ایک شخص کی وجہ سے بصارت سے محروم کوئی فردبھیک نہیں مانگتا

ریاض حسین میمن اپنے ساتھیوں کی مدد سے لاڑکانہ میں ایک ایسا سینٹر چلا رہے ہیں جہاں بصارت سے محروم افراد کو تعلیم دے کر انہیں روزگار حاصل کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

پاکستان میں صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے بصارت سے محروم ریاض حسین میمن نے ایک لٹریسی اینڈ ایجوکیشن سینٹر کھولا ہے جہاں قوت بینائی سے محروم افراد کو تعلیم دے کر انہیں روزگار حاصل کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔

45  سالہ ریاض میمن گذشتہ سات سال سے اپنے سینٹر کے توسط سے بصارت سے محروم افراد کو پڑھانے لکھانے اور انہیں روزگار کمانے کے قابل کرنے کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔

یہ سینٹر ریاض میمن اور ان کے ساتھی اپنی مدد آپ کے تحت چلاتے آ رہے ہیں۔

اس سینٹر کے مقصد کے بارے میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ریاض حسین میمن نے بتایا کہ ’بچے عموماً سرکاری سکولوں میں پڑھتے ہیں لیکن جب وہ بچے سکول سے گھر جاتے تھے تو شام میں ان کے لیے ایسا کوئی مستقل ادارہ نہیں تھا جو انہیں مناسب طریقے سے بریل، ایڈوانس بریل اور انگریزی زبان سمیت دیگر مضامین پڑھائے۔‘

بریل تحریر کا وہ نظام ہے جو بصارت سے محروم افراد استعمال کرتے ہیں۔ یہ روایتی طور پر ابھرے ہوئے حروف کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔

ریاض حسین میمن نے بتایا: ’لاڑکانہ میں موجود بصارت سے محروم افراد کو خود کفیل بنانے کے لیے ہم دو چار ساتھیوں نے مل کر یہ سوچا کہ کیوں نہ اپنا ایک ایسا سینٹر قائم کریں، جہاں ایسے افراد کو مستقل مزاجی سے مفت تعلیم دی جائے۔ اس مقصد کو لے کر ہم نے 2016 میں یہ سینٹر کھولا۔ اب اس سینٹر میں متواتر بچے آتے ہیں، یہاں سے کئی ساتھی پڑھے ہیں، جن میں سے بہت سے مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے گئے۔ ان میں بلاول عباسی، محمد وسیم تنیو سمیت کئی نام ہیں جو یہاں سے پڑھ کر جامعہ سندھ جامشورو اور بعد میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد تک پڑھنے گئے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ہم نے تقریباً 60  لڑکے اور لڑکیوں کو لاڑکانہ سے باہر بھیج کے ان کی کمپیوٹر، ٹیلیفون اور بریل میں تربیت کروائی، جس کی بدولت یہ تمام افراد اب پاکستان کے مختلف محکموں میں ملازمتیں کر رہے ہیں اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بصارت سے محروم لڑکیوں کی تعلیم کے لیے بھی ریاض میمن اور ان کے ساتھیوں کی محنت جاری ہے۔ اس حوالے سے ریاض میمن نے بتایا: ’آپ اندازہ کریں کہ ایک ایسا علاقہ جو بہت پسماندہ ہو، اس علاقے کی بچیاں ہم نے گھروں سے باہر نکالی ہیں اور انہوں نے میٹرک سے انٹر اور گریجویشن تک تعلیم حاصل کی۔ اس ادارے کے توسط سے تقریباً 20 بچیوں نے نہ صرف انٹرمیڈیٹ کے امتحان دیے بلکہ ان میں سے بہت ساری لڑکیوں نے گریجویشن مکمل کیا ہے۔‘

ریاض حسین میمن کے اس سینٹر کی ایک بڑی کامیابی یہ ہے کہ لاڑکانہ کے بصارت سے محروم افراد اب بھیک مانگتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔ اس حوالے سے انہوں نے بتایا: ’لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے بصارت سے محروم افراد اس قابل ہیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں اور خود کفیل ہیں اور ان میں سے آپ کو کوئی بھی سڑکوں، راستوں یا چوک بازاروں میں بھیک مانگتے ہوئے نظر نہیں آئے گا۔‘

ریاض میمن پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائنڈز لاڑکانہ کے ضلعی عہدیدار بھی ہیں اور بصارت سے محروم افراد کی تعلیم کے لیے اپنے سینٹر ‏میں وقت دینے کے ساتھ اس ایسوسی ایشن کے کام کاج کے لیے وقت بھی نکالتے ہیں۔ 

اس تنظیم کے توسط سے ریاض میمن نے لاڑکانہ بورڈ سے بصارت سے محروم افراد کی امتحانی فیس بھی ختم کروائی اور ان کی مدد کرنے کے میدان میں ہمیشہ سے آگے آگے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا