وزیر اعظم کے ’کامیاب نوجوان پروگرام‘ کے سات اہم نکات

پروگرام کا مقصد نوجوانوں کی خودمختاری اور فلاح سے متعلق حکومتی پالیسی کو عملی شکل دینا ہے۔

اے ایف پی فائل فوٹو

وزیر اعظم عمران خان نے جمعرات کو نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے’ کامیاب نوجوان پروگرام‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ چند سالوں میں دس لاکھ نوکریاں پیدا کی جائیں گی۔

پروگرام کا مقصد نوجوانوں کی خودمختاری اور فلاح سے متعلق حکومتی پالیسی کو عملی شکل دینا ہے، جسے کامیاب بنانے کے لیے اقوام متحدہ نے 30ملین امریکی ڈالرز کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

 اس پروگرام کی 7 اہم باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ سمیڈا کے اشتراک سے ملک میں آئندہ چند سالوں کے دوران دس لاکھ نوکریاں پیدا کی جائیں گی، جس سے نوجوانوں کو بقول حکومت خود مختار بنانے کا ہدف حاصل ہو سکے گا۔

2۔ وفاقی حکومت نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کے لیے دو سو ارب روپے خرچ کرے گی۔ اس سلسلے میں 24 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔

3۔ اقوام متحدہ سے ملنے والی 30 ملین ڈالرز کی امداد دو لاکھ نوجوانوں کی مالی امداد پر خرچ کی جائے گی۔

4۔ تعلیم کے مواقعوں کے علاوہ نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے کے اقدامات کیے جائیں گے اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں گے جس سے نوجوان روزگار تلاش کرنے کے قابل ہو سکیں۔

5۔ قومی یوتھ کونسل بنائی گئی ہے، جو وزیر اعظم کے یوتھ پلز پورٹال کے ذریعے نوجوانوں کو ترقی اور خوشحالی کے قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے ان کی آرا اور خیالات اکٹھا کرے گی۔ اس سے قومی پالیسیاں بنانے میں نوجوانوں کی آرا کو مدنظر رکھنا آسان ہو گا۔

6۔ پروگرام کے تحت قومی یوتھ ڈیویلپمنٹ انڈکس تیار کیا جائے گا اور اس سلسلے میں 40 وفاقی اور صوبائی محکموں کی شناخت کی گئی ہے جومدد فراہم کریں گے۔

7۔ محکموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے گی جس سے نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے مزید پروگرام شروع کرنے میں مدد ملے گی، جیسے یوتھ اکنامک ڈویلپمنٹ اپماورمنٹ پروگرام اور وزیراعظم کی نوجوانوں کے لیے سبز تحریک شامل ہیں۔

آئندہ چند روز میں کامیاب نوجوان پروگرام وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا جہاں سے منظوری کے بعدا س پر عمل شروع کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل