پوتوں کو زنجیر سے باندھ کر رکھنے والے دادا گرفتار

پولیس کے مطابق دادا نے بظاہر پوتوں کی شرارتوں سے تنگ آکر یہ قدم اٹھایا۔

پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں پوتوں کو زنجیروں سے باندھ کر رکھنے والے دادا کو گرفتار کرلیا گیا۔

مظفر گڑھ کے علاقے احسان پور میں دادا اللہ بخش اپنے پوتوں کو زنجیر سے باندھ کر گھر میں قید کر رکھا تھا جس پر تھانہ دین پناہ کے ایس ایچ او عزیز اللہ نے کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو بازیاب کروا لیا اور دادا کو گرفتار کر کے ایف آئی آر درج کر لی۔

تھانہ دین پناہ کے ایڈیشنل محرر طلب شیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ دادا نے بظاہر پوتوں کی شرارتوں سے تنگ آکر یہ قدم اٹھایا اور منگل کو زنجیریں ویلڈ کرنے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو بازیاب کروایا۔

طلب شیر کے مطابق احسان پور کے رہائشی اللہ بخش کے بیٹے رجب علی لاہور میں مزدوری کرتے ہیں جن کے دو بیٹے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کے استفسار پر ایڈیشنل محرر طلب علی نے بتایا کہ واقعے سے ایک روز پہلے بچوں کے والدین انہیں لیہ سے لے کر آئے ہیں۔

’دونوں بھائی گھر سے بھاگ گئے تھے اور چھ روز تک ادھر ادھر گھومتے رہے۔ پھر تھانہ لیہ سٹی نے دونوں بھائیوں کو لاوارث بچوں کے ضمن میں حفاظتی تحویل میں لے کر معلومات لینے کے بعد والدین کو اطلاع دی، جو خود جا کر بچوں کوواپس کے کر آئے۔‘

ایڈیشنل محرر طلب شیر کا کہنا ہے کہ بادی النظر میں دادا کے اس فعل میں والدین کی رضا مندی بھی شامل تھی مگر ہم نے قانون کے مطابق ویڈیو ثبوت پر صرف دادا کے خلاف کارروائی کی ہے جو اب جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جا چکے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اس سلسلے میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سے رابطہ کیا تو ان کی افسر نوشین نے بتایا کہ ’ایسا بچہ جس کے والدین یا قانونی وارث زندہ ہوں مگر بچے کی تربیت کرنے سے قاصر ہوں تو وہ متعلقہ ضلعی دفتر میں ایک درخواست جمع کروائیں جس پر محکمانہ کارروائی کے بعد بچے کو بورڈنگ ہاؤس میں داخل کر لیا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو کے استفسار پر نوشین نے بتایا کہ ’اگر والدین یا قانونی وارث جان بوجھ کر کفالت نہ کر رہے ہوں یا بچے پر تشدد کررہے ہوں تو ایسی صورت میں کوئی بھی شخص درخواست جمع کروا سکتا ہے جس پر مجسٹریٹ ہمیں کارروائی کا حکم دیں گے اور ہماری ٹیم بچہ بازیاب کروا لے گی۔‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بیورو کے بورڈنگ ہاؤسز میں بچوں کو تعلیم، کھیل، کھانے، رہائش اور علاج معالجے کی تمام سہولیات مہیا کی جاتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا