اٹلی میں تین ماہ سے لاپتہ پاکستانی لڑکی کی کہانی میں نیا موڑ

ثمن عباس 30 اپریل کو آخری دفعہ دیکھی گئی تھیں اور پولیس کو شک ہے کہ ان کے والدین، چچا اور ان کے کزن نے انہیں قتل کر دیا ہے۔

اطالوی ٹی وی کے ایک پروگرام میں 21 سالہ ثاقب ایوب ایک رپورٹر کے سامنے ایک سوٹ کیس کھولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس میں بڑے قرینے سے تہہ ہوئے دو جوڑے رکھے ہیں اور ساتھ میں کچھ تحائف بھی۔ ثاقب اطالوی زبان بہت اچھی طرح نہیں بول پاتے لیکن وہ کوشش کر کے رپورٹر کو سامان کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

جیسے جیسے وہ کوئی لفافہ یا ڈبہ کھولتے ہیں تو ہمیں ان کے ہاتھ کانپتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک خوبصورت ہار، ایک انگوٹھی، ایک کڑا، ایک قیمتی ڈبے میں سجاوٹی پھول۔ پھر، ایک ہلکے گلابی رنگ کا شادی کا جوڑا۔

’یہ میری امی نے ثمن کے لیے پاکستان سے بھیجا تھا،‘ ثاقب نے ایک اداس مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ پھر کچھ دیر وہ اس لباس کو دیکھتے رہے۔ ساتھ نئے میچنگ جوتے بھی تھے جن میں کاغذ بھرا ہوا تھا۔

یہ ساری چیزیں ابھی تک اس سوٹ کیس میں موجود تھیں کیونکہ ان کو استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ اور ثاقب اس رپورٹر کے ساتھ اس لیے کھڑے ہوئے تھے کیونکہ ان کی ہونے والی دلہن، 18 سالہ ثمن عباس اٹلی کے شہر نوویلارا سے تین مہینے سے لاپتہ ہیں۔ مقامی پراسیکیوٹر اور پولیس کا خدشہ ہے کہ ثمن کے خاندان نے ان کا قتل کر دیا ہے۔ لیکن 67 دن کی انتھک تلاش کے باوجود ابھی تک نہ ثمن مل سکی ہیں اور نہ ہی ان کی لاش۔ اس کہانی کا پس منظر یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

اب تک جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ثمن کے والدین اس کی شادی پاکستان میں موجود اس کے کزن سے طے کر چکے تھے۔ ثمن اس رشتے سے ناخوش تھیں۔ ثمن اور ثاقب ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور شادی کرنا چاہتے تھے۔ ثاقب اٹلی میں روم کے قریب ایک شہر میں مقیم ہیں۔ ثمن کے والدین اس رشتے کو ناپسند کرتے تھے اور ثاقب کا کہنا ہے کہ وہ اسے دھمکی بھی دے چکے تھے کہ وہ ’ثمن کی زندگی سے چلا جائے، ورنہ۔۔۔‘

والدین کا جبر اور اولاد کی اپنی پسند۔ یہ کہانی بہت غیر معمولی نہیں ہے لیکن اس دفعہ اس کا انجام انتہائی درد ناک ہے۔ ثاقب نے ہمیں بتایا کہ ثمن نے اپنے والدین کو راغب کرنے کی بہت کوشش کی۔ ثاقب نے خود بھی ثمن کی والدہ سے بات کی لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔

پچھلے سال جب ثمن کو یہ اندیشہ ہوا کہ اس کے والدین اسے پاکستان لے جا کر اس کی جبری شادی کروانے کی تیاری کر رہے ہیں تو انہوں نے مقامی سوشل ورکرز سے بات کی۔ والدین کے ساتھ سمجھوتا نہ ہونے کے بعد ثمن کو ایک حفاظتی کمیونٹی میں منتقل کر دیا گیا۔ وہ غائب ہونے سے سات مہینے پہلے اپنا گھر چھوڑ چکی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گھر والوں سے خوف تھا لیکن اپنی زندگی اپنی خوشی سے جینے کی خواہش بھی۔ ثاقب اور ثمن نے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ثاقب نے ہمیں بتایا کہ ’ہمیں یقین تھا کہ اطالوی سسٹم ہماری مدد کرے گا۔‘ لیکن سسٹم کی اپنی شرائط تھیں۔ شادی کے لوازمات پورے کرنے کے لیے انہیں ثمن کے شناختی کاغذات اور ویزا وغیرہ کی ضرورت تھی۔ ثمن کو کوئی اور راستہ نہیں دکھا۔ وہ گھر چھوڑ چکی تھی لیکن وہاں واپس گئی، اس ارادے سے کہ اپنے والدین کو منانے کی آخری کوشش کریں گی اور ساتھ میں اپنی دستاویزات بھی حاصل کر پائیں گی۔

20 اپریل، رمضان کا مہینہ تھا جب ثمن نوویلارا کے شہر میں اپنے گھر واپس لوٹیں۔ دس دن بعد 30 اپریل کو ثمن کو آخری دفعہ دیکھا گیا اور اسی رات ثاقب سے اس کا آخری دفعہ ٹیکسٹ کے ذریعے رابطہ ہوا۔ بعد میں سی سی ٹی وی سے حاصل کی جانے والی فوٹیج سے یہ پتہ چلا کہ ثمن 30 اپریل کی رات اپنے گھر والوں کے ساتھ گھر سے باہر نکلیں لیکن جب سب واپس آئے تو وہ ساتھ نہیں تھیں۔

ثاقب نے انٹرویو میں ہمیں بتایا، ’ہمیں پتہ تھا کہ ثمن جب اپنے گھرجائے گی تو اس کے والدین سختی کریں گے۔ شاید اس پر ہاتھ بھی اٹھائیں گے۔ یہ جانتے ہوئے وہ گھر جانے کو تیار تھی۔ ثمن کمال کی دلیر لڑکی تھی۔‘

اطالوی میڈیا نے اس خبر کو بہت زیادہ اہمیت دی اور لمحہ بہ لمحہ صورتِ حال سے لوگوں کو آگاہ کرتا چلا گیا۔ آخر ایک اخبار نے شبّر عباس کا پاکستان میں پتہ لگا لیا اور ان سے فون پر انٹرویو لیا جو اطالوی میڈیا پر نشر ہوا۔ شبّر عباس کا کہنا تھا کہ یہ قتل کا الزام بے معنی ہے اور وہ ان ساری خبروں سے حیران ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان سے دس جون کو واپس اٹلی پہنچ جائیں گے اور خود پولیس کو پوری داستان سمجھا دیں گے۔ بیلچے اور بالٹیاں گھر سے لے کر وہ فارم پر ٹیوب ٹھیک کرنے جا رہے تھے جیسے کہ ان کا کام ہے۔ ثمن کہاں ہے؟ انہوں نے بتایا، ’ثمن تو بیلجیئم میں ہے۔‘

تاہم ابھی تک نہ تو شبر عباس اور نہ ہی ان کے خاندان کو کوئی اور شخص اٹلی لوٹا ہے۔

یہ ان کا آخری بیان ہے اور اس کے بعد سے ان کا میڈیا سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

اپنے گھر میں کچھ دن گزارنے کے بعد ثمن کو یہ شک ہونے لگا کہ وہ ایک بڑی مصیبت میں پھنس گئی ہیں اور یہ اندازہ ہوا کہ وہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے ایک دن ثاقب کو فون پر آڈیو میسج بھیجا جس میں کہا کہ انہوں نے اپنے والدین کو ’اسے مار ڈالو‘ کہتے ہوئے سنا اور جب انہوں نے اپنی ماں سے اس بات کی وضاحت مانگی توجواب ملا کہ ’نہیں نہیں یہ تمہاری بات نہیں کر رہے۔ یہ پاکستان میں ایک لڑکی ہے جو بھاگ گئی تھی، اس کی بات کر رہے ہیں۔‘ آپ یہ آڈیو میسج ثمن کی آواز میں یہاں سن سکتے ہیں۔

کچھ ہی دیر میں ثمن نے ثاقب سے یہ بھی کہا، ’ایسا کر بھی سکتے ہیں۔ کچھ اعتبار نہیں۔‘

ثاقب کا کہنا ہے کہ ثمن انہیں یہ بتا چکی تھی کہ اگر انہیں اس کی طرف سے کچھ دن تک کوئی اطلاع نہ ملے تو وہ یہ سمجھ جائیں کہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے اور پولیس کو اطلاع دے دیں۔

ثاقب نے ایسا ہی کیا۔ انہوں نے اپنے علاقے کی پولیس سے رجوع کیا اور اس کے بعد اداروں کی کاروائی میں دیر لگی اور تھوڑی لاپرواہی بھی ہوئی، لیکن بلآ خر نوویلارا کے مقامی سٹیشن سے پانچ مئی کو پولیس والے ثمن کے گھر چیک کرنے کے لیے پہنچ گئے۔ گھر پر تالا پڑا تھا اور معلوم ہوا کہ اس کے والدین پاکستان جا چکے ہیں۔ والدین کی ایئر پورٹ کی سی سی ٹی وی کی وڈیو حاصل ہو گئی لیکن ثمن کے نام سے نہ کوئی ٹکٹ کٹا اور نہ ہی وہ کہیں نظر آئیں۔ تب جا کر اطالوی حکام نے اس کیس کو آگے بڑھایا۔

ثمن کے گھر کے آس پاس ہر جگہ تلاشی شروع ہو گئی۔ اس کے والد جس کمپنی میں کھیتی باڑی کرتے تھے وہاں ہر کھیت، گرین ہاؤس، کنویں اور نہر میں مشینوں اور جرمنی سے منگوائے ہوئے خاص کتوں کے زریعے تلاشی لی گئی۔ کچھ دن بعد ماہرِ آثارِ قدیمہ نے بھی اس تلاش میں حصہ لیا تاکہ وہ جانچ سکیں کہ زمین کا کون سا حصہ چھیڑا گیا ہے۔

علاقے کی پراسیکیوٹر نے پانچ لوگوں کو قتل کی تفتیش میں نامزد کر دیا: ثمن کی ماں، باپ، چچا اور دو کزن۔ چھوٹے بھائی سے پوچھ گچھ ہو چکی ہے اور ایک کزن پولیس کی تحویل میں ہے جو جنوبی فرانس میں پیرس سے بارسلونا جانے والی بس میں بغیر کاغذات کے بھاگتا ہوا پکڑا گیا۔

12 جولائی کو 67 دنوں کی انتھک محنت کے بعد اطالوی پولیس نے تلاش روک دی۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کیس بند ہو گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تلاش اس لیے روکی گئی کیونکہ اب اس علاقے میں کوئی جگہ باقی نہیں بچی جہاں ثمن کی لاش کو نہ ڈھونڈا گیا ہو۔ یہ بات اب ثاقب کو یہ حوصلہ دلاتی ہے کہ ممکن ہے کہ ثمن زندہ ہے اور اسے کہیں زبردستی رکھا گیا ہے۔

23 جولائی سے اب اس کیس کے حوالے سے عدالت میں تمام فریقین کے بیانات جمع کرنے شروع کر دیے ہیں۔

جب ثمن عباس کی گمشدگی اور ممکنہ قتل کی بات سامنے آئی تو اٹلی میں رہنے والی پاکستانی برادری پہلے تو کئی دن خاموش رہی لیکن کچھ ہفتوں بعد انہوں نے بھی ثمن کے والدین کی مذمت کی۔ انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایسے واقعات سے سب کی توجہ ان کی ثقافت اور مذہب پر پڑتی ہے۔ کمیونٹی کے کچھ لوگوں نے جبری شادیوں کے خلاف کھل کر بات کی لیکن زیادہ تر ردِعمل یا تو دیکھنے میں نہیں آیا یا پھر صرف اس حد تک سنائی دیا کہ سارے مسلمان اور پاکستانی ایسے نہیں اور ایک انسان کے جرم کو اس کی قومیت یا اس کے مذہب سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔

یہ ساری باتیں درست ہیں لیکن اٹلی میں ابھی تک لوگوں کو 2018 میں 23 سالہ ثنا چیمہ کے ساتھ جو ہوا وہ یاد ہے۔ خاندان سے ملنے کے بہانے اٹلی سے پاکستان لے جا کر، ثناء چیمہ کا قتل کر دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے 2008 کا وہ وحشیانہ واقعہ بھی یاد ہے جب ایک پاکستانی باپ نے اپنی بیس سالہ بیٹی حنا سلیم کو بریشیا میں چاقو کے 28 وار کر کے قتل کر دیا اور گھر ہی کےاحاطے میں دفنا دیا۔

جون کے مہینے میں پاکستانی کونسل جنرل ڈاکٹر منظور احمد چودھری نوویلارا شہر پہنچے اور انہوں نے وہاں کی مقامی انتظامیہ، مقامی میڈیا اور پاکستانی کمیونٹی سے دو ٹوک ملاقاتیں کیں۔ جرم کو جرم کہا اور مجرموں کو پکڑنے میں پاکستان کے تعاون کا وعدہ کیا۔ انہوں نے کھل کر ثمن کے ساتھ ہونے والے اس واقعہ کو سانحے سے تشبیہ دی۔

ثمن کے لاپتہ ہونے کے دو مہنیے بعد کئی پاکستانی نوویلارا شہر میں ثمن کے لیے جمع ہوئے۔ اسلامک سوسائٹی کے عاطف نذیر منتظمین میں سے تھے اور انہوں نے نوجوان پاکستانی لڑکیوں کو دعوت دی کہ وہ اس اظہارِ یک جہتی میں تقاریر کریں۔ انہوں نے بڑی کوشش کی کہ کمیونٹی کی طرف سے بڑی تعداد میں نمائندگی ہو اور لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ شامل ہوں۔

عاطف خود یہاں 20 سال سے مقیم ہیں اور اپنی تعلیم بھی انہوں نے یہیں مکمل کی۔ ان کا دکھ یہ ہے کہ اگر پاکستانی کمیونٹی زیادہ منظم ہوتی اور سوشل ورکرز کے ساتھ مل کر کام کرتی تو شاید ثمن کے خاندان کے ساتھ مسائل حل کرنے میں کچھ مدد کر پاتی۔ ان کی نظر میں اصل مسئلہ مختلف نسلوں کے ساتھ چلنے کا ہے لیکن وہ امید رکھتے ہیں کہ لوگوں کے رویوں میں تبدیلی وقت کے ساتھ آئے گی۔

جب تک میری سانسیں چل رہی ہیں جب تک میں ثمن کو ڈھونڈوں گا اور ڈھونڈ کر رہوں گا انشااللہ، اور جیسا ہمارے ساتھ ہوا ہے ایسا میں انشااللہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ نہیں ہونے دوں گا۔

 

لیکن ایک جو اہم موضوع ہے اس پر یہاں رہنے والے پاکستانیوں کو کھل کر بات کرنی پڑے گی وہ ہے اپنی بیٹیوں کی جبری شادیاں کروا دینا اور ان کی پسند اور ان کے حق کو اہمیت نہ دینا۔ کئی نوجوان پاکستانی لڑکیاں اس بات پر توجہ دلا چکی ہیں کہ وہ مظاہروں میں ڈھیر ساری باتیں کرنے اور سننے کے بعد جب اپنے گھر واپس لوٹتی ہیں تو پھر اسی خوف کے ماحول میں اپنے آپ کو پاتی ہیں۔

لیکن کمیونٹی میں کوئی ثاقب کی بات نہیں کرتا۔ اپنا کیس لڑنے کے لیے اور ثمن کو انصاف دلوانے کے لیے وہ اور ان کے چند دوست اکیلے ہی کھڑے ہیں۔ ابھی تک یہاں کی پاکستانی کمیونٹی نے ثمن اور ثاقب کی محبت پر بات کرنے سے گریز کیا ہے، اور ثاقب کو ہمت یا سہارا نہیں ملا۔

 اس کے بر عکس جب اطالوی میڈیا پر ثاقب اپنی کہانی سناتے ہیں اور ثمن کی بات کرتے ہیں تو لوگوں کو ان سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی نظر میں اس محبت کی کہانی کا انجام کچھ اور ہونا چاہیے تھا، اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنا ہر ایک انسان کا حق ہے۔

ثاقب نے ایک اٹالین ٹاک شو میں درخواست کی کہ وہ پروگرام ختم ہونے سے پہلے چند آخری الفاظ اردو میں ادا کرنا چاہتے ہیں۔ ثاقب نے پھر، بہادری سے کیمرے کی طرف مڑ کر کہا، ’جب تک میری سانسیں چل رہی ہیں جب تک میں ثمن کو ڈھونڈوں گا اور ڈھونڈ کر رہوں گا انشااللہ، اور جیسا ہمارے ساتھ ہوا ہے ایسا میں انشااللہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ نہیں ہونے دوں گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین