محمد رضوان ملتان سلطانز کو شکستوں کے بھنور سے نکال سکیں گے؟

محمد رضوان اگر پچ پر وکٹوں کے پیچھے ہوں تو چیتے جیسی پھرتی کے مالک ہیں اور وکٹ کے آگے ہوں تو رنز کی مشین ہیں، پر کیا وہ ملتان سلطانز کی قسمت بدل سکتے ہیں؟

رضوان ہر کامیابی پر جس طرح پوری ٹیم کا ذکر کرتے ہیں اس سے ان کی سوچ کی بلندی کا ادراک ہوتا ہے۔ (اے ایف پی فائل)

گذشتہ ایک سال سے دنیائے کرکٹ میں اگر کسی کھلاڑی کی کارکردگی مستقل اور فتح گر ہے تو وہ صرف محمد رضوان ہیں۔

دائیں ہاتھ کے بلے باز اور وکٹ کیپر 2019 کے وسط تک ایک معمولی سے کھلاڑی اور پاکستان ٹیم کے متبادل پلئیرز میں شامل تھے. ان کی شمولیت اسی وقت قابل تذکرہ ہوتی تھی جب سرفراز احمد نہ کھیل سکیں یا کوئی اور بلے باز دستیاب نہ ہو۔

پھولوں کے شہر  پشاور سے تعلق رکھنے والے رضوان ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل زبردست کارکردگی دکھانے کے باوجود قومی ٹیم سے دور تھے۔ کیرئیر میں کچھ میچز تو تھے لیکن ٹیم میں مستقل جگہ نہیں تھی۔ 

سابق کپتان سرفراز احمد کی گرتی ہوئی فارم کے نتیجے میں 2019 میں آسٹریلیا کے دورے میں جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے سستی نہیں کی اور بھرپور فائدہ اٹھایا۔ 

پہلے تو ٹیسٹ میچوں میں ایک دو اچھی اننگز کھیلیں اور پھر ٹی ٹوئنٹی میں بھی نمایاں رہے۔ 

ان کی برسبین ٹیسٹ کی 95 رنز کی  اننگز نے ماہرین کو متوجہ کردیا تھا۔ وہ صرف پانچ رنز کی کمی سے سنچری مکمل نہ کرسکے لیکن ان کی اننگز سنچری سے بڑی مانی گئی کیونکہ وہ دنیا کے سب سے خطرناک بولنگ اٹیک کے خلاف تھی۔

اس ٹیسٹ کے بعد رضوان نے پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔

2020 کی گرمیوں میں انگلینڈ کا دورہ پاکستان ٹیم کے لیے خاصا دردناک رہا۔ پاکستان کی بیٹنگ سوکھے پتوں کی طرح بکھرتی رہی۔ یہ دورہ کئی کھلاڑیوں کا تو کیرئیر ہی ختم کر گیا۔ ٹیم کے سب سے بہترین بلے باز بابر اعظم  بھی پریشان رہے، لیکن محمد رضوان نے اس مشکل ترین دورے پر بھی اپنے جوہر دکھائے۔

ساؤتھ ہیمپٹن کے دونوں ٹیسٹ میچز میں نصف سنچریاں سکور کر کے ناصر حسین جیسے ماہر کو کہنے پر مجبور کردیا کہ رضوان بابر اعظم کی موجودگی میں بھی سب سے بہترین بلے باز ہیں۔ وہ سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

 

نیوزی لینڈ کے دورے میں بھی وہی اکیلے تھے جو بیٹنگ کے جوہر دکھا رہے تھے۔ سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنا کر ایک بار پھر سیریز کے دولہا رہے۔ بابر اعظم کی غیر موجودگی میں کپتانی کے فرائض بھی انجام دیے، لیکن کپتانی کا پریشر بیٹنگ پر نہیں آنے دیا۔

جنوبی افریقہ کے ساتھ حالیہ سیریز میں ایک بار پھر ان کا ہی بلا تھا جو مسلسل رنز اگلتا رہا ورنہ باقی تمام بلے باز  تو نشیب وفراز کا شکار تھے۔

جب بھی مشکل وقت آیا رضوان سیسہ پلائی دیوار بن گئے رنز بھی بنائے اور اننگز مستحکم بھی کی۔ اسی دورے پر وہ اپنی پہلی سنچری بنانے میں بھی کامیاب ہوگئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ پچھلے 11 ٹیسٹ میں 720 رنز بناچکے ہیں جو خود اپنی جگہ ایک ریکارڈ ہے۔

ٹی ٹوئنٹی میں حکمرانی

رضوان کی ٹیسٹ میچوں میں زبردست کارکردگی کے باوجود کچھ ناقدین ان کو طویل دورانیے کی کرکٹ کا کھلاڑی ہی سمجھتے تھے اور ٹی ٹوئنٹی میں سرفراز کی شمولیت کے حامی تھے لیکن مختصر دورانیے کی کرکٹ میں بھی موقع ملتے ہی رضوان نے ان تمام کرکٹ پنڈتوں کو اپنی بیٹنگ سے گنگ کر دیا۔

پہلے نیوزی لینڈ میں کپتانی کرتے ہوئے آخری میچ میں نیپئیر میں 89 رنز کی فتح گر اننگز کھیلی اور پھر لاہور میں جنوبی افریقہ کے خلاف  پاکستان کرکٹ کی تاریخ کی دوسری سنچری جڑ دی۔ اس سنچری سے وہ پاکستان کے دوسرے کھلاڑی بن گئے جس نے کرکٹ کے مروجہ تینوں فارمیٹ میں سنچورین ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا۔  ان سے پہلے احمد شہزاد واحد کھلاڑی ہیں جن کو یہ اعزاز حاصل تھا۔

تین ٹی ٹوئنٹی میچز میں جنوبی افریقہ کے خلاف 197 رنز نے انہیں دنیا بھر میں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ اس وقت ٹیسٹ میچوں سے لے کر ٹی ٹوئنٹی تک رضوان کا طوطی بول رہا ہے وہ رنز مشین بن چکے ہیں۔ ان کی بیٹنگ ٹیم کی جان بن چکی ہے۔

ملتان سلطانز کے کپتان

رضوان کی صلاحیتوں سے ہر ایک نے فائدہ اٹھایا۔ ان کے ٹیلنٹ کو کیش کروایا لیکن کراچی کنگز اس سے محروم رہی۔ کراچی کے کئی سال رکن رہنے کے باوجود رضوان بارھویں کھلاڑی سے آگے نہ بڑھ سکے۔ کراچی نے ان کو مسلسل  نظر انداز کیا لیکن رضوان نے ہمت نہ ہاری۔

ان کی گذشتہ سال  قومی ٹیم کے ساتھ زبردست کارکردگی کے باوجود کراچی کنگز نے وسیم اکرم کے مشورے سے اس سال پی ایس ایل 6 کے لیے ٹیم سے سبکدوش کردیا۔ یہ ایک حیران کن فیصلہ تھا لیکن شاید یہی رضوان کے لیے بہتر تھا۔

 

ملتان سلطانز شاید اس موقعے کا انتظار کررہی تھی۔ اس نے اس جوہر قابل کو دستیاب دیکھا تو فوراً اپنے سکواڈ میں شامل کر لیا اور کپتان بھی بنا دیا۔ 

انتہائی عاجزی کے ساتھ بات کرنے والے محمد رضوان کی خوبی یہ ہے کہ وہ جتنے بڑے کھلاڑی ہیں اس سے زیادہ بڑے انسان ہیں۔ 

وہ ہر کامیابی پر جس طرح پوری ٹیم کا ذکر کرتے ہیں اس سے ان کی سوچ کی بلندی کا ادراک ہوتا ہے۔

محمد رضوان اگر پچ پر وکٹوں کے پیچھے ہوں تو چیتے جیسی پھرتی کے مالک ہیں اور وکٹوں کے آگے ہوں تو رنز کی مشین ہیں۔

ان کے کھیل میں بجلی کی وہ چمک ہے جو سامنے والے کو خیرہ کرجاتی ہے اور دیکھنے والا ان کے طاقتور شاٹس میں محو رہ جاتا ہے۔

قومی ٹیم کو مشکل لمحات میں تو وہ کئی دفعہ مشکلات سے نکال کر جیت کے کنارے تک لاچکے ہیں، لیکن اب کئی سال سے شکستوں کے بھنور میں پھنسے ہوئے ملتان سلطانز کے سفینے کے وہ نئے ناخدا ہیں۔

ان کے ہاتھوں میں زمام سلطانز ہے اور عقب میں وہ شکست خوردہ فوج جس کو ایک نئی منزل کی تلاش ہے۔

گرد گرم اور گورستان کی سرزمین ملتان اپنے نئے سلطان کی منتظر ہے۔ گرم راتوں میں جب مغرب سے چلنے والی ہوا رک جاتی ہے اور حبس بڑھنے لگتا ہے تو ملتان کے باسی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں کہ شاید پانی کی کچھ بوندیں برسیں۔

پانی تو آسمان سے ہی برسے گا، لیکن ملتان سلطانز کے نئے کپتان رضوان ملتانیوں کے لیے بہار کا جھونکا بن کر آرہے ہیں، کیونکہ ایک رضوان ہی تو ہیں جن کا ستارہ آج  بلندیوں پر ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ