پی ڈی ایم اجلاس: ’اپوزیشن کا مقصد اب حکومت گرانا نہیں‘

سیاسی تجزیہ کار اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری کے مطابق: ’پی ڈی ایم کے غبارے سے اسی وقت ہوا نکل گئی تھی جب پیپلز پارٹی اور اے این پی اس اتحاد سے علیحدہ ہوئے۔‘

اسلام آباد میں ہونے والے پی ڈی ایم اجلاس کے شرکا (فوٹو: پاکستان مسلم لیگ ن میڈیا سیل)

حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے بدھ کو اسلام آباد میں ایک اجلاس کے بعد اتحاد کی مرکزی قیادت نے ایک بار پھر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ای ووٹنگ سمیت انتخابی اصلاحات‘ کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو بڑی جماعتوں کی علیحدگی کے بعد پی ڈی ایم اب کتنی موثر رہ گئی اور حکومت کس حد تک اس اتحاد کو سنجیدہ لے رہی ہے؟

مبصرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے باہر ہونے کے بعد سے اس اتحاد کو غیر موثر تصور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر حسن عسکری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پی ڈی ایم کے غبارے سے اسی وقت ہوا نکل گئی تھی جب پیپلز پارٹی اور  اے این پی اس اتحاد سے علیحدہ ہوئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’انتخابی اصلاحات ہوں یا عوامی مسائل اپوزیشن جماعتوں کی ترجیح صرف اقتدار کا حصول ہے۔ انتخابی اصلاحات پر حکومت یا اپوزیشن اس لیے سنجیدہ نہیں کہ ہر جماعت صرف اقتدار کا راستہ تلاش کرتی ہے۔ انہیں شفاف انتخابات سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ان کے ذاتی ایجنڈے ہیں، جن سے عوام کا کوئی لینا دینا نہیں۔‘

حسن عسکری کے مطابق: ’اپوزیشن اب انتخابی تیاریاں کرنے کی کوشش میں ہے، جلسے جلوس کرے گی لیکن ان کا مقصد اب حکومت گرانا نہیں ہوگا۔‘

دوسری جانب تجزیہ کار مزمل سہروردی بھی اسے ’انتخابی حکمت عملی‘ سمجھتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی اور اے این پی کو خود الگ کیا گیا ہے تاکہ یہ آئندہ انتخابات میں علیحدہ سے مضبوط اور موثر اتحاد بنائیں۔‘

مزمل کے بقول: ’پیپلز پارٹی اور  اے این پی کے ساتھ مسلم لیگ ن اور مولانا فضل الرحمٰن کا انتخابی اتحاد نہیں ہوسکتا تھا، لہذا انہوں نے انتخابات کے قریب پی ڈی ایم توڑنے کی بجائے پہلے ہی توڑ دی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پی ڈی ایم بڑا اتحاد ہے۔ جے یو آئی مسلم لیگ ن کو مذہبی ووٹ لینے میں سپورٹ دے گی، لہذا اب پی ڈی ایم کا بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا پر فوکس ہوگا۔‘

کیا انتخابی تیاریاں شروع ہوگئیں؟

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پی ڈی ایم کے اعلامیے میں حکومت گرانے کا کوئی تذکرہ نہیں۔ انہوں نے شفاف الیکشن کے لیے حکومتی اداروں پر دباؤ بڑھانے اور جلسوں کی صورت میں عوامی رابطہ مہم چلانے کا اعلان کیاہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلمان غنی کے مطابق: ’میاں نواز شریف کی واپسی ہو یا اپوزیشن کے شفاف انتخابات کے مطالبات، یہ سب الیکشن کی تیاری کے اشارے ہیں۔‘

ان کے خیال میں: ’اپوزیشن نے اپنی صفیں سیدھی کرنا شروع کر دی ہیں لیکن عوام میں تمام اپوزیشن جماعتوں کی شہرت متاثر ہوئی ہے اور لوگ سوچ رہے ہیں کہ عوامی مسائل کی بجائے تمام جماعتیں اپنے مفادات کے تحت کام کر رہی ہیں۔‘

سلمان غنی نے  مزید کہا کہ حکومت نے بھی انتخابی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں، وزیر اعظم کے ہنگامی دورے اور انتخابی اصلاحات یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ ملک میں انتخابی مہم کا آغاز ہوچکا ہے۔‘

سلمان غنی کا مزید کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان بیک ڈور رابطوں کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ دوبارہ کوئی اتحاد چاہتے ہیں بلکہ وہ صرف آئندہ انتخابات شفاف بنانے پر ایک ہوسکتے ہیں کیونکہ گلگت ہو، کشمیر ہو یا آئندہ انتخاب، آخر ن لیگ اور پیپلز پارٹی ہیں تو ایک دوسرے کے سیاسی مخالف، اس لیے اب ماضی جیسا پی ڈی ایم اتحاد ممکن نہیں لگتا۔‘

مولانا نے کیا کہا؟

پی ڈی ایم کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور مریم نواز نے ویڈیو لنک کے زریعے شرکت کی جبکہ شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی سمیت وفد کے ہمراہ بدھ کو اسلام آباد اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد دیگر رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو ’ہر محاذ پر ناکام‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’ہم سے زیادہ پاکستان کا نہ کوئی وفادار ہے اور نہ کسی کو سمجھتے ہیں۔ ملک کے مامے چاچے بننے والے پیچھے رہیں، یہ ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے۔‘

علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ ’حکومت چاہتی ہے کہ نواز شریف واپس نہ آئیں لیکن اس معاملے کا سیاسی استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن وہ (نواز شریف) علاج کے بغیر پاکستان نہیں آئیں گے۔ تین دفعہ کے وزیر اعظم کی صحت پر سیاست گری ہوئی بات ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست