شرکا کو پسند کا لباس پہننے کی آزادی ہے: ہم نیٹ ورک

ہم سٹائل ایوارڈز کے ساتھ تقریباً ڈیڑھ سال بعد پاکستان میں شوبز انڈسٹری کی رونقیں بحال۔

تقریب کی سب سے بہترین پرفارمنس علی ظفر اور علیزے شاہ کی تھی (تصویر: ہم سٹائل ایوارڈز)

لاہور میں منعقد ہونے والی ’ہم سٹائل ایورڈز‘ کی تقریب میں شریک شوبر ستاروں کے لباس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ جب کہ ہم نیٹ ورک کے شعبہ سپیشل پروجیکٹس کا کہنا ہے کہ ہم نیٹ ورک ‍ذاتی پسند اور اظہار رائے کی آزادی پر مکمل یقین رکھتا ہے اور کسی بھی فرد پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔

ہم نیٹ ورک کے شعبہ سپیشل پروجیکٹس اور ایونٹ کے نائب صدر خالد سورتی نے اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم اسٹائل ایوارڈز ایوارڈ شوایک ایسا ایوارڈ شو ہے جو بنیادی طور پر لوگوں کو اپنی ذاتی پسند کے مطابق انداز اپنانے اور مکمل اظہار رائے کی آزادی فراہم کرتا ہے اس لیے اس میں شرکت کرنے والے افراد پر کسی بھی قسم کی پابندی عائد نہیں کی جاتی کیونکہ ایسا کرنا ان خاص طور پر ظاہری وضع قطع پر۔ ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور وہ ایسا بالکل نہیں کرنا چاہتے۔‘

گذشتہ رات منعقد ہونے والی ’ ہم سٹائل ایوارڈز‘ کی تقریب کرونا کی وبا کے باعث رات 10 بجے تک پابندی کے باوجود دیر تک جاری رہی جب کہ تقریب میں جیمرز کی موجودگی بھی موضوع بحث بنی رہی۔

 ہم ٹی وی کی جانب سے منعقد کیے جانے والے پانچویں ’ہم سٹائل ایوارڈز‘ کرونا (کورونا) وائرس کی عالمی وبا کے بعد منعقد ہونے والی پہلی باقاعدہ اور بڑی تقریب ہے جس نے شوبز دنیا پر لگے گرہن کو ہٹا کر روایتی چمک دمک واپس لانے میں پیش رفت کی ہے۔

 سال 2020 میں کرونا کی  وبا سے پیشتر پاکستان میں جو بڑی تقریب منعقد ہوئی تھی وہ ہم ٹی وی نیٹ ورک کے ہم ’ہم سٹائل ایوارڈز‘ ہی تھے اور اب تقریباً ڈیڑھ سال بعد جب پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے کیسز کم سطح پر ہیں، جو پہلی تقریب منعقد ہوئی ہے وہ ’ہم سٹائل ایوارڈز‘ ہی ہے۔

تین گھنٹے سے کچھ اوپر جاری رہنے والی اس تقریب کا باقاعدہ آغاز رات ساڑھے آٹھ بجے ہوا اور اختتام رات ساڑھے 11 بجے اور ہال خالی کرتے کرتے نصف شب ہو گئی۔

اگرچہ دعوت نامے پر واضع لکھا ہوا تھا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے سخت پروٹوکول کے سبب تمام تقریبات رات 10 بجے ختم ہوجانی چاہییں اس لیے شام سات بجے سے پہلے گیٹ بند کردیے جائیں گے۔ مگر جب مہمان ہی دیر سے آئیں تو منتظمین کیا کریں؟ اب کروڑوں روپے لگ اکر کی جانے والی تقریب ادھوری چھوڑی بھی نہیں جاسکتی، تاہم گورنر پنجاب کی آخر تک موجودگی کی وجہ سے کوئی رخنہ نہیں پڑا۔

تقریب کا حال

گذشتہ چار ’ہم سٹائل ایوارڈز‘ کراچی میں منعقد ہوئے تھے، شاید اسی لیے منتظمین نے اس مرتبہ لاہور کا انتخاب کیا۔ لاہور کی شدید گرمی نے شرکا کا بھرپور استقبال کیا اور سونے پے سہاگہ ائرکنڈیشننگ کا نظام کچھ تکنیکی مسائل کا شکار ہوا جس کی وجہ سے شرکا کچھ مشکل میں رہے۔ لیکن اس تکلیف کے باوجود تقریب کو چند اچھی پرفارمنس نے اور علی ظفر کی دلچسپ میزبانی نے چمکا دیا۔

علی ظفر کو حال ہی میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے تمغہ برائے حسن کارکردگی ملا ہے اور یہ اس اعزاز کے بعد ان کی پہلی پرفارمنس تھی۔ انہوں نے ایک منجھے ہوئے اور انتہائی دلچسپ انداز میں شو کو آگے بڑھایا اور کئی جگہ واضع محسوس ہوا کہ وہ محض لکھا ہوا سکرپٹ نہیں پڑھ رہے بلکہ موقع کی مناسبت سے جملے چست کررہے ہیں۔

تاہم ان کی ساتھ میزبان عروہ حسین اس ضمن میں ان کا مکمل طور پر ساتھ نہیں دے پائیں، نہ ان کا انداز برجستہ تھا اور نہ ہی دلچسپ۔ فارمیٹ یہ تھا کہ علی ظفر کو نسبتاً دیسی اور عروہ کو بہت گلیمرس اور سٹائلش انداز اپنانا ہے۔ 

میرے خیال میں ’پنجاب نہیں جاؤنگی ‘ کی دردانہ یعنی عروہ کو اگر دیسی کردار دے دیا جاتا تو بہتر ہوتا۔ 

فلم دم مستم کے پوسٹر کی رونمائی

تقریب کی سب سے خاص بات، آنے والی پاکستانی فلم ’دم مستم‘ کے پوسٹر کی رونمائی کے لیے پیش کیا جانے والا خاکہ تھا، جسے اس فلم کے مرکزی کرداروں، امر خان اور عمران اشرف، ہدایتکار احتشام الدین، اور پروڈیوسر عدنان صدیقی نے پیش کیا۔

یہ خاکہ انتہائی دلچسپ تھا جس میں ایک لڑکا اور لڑکی فلم میں قسمت آزمائی کی کوشش کرتے ہیں اور ایک موقع چاہتے ہیں۔ پوسٹر کی رونمائی کا یہ طریقہ کافی انوکھا تھا اور اس سے تقریب کی رونق میں اضافہ ہوا۔

رقص و موسیقی

ایوارڈز میں کی جانے والی پرفارمنسز مجموعی طور پر اچھی تھیں، خاص کر اب پاکستانی ایوارڈ شو میں بالی وڈ کے گانے نہیں چلائے جاتے جو بہت خوش آئند ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تقریب کی سب سے بہترین پرفارمنس علی ظفر اور علیزے شاہ کی تھی جس میں علی ظفر نے اپنے مقبول نغمے جن میں ’نان آئٹم نمبر‘ ’میلہ لوٹ لیا‘ شامل ہے پرفارم کیا اور علیزے شاہ نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ مجھے جو بات سب سے اچھی لگی کہ علی نے فلم سے ہٹ کر رقص کے مختلف موو اپنائی جو بہترین رہیں۔

اس کے مقابلے میں آئمہ بیگ کے تینوں گانے تو اچھے تھے مگر ظاہر ہے کہ وہ رقاصہ نہیں ہیں، اور شاید کرونا کی وبا نے ریہرسل کا زیادہ وقت دیا بھی نہیں، اس لیے ان کی کرکردگی کسی طور نہ بھائی۔ جیسے انہوں نے فلم ’نامعلوم افراد ٹو‘ کے آئٹم نمبر ’کیف و سرور‘ پر رقص کرنے کی ناکام کوشش کی جس پر صدف کنول کافی اچھے ٹھمکے لگا چکی ہیں۔

اس سے پہلے لالی وڈ کی اداکارہ ریشم اور حسن شہریار یاسین نے پاکستانی فلموں کے پرانے گانوں جیسے ’منڈیا ڈپٹہ چھڈ میرا‘ اور ’جانو سن ذرا‘ پر رقص پیش کیا جس میں ریشم نے تو اپنے کام سے مکمل انصاف کیا تاہم حسن شہریار یاسین کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ وہ کسی شادی کی نجی تقریب میں پرفارم کررہے ہیں۔ ان کی بری پرفارمنس کا اثر ریشم پر بھی محسوس ہوا۔ اگر کسی باقاعدہ ہیرو کو لیا جاتا تو یہ ایکٹ مزید بہتر اور جاندار ہوسکتا تھا۔

حکومت کی غیر معمولی دلچسپی

تاہم جس بات نے مجھے کچھ ورطہ حیرت میں ڈالا وہ حکومتِ پنجاب اور پاکستان کی اس شو میں بے انتہا دلچسپی تھی۔ ہال کے اندر پہلی تین قطاروں میں گورنر پنجاب کی نشستیں تھیں، وفاقی وزارتِ اطلاعات کی سیکریٹری کے لیے نشستیں مخصوص تھیں، یہاں تک کے دو نشستوں پر ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر بھی لکھا ہوا تھا۔ اسی طرح ہال میں ڈپٹی کمشنر لاہور بھی موجود تھے اور ان کے لیے مخصوص نشستیں بھی تھیں۔

استفسار پر معلوم ہوا کے گورنر پنجاب تو آرہے ہیں، باقی نشستیں ان افراد کے مہمانوں کی ہیں، جیسے بتایا گیا کے ڈی جی آئی ایس پی آر خود نہیں آئیں گے۔

میں نے پاکستان میں درجنوں ایوارڈ شو کور کیے ہیں، مگر اس پیمانے پر حکومت کی دلچسپی کبھی نہیں دیکھی۔ 2017 میں ہم ٹی وی کے ایوارڈ شو میں اس وقت کی وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب ضرور آئیں تھی مگر دیگر کوئی بڑا حکومتی عہدیدار موجود نہیں تھا۔

یہاں تو حال یہ تھا کہ ہال میں موبائل فون جیمرز بھی لگائے گئے تھے لیکن جب جیمرز آن ہوئے تو اعتراض ہوا کہ درجنوں ڈیجیٹل میڈیا بلاگرز تو براہ راست یعنی لائیو اپڈیٹ کا اعلان کرکے آئے تھے اور یوں جیمرز سے تو کم از کم جان چھوٹ گئی۔

 کون کون جیتا

اب ہم اگر ایوارڈز کی بات کریں تو پہلے یہ بات جان لیں کہ ہم سٹائل ایوارڈز بنیادی طور پر فیشن اور لائف سٹائل ایوارڈز ہیں اور اداکاروں کو ان کی اداکاری پر نہیں بلکہ انداز و کشش کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔

فلم کے شعبے میں سب سے پرکشش اداکار کا ایوارڈ فلم ’سپر سٹار‘ کے بلال اشرف کے نام ہوا جب کہ اداکارہ کا ایوارڈ ’پرے ہٹ لؤ‘ کی مایا علی کے نام رہا۔

ٹی وی میں بہترین اداکار و اداکارہ کا ایوارڈ عماد عرفانی اور نوشین شاہ کو دیا گیا۔

ان ایوارڈز کا فیصلہ جیوری کرتی ہے، اور مایا علی ، بلال اشرف اور عماد عرفانی ہر لحاظ سے اس کے اہل نظر آتے ہیں، تاہم یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ٹیلی ویژن میں ایک سے ایک بہترین اور منفرد انداز رکھنے والی اداکارہ کی موجودگی میں نوشین شاہ کو ایوارڈ کیسے مل گیا۔

منفرد اور پرکشش انداز میں پرفارمنس کا ایوارڈ پاکستان کے گلوکار شمعون اسماعیل کے نام رہا۔ جب کہ رواں برس، کھیلوں کی سب سے پر کشش شخصیت کا ایوارڈ، چترال سے تعلق رکھنے والی کرشمہ علی کے نام رہا۔

فیشن کے دیگر شعبوں میں دیے جانے والے ایوارڈز کی فہرست یہ ہے:

بہترین ماڈل مرد۔ حسنین لہری

بہترین ماڈل خاتون۔ گیتی آرا

فیشن فوٹوگرافر۔ ایم ایچ ایم

ہیئر اور میک اپ۔ ارشد خان

ابھرتے ہوئے ستارے۔ سید حسین، خوشحال خان

بہترین ڈیزائنر (تیار شدہ ملبوسات) حسین ریحار

بہترین ڈیزائنر (عروسی) شہلا چتور

بہترین ڈیزائنر (لان) ایلان

بہترین ڈیزائنر (مردانہ ملبوسات) عمران راجپوت

بہترین ڈیزائنر (پریٹ) آمنہ چوہدری

بہترین ریٹیل لیبل۔ آؤٹ فٹرز

بہترین فیشن سٹائلسٹ۔  یاسر عزیز ڈار

زیادہ پڑھی جانے والی سٹائل