مریخ جیسے ماحول میں ایک سال گزارنے کی ملازمت

مریخ پر خلاباز بھیجنے کی تیاری کے لیے ناسا نے جمعے سے چار افراد کے لیے مریخ جیسے ماحول والے Mars Dune Alpha میں ایک سال تک رہنے کے لیے درخواستیں لینا شروع کر دی ہیں۔

ناسا نے یہ تصویر 22 جون 2021 کو جاری کی ہے جس میں خلا میں چہل قدمی کرتے ہوئے خلا نوردوں کو دکھایا گیا ہے (تصویر ناسا/ اے ایف پی)

’دا مارشین‘  فلم میں امریکی اداکار میٹ ڈیمن کی طرح اگر آپ بھی اپنے اندر چھپے مہم جو کو ڈھونڈنا چاہتے ہیں یا مریخ جیسی الگ تھلگ جگہ پر ایک سال گزارنا چاہتے ہیں تو ناسا کے پاس آپ کے لیے ایک ملازمت ہے۔

مریخ پر خلاباز بھیجنے کی تیاری کے لیے ناسا نے جمعے سے چار افراد کے لیے مریخ جیسے ماحول والے Mars Dune Alpha میں ایک سال تک رہنے کے لیے درخواستیں لینا شروع کر دی ہیں۔

ہیوسٹن میں جانسن سپیس سینٹر کی ایک عمارت کے اندر موجود مارس ڈیون الفا سات ہزار مربع فٹ پر محیط ایک مصنوعی مسکن ہے جو تھری ڈی پرنٹرز کے ذریعے بنایا گیا ہے۔

یہاں رہنے والے رضاکار جنہیں معاوضہ بھی ادا کیا جائے گا مصنوعی خلائی چہل قدمی، گھر والوں سے محدود مواصلاتی رابطے، محدود خوراک اور وسائل اور ساز و سامان کی ناکامی جیسے حالات میں ایک سمولیٹڈ مارشین ایکسپلوریشن مشن پر کام کریں گے۔

ناسا ان میں تین تجربات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جن میں سے پہلے تجربے کا آغاز اگلے سال موسم خزاں سے ہو گا۔

وہاں ریڈی ٹو ایٹ سپیس فوڈ فراہم کی جائے گی اور اب تک مسکن میں کھڑکیوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ وہاں کچھ پودے اگائے جائیں گے لیکن ان میں آلو کے پودے نہیں ہوں گے جیسا کہ فلم ’دا مارشین‘ میں دکھایا گیا ہے۔

فلم میں میٹ ڈیمن نے مریخ پر پھنسے ہوئے خلاباز مارک وٹنی کا کردار ادا کیا تھا جو وہ آلو اُگا کر زندہ رہے تھے۔

ناسا کے لیڈ سائنسدان گریس ڈگلس نے کہا کہ ’ہم سمجھنا چاہتے ہیں کہ انسان ان (مصنوعی حالات) میں کس طرح رہ پائے گا۔ ہم یہاں مریخ جیسے حقیقی حالات پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

رضا کاروں کے لیے درخواستیں دینے کا عمل جمعہ سے شروع ہو گیا ہے لیکن اس کے لیے انتہائی کڑی شرائط رکھی گئی ہیں۔

ان شرائط میں سائنس، انجینئرنگ یا ریاضی کے میدان میں ماسٹر ڈگری اور پائلٹ کا تجربہ لازمی ہے۔ صرف امریکی شہری یا گرین کارڈ ہوکڈرز ہی درخواست دینے کے اہل ہیں۔

درخواست دہندگان کی عمر 30 سے 55 کے درمیان ہونی چاہیے، اچھی جسمانی صحت کے ساتھ انہیں کوئی غذائی مسائل اور موشن سکنیس کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

کینیڈا کے سابق خلا باز کرسٹ ہیڈ فیلڈ کے مطابق ان شرائط سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناسا ایسے لوگوں کی تلاش کر رہا ہے جن کا معیار خلا بازوں کے قریب ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک اچھی بات ہے کیونکہ اگر شرکا ان خلا بازوں سے ملتے جلتے ہیں جو واقعی مریخ پر جائیں گے تو یہ ایک بہتر تجربہ ہو گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ’مارس 500‘ نامی مصنوعی روسی مشن اس لیے ناکام ہوا کیونکہ اس میں روزمرہ زندگی سے لوگوں کو لیا گیا تھا۔

2013 میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر مدار میں پانچ مہینے گزارنے والے ہیڈ فیلڈ نے کہا کہ ’صحیح شخص کے لیے یہ مشن بہت اچھا ہو سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


انہوں نے کہا: ’ذرا سوچیں کہ آپ نیٹ فلکس کو کیسے دیکھ پائیں گے۔ اگر ان کے پاس موسیقی کا کوئی آلہ ہے اور وہ موسیقی کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے ہوئے وہاں داخل ہوں اور ایک سال بعد جب واپس لوٹیں تو کنسرٹ میوزیشن بن چکے ہوں۔‘

یہ آپ کی عام زندگی کے تقاضوں سے ایک سال کے لیے ’ناقابل یقین آزادی‘ ہوسکتی ہے۔

ہیڈ فیلڈ، جن کا ناول ’دی اپالو مرڈرز‘ موسم خزاں میں سامنے آرہا ہے، نے کہا کہ اس کے لیے رویہ سب سے اہم ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شرکا کو ڈیمن وٹنی کردار کی طرح بننے کی ضرورت ہے یعنی انتہائی قابل، خود کفیل اور آرام کے لیے دوسرے لوگوں پر انحصار نہ کرنے والا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس