جب خادم حسین رضوی کا لب و لہجہ دھیما ہو گیا

تصویر:  اے پی

تحریک لبیک پاکستان کے رہنماوں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو دو ساتھیوں سمیت جیل سے رہا کردیا گیا۔

خادم رضوی لاہور کی اسی جیل (کوٹ لکھپت) میں قید تھے جہاں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف بھی قید ہیں۔ پیر افضل قادری و دیگر کیمپ جیل میں قید تھے۔

لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر ٹی ایل پی قیادت کو جیل سے رہائی مل گئی۔ اپنی شعلہ بیانی سے شہرت پانے والے تحریک لبیک کے رہنما خادم رضوی کو عدالتی حکم سے اگلے دن رہا ہونا تھا۔

ان کی رہائی سے پہلے کارکنوں کی اچھی خاصی تعدادجیل کے گیٹ پر جمع ہوگئی۔

پھولوں کے ہاروں اور گلاب کی پتیوں سمیت بہت سے کارکنوں کی نظریں جیل کے دروازے پر جمی تھیں۔ سب کی زبان پر تحریک لبیک کے مخصوص نعرے تھے۔

بیشتر کارکن روزے سے تھے۔ شدید گرمی میں خشک ہونٹ لیے وہ اپنی قیادت سے جذباتی وابستگی کے باعث پرجوش نظر آ رہے تھے۔

 وقت گزرنے کے ساتھ ان کا جوش بڑھتا جارہا تھا لیکن جیل کے اندر پولیس سکیورٹی کے حصار میں خادم رضوی کو گاڑی پر بٹھا کے جیل کے فیروزپور روڑ والے دوسرے دروازے سے نکال دیا گیا۔

وی وی آئی پی موومنٹ کی طرح تیز رفتار گاڑیوں نے انہیں کچھ دیر بعد ہی ٹی ایل پی کے ملتان روڑ پر واقع مرکز میں پہنچا دیا۔

مذکورہ مرکز میں پہلے سے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ رش میں کھڑے کارکنوں کے جذبات وہی تھے جو دھرنوں کے دوران دیکھنے کو ملتے تھے۔

یہ کارکن خادم رضوی کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے چین تھے۔

پولیس اہلکاروں نے چند کارکنوں کی مدد سے انہیں گاڑی سے اتار کر وہیل چئیر پہ بٹھایا اور مسجد کے اندر لے گئے۔

جو کارکن گیٹ کے آس پاس موجود تھے وہ اپنے مذہبی رہنما سے عقیدت کا اظہار کرتے رہے۔ انہوں نے پھولوں کے ہار پہنائے اورپتیاں نچھاورکیں۔

آس پاس کے گھروں پر کھڑے مرد و خواتین بھی اس والہانہ استقبال کا نظارہ کر رہے تھے۔

جوش و خروش کے اس ماحول کے درمیان نعروں کی گونج میں خادم رضوی کو مسجد کے اندر پہنچا دیا گیا۔

اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں نے خادم رضوی سے بات کرنا چاہی تو سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ مولانا نے بھی میڈیا کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ ان کے اندر جانے کے کچھ دیر بعد کوٹ لکھپت جیل کے باہر موجود کارکن بھی وہیں پہنچ گئے۔

دوسری جانب پیر افضل قادری کو بھی دیگر رہائی پانے والے رہنماوں کے ساتھ پولیس سکیورٹی میں کیمپ جیل سے ٹی ایل پی کے مرکز پہنچا دیا گیا۔

تحریک لبیک کی مجلس شوری کے اراکین نے اپنے رہائی پانے والے قائدین کا استقبال کیا جس کے بعد اجتماعی افطاری کی گئی۔

میڈیا کابلیک آوٹ:

چند ماہ پہلے تحریک لبیک پاکستان کے دھرنوں، توڑ پھوڑ اور ان کے خلاف سکیورٹی اداروں کے کریک ڈاون کی کوریج پرحکومت نے پابندی عائد کی تھی۔

ملکی میڈیا پر انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ان کیسوں کی سماعت سے متعلق بھی کوریج نہیں کی گئی۔

اسی طرح اب خادم رضوی و دیگر رہنماوں کی رہائی پر بھی ملکی میڈیا نے بلیک آوٹ برقرار رکھا۔ اس حوالے سے ٹاک شوز میں بھی کوئی بحث مباحثہ نہیں ہوسکا تاہم جماعت کے مرکزی رہنماوں کی ضمانت منظور ہونے سے چند دن پہلے ان کے معافی مانگنےکی خبریں ضرور چلائی گئیں۔ یہ معافی مستعفی ہونے والے فوجی جرنیلوں اور اعلی عدلیہ کے ججوں کے خلاف دیئے گئے تضحیک آمیز بیانات پر مانگی گئی تھی۔

خادم رضوی کے موقف میں تبدیلی:

جیل سے رہائی کے بعد خادم رضوی نے مرکز ٹی ایل پی میں پہلا خطاب کیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کارکن اور شہری خادم رضوی کی زبانی آئندہ کا لائحہ عمل اور ان کا موقف سننے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے کیوں کہ ناموس رسالت اور آسیہ مسیح کی رہائی سے متعلق خادم رضوی کا انتہائی سخت موقف رہا جس پر دھرنوں سے ملک جام بھی کیا گیا اور جا بہ جا توڑپھوڑ بھی کی گئی تھی۔ ان کے خلاف کریک ڈاون اور گرفتاریاں بھی اسی کا شاخسانہ تھا۔

مسجد میں موجود کارکنوں میں بڑی تعداد وہ تھی جو دھرنے دینے پر مختلف شہروں میں گرفتار کرکے جیلوں میں بند کر دیئے گئے تھے۔

مولانا خادم رضوی جو اپنی جماعت میں مخصوص جارحانہ اورجوش خطابت کی وجہ سے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں، انہوں  نے اپنے پرانے انداز میں عشق رسول کے موضوع سے بیان شروع کیا تو شدیدرش کے باوجود ہر طرف خاموشی چھا گئی۔

سب ان کی طرف متوجہ ہو چکے تھے لیکن اس دوران ہی خادم رضوی کا لب ولہجہ دھیما ہوچکا تھا۔

انہوں نے ناموس رسالت پر تو ڈٹے رہنے کا اعلان کیا لیکن آسیہ مسیح کی رہائی پر لاپرواہی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’آسیہ مسیح ملک چھوڑ چکی اب اس کے خلاف تحریک چلانے کا کوئی جواز نہیں‘۔  

یوں لگتا تھا جیسے وہ کسی مصلحت کا شکار ہوچکے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحریک لبیک پاکستان کو غیر موثر کرنے کی حکمت عملی کامیاب ہو چکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ