نور مقدم قتل کیس: ’میری زندگی خطرے میں ہے‘

سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کے قتل میں ملوث ملزم ظاہر جعفر کو آج جب اسلام آباد ایف ایٹ کچہری پیش کیا گیا توعدالت کے احاطے سے باہر آتے ہوئے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میری زندگی ابھی خطرے میں ہے۔‘

ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں دو تین بار بولنے کی کوشش کی اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ چھوٹےسے کمرہ عدالت میں رش کے باعث گھٹن کا ماحول تھا(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں پیشی کے موقعے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپنی زندگی کے خطرے میں ہونے کا بیان دیا ہے جب کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے مطابق اس کیس میں کسی سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

 سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کے قتل میں ملوث ملزم ظاہر جعفر کو آج جب اسلام آباد ایف ایٹ کچہری پیش کیا گیا توعدالت کے احاطے سے باہر آتے ہوئے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میری زندگی ابھی خطرے میں ہے۔‘

ظاہرجعفر اپنی دُھن میں پولیس کے جھرمٹ میں ہاتھوں میں ہتھکڑی پہنے چلتے رہے۔ ظاہر جعفر نے دو دن پہلے پیشی پر جو میلی شرٹ پہنی تھی وہی حلیہ آج بھی تھا لیکن آج ماسک چہرے سے سرکا ہوا تھا۔ جس کو ساتھ چلتے پولیس والے نے چہرے کے اوپر کروانے کی کوشش کی۔

واپسی پر جب میڈیا نے پولیس کی گاڑی تک ظاہر جعفر کا پیچھا کیا اور ظاہر پولیس وین میں سوار ہونے لگے تورش ہونے کی وجہ سے ظاہر کو دھکے لگ رہے تھے۔ جس پر پاس کھڑے ایک پولیس والے نے بے اختیار کہا ’ ظاہرآرام سے‘ جس کے بعد قتل کے ملزم ظاہر جعفر کو گاڑی میں سوار کرایا گیا۔

سوموار کے روز نور مقدم قتل کیس کی سماعت مختصر سماعت ڈیوٹی مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا کی عدالت میں ہوئی۔

دوسری جانب سوموار کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ’نور مقدم قتل کیس میں ملزم کے والد کو بھی پکڑ لیا ہے اور اسی ہفتے ملزم کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کے لیے کابینہ میں سمری چلی جائی گی۔‘

پریس کانفرنس میں ان کا مزید کہنا تھا کہ نور مقدم کے مقدمے میں ملزم کا نام بی این آئی ایل اور بلیک لسٹ پر ڈال دیا ہے تاکہ وہ بیرون ملک فرار نہ ہوسکے۔ ان کے مطابق ملزم کے والد اور ملازم کو بھی پکڑ لیا ہے اور کسی ملزم سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

اس موقعے پر ان کا کہنا تھا کہ ’میری خواہش ہے کہ چین کے نظام کی یہاں کاپی ہو کہ قاتل اور کرپٹ اور چور کو موقع پر ہی سزائے موت ہو۔‘

آج جب قتل کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو سخت سکیورٹی کے حصار میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو عدالت نے پولیس کی استدعا پر ملزم ظاہر جعفر کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

 جس کے بعد عدالت نے پولیس کو ملزم سے تفتیش کرکے 28 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

ملزم ظاہر جعفر نے عدالت میں دو تین بار بولنے کی کوشش کی اور کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ چھوٹےسے کمرہ عدالت میں رش کے باعث گھٹن کا ماحول تھا۔

 ملزم کو سامنے کر کے حاضری لگائی گئی لیکن ملزم کی جگہ ملزم کے وکیل انصر نواز مرزا نے ہی دلائل دیے ۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پانچ دن کا ریمانڈ بہت ہے سب کچھ ریکورہو چکا ہے عدالت مزید ریمانڈ نہ دے۔‘

واضح رہے کہ ملزم کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہو چکا ہے جس کے بعد آج مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈحاصل کیا گیا ہے۔

 سرکاری وکیل ساجد چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ’ملزم سے ہم نے پستول ریکور کر لیا ہے، جب کہ موبائل ریکور کرنا ہے۔‘

نور مقدم کے والد کے وکیل شاہ خاور نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ امید ہے جلد ہی اس کیس میں چالان پیش ہو جائے گا اور ٹرائل آگے بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ یہ سیدھا سیدھا کیس ہے۔سب ثبوت سامنے موجود ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملزم کو جس عدالت میں پیش کیا گیا وہاں لائٹ ہی نہیں تھی۔ موبائل کی روشنی میں سماعت کی گئی۔

چھوٹا سا آٹھ بائی سولہ کا کمرہ عدالت، جس میں بمشکل وکلا اور پولیس ہی کھڑے ہو سکے تھے۔

 بارش، گرمی اور میڈیا کے رش کی وجہ سے حبس بھی زیادہ تھی۔

واضح رہے گزشتہ منگل 20 جولائی کی شام اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کا مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔

جس کے بعد ملزم کو موقع سے حراست میں لے لیا گیا تھا۔ جبکہ ملزم ظاہر جعفر مشہور بزنس مین ذاکر جعفر کے صاحبزادے ہیں، جو جعفر گروپ آف کمپنیز کے مالک ہیں۔

پولیس نے جرم کی اعانت اور شواہد چھپانے کے جرم میں ملزم کے والدین ذاکرجعفر اور ان کی اہلیہ عصمت آدم جی سمیت دو گھریلو ملازمین کو بھی حراست میں لے کر دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر رکھا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان