’ع اتنا ضروری کہ پارٹی بدلنے والے کشمیر کے عثمان بزدار‘

ناصر بٹ نامی صارف نے فیس بک پر اپنے خیالات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ "ع" اتنا ضروری ہے کہ اسی الیکشن کے دوران پارٹی بدل کر مسلم کانفرنس سے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے عبدالقیوم نیازی کشمیر کے عثمان بزدار لگا دیے گئے۔‘

(ٹوئٹر: پرائم منسٹر آفس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وزیر اعظم کے لیے پی ٹی آئی کی جانب سے عبدالقیوم نیازی کو نامزد کیے جانے پہ سوشل میڈیا پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ان کے وزیر اعظم بننے پر 17 جولائی کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش رہی جس میں میں عمران خان عبدالقیوم نیازی کا نام پڑھ کر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ کشمیر میں نیازی کہاں سے آ گئے؟

عمران خان نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ’بڑے ناموں‘ بیرسٹر سلطان محمود اور تنویر الیاس کو چھوڑ کر عبدالقیوم نیازی کو  منتخب کیوں کیا، یہ سوال بھی کئی لوگوں کو ستانے لگا۔

سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے اسے ’میرٹ کی بالادستی‘ قرار دیا تو کئی کا ماننا تھا کہ اس کے پیچھے کچھ اور ’عوامل‘ کار فرما ہیں۔

نجی ٹی وی چینل سے تعلق رکھنے والے صحافی وقار ستی نے ٹوئٹر پر 31 جولائی یعنی عبدالقیوم نیازی کے وزیر اعظم منتخب ہونے سے چار روز قبل ایک  پیغام میں لکھا تھا کہ ’ وزیراعظم عمران خان کو اہم روحانی شخصیت نے مشورہ دیا ہے کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے لیے 13 اور18 کے نمبر فائدہ مند ہوں گے‘

’اس لیے حلقہ  LA 13اور 18 سے بالترتیب انصر ابدالی اور قیوم نیازی کو خصوصی طور پر پی ایم ہاؤس کے ہیلی کاپٹر پر اسلام آباد بلایا گیا۔اب وزیر اعظم بننے کے امیدواروں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔‘

گزشتہ روز عبدالقیوم نیازی کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد دیگر کئی سوشل میڈیا صارفین نے بھی خبر کے اس پہلو کے بارے میں بات کی۔

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ ’عمران خان، عثمان بزدار، علیم خان، عارف علوی وغیرہ سب ع والے لوگ ہیں۔‘

انہوں نے مزید تحریر کیا کہ کرسی کا ویزا ع والے لوگوں کو ہی دیا جاتا ہے۔ اس لیے عبد القیوم نیازی صاحب کو چاہیے کہ اپنے والدین کا شکریہ ادا کریں کہ نام ع سے شروع کیا۔

رضی الدین رضی کا کہنا تھا: ’ بابوں اور پیروں فقیروں کا کھیل ایوانوں میں ہمیشہ سے چل رہا ہے۔ بینظیر ہوں یا عمران اور نواز سب ان کے اسیر ہیں۔ ایک پیر سپاہی کی شہرت سن کر اسے ضیا نے ملتان سے اسلام آباد بلا لیا اور پھر پیر سپاہی نے فرمائش کی تھی کہ اسے ریڈیو کے ذریعے قومی نشریاتی رابطے پر دم کی سہولت دی جائے۔‘

ناصر بٹ نامی صارف نے فیس بک پر اپنے خیالات شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ "ع" اتنا ضروری ہے کہ اسی الیکشن کے دوران پارٹی بدل کر مسلم کانفرنس سے پی ٹی آئی میں شامل ہونے والے عبدالقیوم نیازی کشمیر کے عثمان بزدار لگا دیئے گئے۔‘

دوسری جانب علی گیلانی نامی صارف کا کہنا تھا: ’ہمیں عبدالقیوم نیازی کے وزیراعظم منتخب ہونے کی پذیرائی کرنی چاہیے کہ ایسا ہونے سے اقربا پروری کو چیلنج کیا ہے۔‘

نوید خان نے ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’مبارک ہو، مجھے امید ہے کہ آپ نے سیاست اور سماجی کاموں میں حصہ لیا ہے۔‘

انہوں نے مزید تحریر کیا: ’اب آپ کی تاریخ عمران خان تحریر کریں گے، محنت کرکے اعلیٰ مقام حاصل کریں۔ کشمیر کو آپ کی ضرورت ہے۔‘

منیب بٹ نے لکھا کہ ’عبدالقیوم نیازی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ اس سے ثانت ہوتا ہے کہ ان کے حلقے کے عوام ان کے پر اعتماد کرتے ہیں۔ عبدالقیوم نیازی کا بھی وزیر اعظم بننے کا اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور ایم ایل اے کا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ