نیٹ فلکس پر اب ویڈیو گیمز بھی ملیں گی

پیلٹ فارم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے فیس بک کے ایک سابق ایگیزکیٹو کی خدامات حاصل کر لی ہیں جو اس کی سروسز میں ویڈیو گیمنگ کا اضافہ کرنے میں مددگار ہوں گے۔

بلوم برگ کے بدھ کو اس خبر کو رپورٹ کرنے کے بعد نیٹ فلکس کے شیئرز میں 3.3 فیصد کا اضافہ ہوا (اے ایف پی فائل)

سٹریمنگ جائنٹ نیٹ فلکس ٹی وی شوز اور فلموں کے بعد اب ویڈیو گیمنگ کی دنیا میں بھی قدم رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

پیلٹ فارم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے فیس بک کے ایک سابق ایگیزکیٹو کی خدامات حاصل کر لی ہیں جو اس کی سروسز میں ویڈیو گیمنگ کا اضافہ کرنے میں مددگار ہوں گے۔

کمپنی نے رواں ہفتے اعلان کیا کہ فیس بک کے نائب صدر رہنے والے مائیک ورڈو اب نیٹ فلکس میں گیم ڈویلپمنٹ کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات سرانجان دیں گے اور چیف آپریٹنگ آفیسر گریک پیٹرز  کو رپورٹ کریں گے۔

فیس بک میں شمولیت سے قبل ورڈو الیکٹرانک آرٹس کے لیے موبائل کے سینیئر نائب صدر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے جہاں انہوں نے ’پلانٹس ورسز زومبیز ٹو‘، ’دا سمز فری پلے‘ اور ’سٹار وارز: گیلکسی ہیروز‘ جیسے موبائل گیمز کی ڈویلپمنٹ میں کردار ادا کیا۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معاملے کے نزدیک ایک ذرائع نے بلوم برگ کو بتایا کہ نیٹ فلکس اپنے پیلٹ فارم پر اگلے سال کے اندر اندر ہی ویڈیو گیمز کی سروس بھی فراہم کرنا چاہتا ہے۔ فی الحال نیٹ فلکس کا اس سروس کے لیے مزید چارجز عائد کرنے کا ارادہ نہیں۔

بلوم برگ کے بدھ کو اس خبر کو رپورٹ کرنے کے بعد نیٹ فلکس کے شیئرز میں 3.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔

بچوں کے لیے پروگرامز، مرچنڈائز کے لیے آن لائن سٹور کھولنے اور سٹیون سپیلبرگ جیسی معروف ہالی ووڈ شخصیات کے ساتھ شراکت داری کے ساتھ ساتھ نیٹ فلکس اپنی مارکیٹ میں اضافے کے کوششوں میں ہے۔ نیٹ فلکس کا استعمال امریکہ جیسے مارکیٹوں میں ویسے ہی زیادہ ہے اور اس کے صارفین ڈیزنی پلس اور ایچ بو او میکس جیسے حریفوں سے کئی زیادہ ہیں۔

اس سے قبل نیٹ فلکس انٹرایکٹیو پروگرامنگ کے تجربے کر چکا ہے جیسے کہ فلم ’بلیک میرر: بینڈرسنیچ‘ اور ’یو ورسز وائلڈ‘ جس میں صارفین کرداروں کے فیصلوں کا تعین کر سکتے ہیں۔

اس نے ’سٹرینجر تھنگز‘ اور ’منی ہائسٹ‘ جیسے شوز پر مبنی گیمز ڈویلپ کرنے کے لیے رائٹس بھی خرید لیے ہیں جن میں صارفین کہانی اور کرداروں کے اعمال کو خود چلا سکیں گے۔

اس رپورٹ میں وائرز کی اضافی رپورٹنگ شامل ہے  

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی