہنواز دہانی پر سب کی نظریں ہوں گی (تصاویر: پی ایس ایل)

کرونا کی یلغار، ناخوشگوار واقعات اور  نشیب و فراز کے سمندر عبور کر کے پاکستان سپر لیگ بالاآخر اپنے سے سب سے بڑے دن فائنل تک پہنچ گئی۔

اس سفر میں کرونا کی مشکلات اور ابوظہبی کے قوانین نے کئی بار لیگ کو معطلی کی دہلیز پر پہنچا دیا تھا لیکن عزم وہمت سے سرشار پی سی بی اپنے مقصد میں کامیاب رہی اور لیگ کے اختتامی مرحلے تک اسے پہنچا دیا۔

نامور کرکٹرز سے سجی چھ ٹیموں نے اپنے ترکش میں جتنے تیر تھے سب آزمائے لیکن فائنل تک رسائی صرف دو ٹیموں کو مل سکتی تھی اس لیے چند ٹیمیں بہت اچھے آغاز کے باوجود خالی ہاتھ گھر لوٹ گئیں۔

آج (جعمرات) شام مصنوعی روشنیوں سے سجے ہوئے ابوظہبی کے گراؤنڈ میں جب دونوں ٹیمیں میدان میں اتریں گی تو سب کی نظریں دونوں ٹیموں کے ان کھلاڑیوں پر جمی ہوں گی جو پلے آف مرحلہ کے مرد میدان ثابت ہوئے تھے۔ لیکن ٹورنامنٹ کے انتہائی آخری اور سب سے اہم معرکے میں کون سے کھلاڑی جیت کے معمار ہو سکتے ہیں آئیں کچھ ان کا ذکر کرتے ہیں۔

پشاور زلمی:

حضرت اللہ زازئی

پچھلے دو میچوں میں جس طرح افغانستان کے 23 سالہ حضرت اللہ زازئی نے بولروں کا حشر نشر کیا ہے اس سے ملتان سلطانز کی بولنگ کوچ فکرمند ضرور ہوں گے۔ ان کی حکمت عملی کا ایک اہم ترین پہلو زازئی کو جلد نیوٹرالائز کرنا ہو گا۔

لیکن ان کی خاص بات ہی یہ ہے کہ وہ اب تک تمام منصوبوں کو لاحاصل ثابت کر سکتے ہیں۔ اس اوپنگ بلے باز کا بلا اگر چل گیا تو پھر زلمی کو دوسری دفعہ چیمپئین بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

بین الاقوامی کرکٹ میں 2016 میں قدم رکھنے والے حضرت اللہ زازئی نے اپنا پہلا میچ متحدہ عرب امارات کی ٹیم کے خلاف کھیلا تھا۔ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ اور بولنگ کرنے والے حضرت اللہ افغانستان کی قومی ٹیم کے علاوہ افغان پی ایس ایل کا متبادل کابل زوانان کی جانب سے بھی کھیلتے ہیں۔

ان کے بلے پر پڑنے والی گیند کی آواز کے بہت سے لوگ معترف ہیں۔

جتنی زوردار شاٹس وہ لگاتے ہیں لوگ اب پوچھ رہے ہیں کہ آخر وہ کھاتے کیا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خشک میواجات کھاتے ہیں۔ تاہم راشد خان نے اس پر روشنی کچھ یوں ڈالی۔

زازئی مشرقی افغانستان کا ایک پختون قبیلہ ہے۔

ردر فرڈ

زلمی کی دوسری امید ویسٹ انڈیز کے ردرفرڈ ہیں جو متعدد بار جارحانہ اننگز کھیل کر گھنٹوں کا سفر منٹوں میں طے کرچکے ہیں۔ وہ فائنل میں بھی تیزی سے سکور کرسکتے ہیں اور ملتان سلطانز کی بولنگ تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وہاب ریاض

زلمی کے تیسرے بڑے کھلاڑی جو فائنل کا نتیجہ بدل سکتے ہیں وہ خود کپتان وہاب ریاض ہیں۔ وہاب ریاض 18 وکٹوں کے ساتھ لیگ کے دوسرے بہترین بولر ہیں۔ انہوں نے دونوں ایلیمینیٹرز میں عمدہ بولنگ کی اور کپتانی بھی اچھی رہی۔ ان کی کپتانی میں ہر نئے دن کے ساتھ اعتماد آ رہا ہے۔

ملتان سلطانز

محمد رضوان

ملتان سلطانز کی سب سے بڑی امید کپتان محمد رضوان ہیں 470 رنز بنا کر وہ دوسرے بہترین بلے باز ہیں ان کی خاص بات جارحانہ بیٹنگ اور تیز رن ریٹ ہے۔ رضوان نے کپتانی بھی بہت عمدہ کی ہے ملتان کو آخری نمبر سے فائنل تک لے آئے ہیں اور فائنل میچ میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

شاہنواز دھانی

پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن کے سب سے نمایاں کھلاڑی شاہنواز دھانی ہیں۔ 20 وکٹوں کے ساتھ وہ سرفہرست ہیں۔ ان کی بولنگ اور پھر وکٹ لے کر جشن کا انداز بہت منفرد ہے۔ ان کا یہ پہلا سیزن ہے لیکن جوش اور ولولہ قابل دید ہے فائنل میں ان کی بولنگ وننگ پوائنٹ ثابت ہوسکتی ہے۔ دہانی اور زازئی کا مقابلہ دلچسپ ہوگا۔

صہیب مقصود

چھٹے سیزن میں جس بلے باز نے کم بیک کیا ہے وہ صہیب مقصود ہیں۔ گذشتہ کئی میچوں میں انےوں نے زبردست بیٹنگ کر کے ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ فائنل میں بھی وہ سب کی نظروں کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ وہ زلمی کی بولنگ کا تابڑ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔

ان کھلاڑیوں کے علاوہ کئی اور زبردست کھلاڑی ہیں جو کسی بھی وقت کچھ کرسکتے ہیں۔ دونوں ٹیمیں بولنگ اور بیٹنگ میں پوری طرح متوازن ہیں اور ایک دوسرے کو سخت وقت دینے کے لیے تیار ہیں۔

فائنل میچ میں ٹاس کی بھی بہت اہمیت ہوگی اور جو بھی ٹاس جیتے گا پہلے فیلڈنگ کرنا پسند کرے گا کیونکہ جیسے جیسے شام ڈھلتی جائے گی اوس بڑھتی رہے گی جس سے بولرز کو گیند پر گرفت رکھنا مشکل ہوجائے گا۔

اگر کھلاڑیوں کے امتزاج کو دیکھا جائے تو پشاور زلمی کی ٹیم زیادہ متوازن نظر آتی ہے۔ بیٹنگ میں بہت گہرائی ہے اور نویں نمبر تک ہارڈ ہٹنگ کرنے والے بلے باز ہیں۔

لیکن ان کے پاس کوئی مستند سپنر نہیں ہے۔ اگر وکٹ پر باؤنس کم ہوا تو پشاور کو یہ کمی مہنگی پڑ سکتی ہے۔

زلمی کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ کسی ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کرتی۔

ملتان سلطانز کی بولنگ بیٹنگ سے زیادہ مضبوط ہے۔ سہیل تنویر اور عمران خان کے ساتھ سپنر عمران طاہر کا کردار بہت اہم ہو گا اور وہ زلمی کے بلے بازوں کا لاٹھی چارج روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ملتان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ گیم پلان بہت اچھا ترتیب دیتے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے فائنل لمحات میں ہر ایک کو اس لمحے کا انتظار ہے جب دونوں ٹیمیں اپنے زبردست کھیل سے اس میچ کو یادگار بنا دیں گی۔

کسی بھی نتیجے سے قطع نظر حضرت اللہ زازئی اور دیگر خطرناک بلے بازوں کی بیٹنگ کو انجوائے کرنے کے لیےتیار رہیے جہاں فلک شگاف چھکے اور چوکے آپ کی شام کی رونقیں دوبالا کرنے آ رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ