خیبر پختونخوا کے نابینا طلبہ کے لیے کتابیں اب صوبے میں تیار ہوں گی

انفوٹیک ناروے کی بریلو کمپنی کی وساطت سے 45 دن کے اندر چار کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے پشاور میں جدید بریل پرنٹنگ پریس قائم کیا جا رہا ہے۔

بریل میں نابینا افراد  ابھرے ہوئے نقطوں کی مدد سے تحریر  محسوس کر کے ’ پڑھتے‘ ہیں (پکسا بے)

پشاور کے رہائشی محمد عارف گذشتہ پانچ سال سے نابینا افراد کو بریل کی مدد سے تعلیم دے رہے ہیں۔ ان کے سکول میں پانچ سے 15 سال تک عمر کے 66 طالب علم زیرتعلیم ہیں۔

گورنمنٹ انسٹی ٹیوٹ فار بلائنڈ کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سرانجام دینے والے عارف، جنہوں نے نابینا افراد کو تعلیم دینے کے لیے خصوصی تربیت حاصل کی، نے جب اس ادارے میں قدم رکھا تو انہوں نے محسوس کیا کہ اس صوبے کے نابینا افراد مختلف مسائل کے ساتھ اہم وسائل سے بھی محروم ہیں۔

عارف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ہمارے انسٹی ٹیوٹ میں بریل کتابوں کی کمی تھی، جو کتابیں میسر تھیں وہ بھی استعمال کے بعد گھس چکی تھیں، جن کے ذریعے پڑھنا اور پڑھانا مشکل ہوتا تھا۔‘

خیبر پختونخوا میں بریل پرنٹنگ پریس نہ ہونے کی وجہ سے صوبے کے نابینا افراد کے سکولوں کا انحصار پنجاب اور سندھ کی بریل نصابی کتب پر تھا۔

عارف کے مطابق: ’ان صوبوں سے کتابیں منگوانے میں ایک مسئلہ یہ تھا کہ ہم ریڈی میڈ کتابیں ہی منگواتے تھے، جو ان کی تہذیب و تمدن اور شخصیات کی نمائندگی کرتی تھیں لہٰذا ہمارے طالب علم اپنی ثقافت،ادب اور تاریخ سے محروم رہ جاتے تھے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی ذاتی دلچسپی اور کوششوں سے اعلیٰ حکام کے کانوں تک نابینا افراد کی آواز پہنچی اور ان کوششوں کو اس وقت تقویت حاصل ہوئی جب خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے اس انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کیا۔

عارف کے مطابق چیف سیکرٹری نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ محمود خان سے بات کی جب کہ دوسری جانب سماجی فلاح وبہبود کی وزارت نے بھی ان سے رابطہ کیا۔

’میری درخواست پر مجھے لاہور بریل پرنٹنگ پریس اور وہاں کے نابینا افراد کے بہترین سکولوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ساتھ ہی وہاں کے بریل پرنٹنگ پریس سے تمام معلومات لے کر پی سی ون تیار کیا اور رواں سال جنوری میں صوبائی حکومت کو پیش ہونے والا پی سی ون منظوری کے بعد اب عملی شکل اختیار کرگیا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ میں نصب ہونے والے بریل پرنٹنگ پریس کے لیے سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور ایک نجی کمپنی انفو ٹیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

معاہدے کے مطابق انفو ٹیک ناروے کی بریلو کمپنی کی وساطت سے 45 دن کے اندر چار کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے پشاور میں جدید بریل پرنٹنگ پریس نصب کرنے اور اس حوالے سے مقامی سٹاف کو تربیت دینے کی پابند ہے۔

صوبے میں اس وقت خصوصی افراد کے لیے 44 سکول اور مراکز قائم ہیں، جن میں نابینا افراد کے سکولوں کی تعداد 11 ہے، جہاں عصری تعلیم کے ساتھ ووکیشنل تربیت پر بھی اچھی خاصی توجہ دی جاتی ہے۔

سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان دانیال خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جدید بریل پرنٹنگ پریس کے قیام کے بعد صوبے میں پشتو، عربی، اردو، انگریزی اور دیگر زبانوں میں نصابی کتب کا کام جلد از جلد شائع ہونے پر توجہ دی جائے گی، جن کو پورے صوبے کے دیگر خصوصی سکولوں تک پہنچایا جائے گا۔

بریل زبان کی تعریف وتاریخ

بریل کوڈ نظام کے تحت لکھے جانے والے حروف کا نام ہے، جس میں ابھرے حروف کے ساتھ چوکور خانوں میں ابھرے نقطے بنائے جاتے ہیں جن کو بینائی سے محروم افراد انگلیوں سے محسوس کرکے پڑھتے ہیں۔

 یہ زبان فرانسیسی شخص لوئی بریل نے انیسویں صدی کے اوائل میں 15 سال کی عمر میں متعارف کروائی تھی۔ بریل خود بھی دو مختلف حادثات میں دونوں آنکھوں کی بصارت سے محروم ہو چکے تھے، لہذا وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جس کی وجہ سے نابینا افراد بھی پڑھنے کے قابل ہو جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تب سے لے کر اب تک دنیا میں بریل کئی زبانوں میں لکھی جا چکی ہے اور ہر سال جنوری کا پورا مہینہ 'بریل لٹریسی ڈے' کے طور پر منایا جاتا ہے۔

بریل میں کتابیں دو مخصوص طریقوں سے لکھی جاتی ہیں، جن میں 'ان کانٹریکٹڈ بریل' اور 'کانٹریکٹڈ بریل' شامل ہیں۔

خیبر پختونخواحکومت کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق صوبے میں تین لاکھ 75 ہزار 752 معذور افراد ہیں جن میں سات اشاریہ دو فیصد نابینا افراد شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، قبائلی اضلاع میں بھی 15 ہزار معذور افراد ہیں، جن میں دس فیصد تعداد نابینا افراد کی ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں نابینا افراد تقریباً 50 سال سے تعلیم اور روزگار میں مواقعوں اور خود کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ہر موقع پر آواز اٹھاتے رہے ہیں۔

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت بالغ نابینا افراد کے لیے کوئی سہولت موجود نہیں ہے لہذا ان کو خصوصی سکولوں میں صرف ووکیشنل تربیت ہی دی جاتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس