’دردانہ زندگی کی مشکلات کو کبھی دل پر نہیں لیتی تھیں‘

سینیئر اداکارہ ڈاکٹر دردانہ بٹ 83 برس کی عمر میں کرونا وائرس کے باعث انتقال کر گئیں۔ ان کی وفات پر ان کے ساتھی اداکاروں کی کچھ یادیں

دردانہ بٹ سرطان کے مرض میں مبتلا تھیں اور پچھلے کچھ دنوں سے کرونا وائرس کے باعث وینٹی لیٹر پر تھیں  (فوٹو: خالد ملک انسٹاگرام اکاؤنٹ)

’ففٹی ففٹی‘کی صفیہ، ’آنگن ٹیڑھا‘کی سلطانہ صاحبہ اور ’تنہائیاں‘ میں بی بی کا کردار نبھانے والی پاکستان کی سینیئر اداکارہ ڈاکٹر دردانہ بٹ 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

دردانہ بٹ سرطان کے مرض میں مبتلا تھیں اور پچھلے کچھ دنوں سے کرونا وائرس کے باعث وینٹی لیٹر پر تھیں۔

ان کے انتقال کے حوالے سے سب سے پہلے خبر انسٹاگرام پر اداکار خالد ملک نے پوسٹ شیئر کی، جنہوں نے لکھا: ’دردانہ (دودی) آپا ہم سب کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ عقلمند، مزاحیہ اور بصیرت والی داردانہ بٹ ایک خاص روح تھیں، جو اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔‘

انتقال سے کچھ روز قبل خالد ملک نے ہی انسٹاگرام پر ان کی صحت کے لیے دعا کی اپیل کی تھی۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’آج ان کا وینٹی لیٹر پر چھٹا دن ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق دردانہ آپا (اپنی صحت کے لیے) جنگ لڑ رہی ہیں۔ اب ان کے لیے دعا کا وقت ہے، اس لیے سب ان کے لیے دعائیں جاری رکھیں، اللہ ہماری ضرور سنے گا۔‘

دردانہ بٹ کے انتقال کے حوالے سے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر احمد شاہ نے بھی تصدیق کی اور گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دردانہ بٹ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی معزز ممبر تھیں۔ آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی ان کے انتقال پر گہرے دکھ میں ہے۔‘

ڈاکٹر دردانہ بٹ کنیئرڈ کالج سے فارغ التحصیل تھیں۔ انہوں نے امریکا کی ٹولیڈو یونیورسٹی سے اوہائیو ایجوکیشن ایڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ان کی شادی اپنے کزن سے ہوئی تھی، جن کا انتقال 1970 میں ہی ہوگیا تھا۔ دردانہ بٹ نے ٹی وی پر ادکاری کا باقاعدہ آغاز 1978 میں پی ٹی وی کے مشہور شو ’ففٹی ففٹی‘ سے کیا، اس کے بعد انہوں نے ایک کے بعد ایک مشہور ڈرامے ’آنگن ٹیڑھا‘، ’نوکر کے آگے چکر‘ اور ’تنہائیاں ‘ میں اپنی اداکارہ کے جوہر دکھائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دردانہ بٹ نے اپنی اداکاری کے لیے کئی ایوارڈز حاصل کیے۔ انہیں 1985 میں بہترین ٹی وی اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ 2018 کے لکس سٹائل ایوارڈز میں وہ بہترین معاون اداکارہ کی کیٹیگری کے لیے بھی نامزد کی گئی تھیں۔

دردانہ بٹ کے دیگر مشہور ڈراموں میں ’ڈگڈگی ‘، ’رسوائی ‘ اور ’انتظار ‘ شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستانی فلموں میں بھی اپنی بہترین ادکاری سے لوگوں کو اپنا مداح بنایا۔ ان کی مشہور فلموں میں ’عشق پازیٹو‘ اور ’بالو ماہی‘ شامل ہیں۔

2011 میں نشر ہونے والے مزاحیہ ڈرامہ سیرل ’ڈگڈگی ‘ میں دردانہ بٹ کے ساتھی اداکار اظفر رحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’دردانہ سے میری بہت اچھی دوستی تھی۔ وہ ہمیشہ مجھ سے مذاق میں کہتی تھیں کہ اظفر میری انگوٹھی کہاں ہے؟ ہم شادی کب کریں گے؟‘

دردانہ بٹ نے ڈرامہ ’ڈگڈگی ‘ میں اظفر رحمٰن کی ساس کا کردار نبھایا تھا۔ اظفر نے مزید بتایا: ’وہ بیکن ہاؤس سکول میں میری پرنسپل بھی رہ چکی تھیں۔ ان کے ساتھ میں نے ڈگڈی میں دو سال تک کام کیا۔ وہ انتہائی خوش اخلاق، محبت کرنے والی اور نفیس خاتون تھیں۔ کامیڈی اداکاری میں ان کی ٹائمنگ اور ان کا انداز لاجواب تھا۔ وہ انتہائی خوش مذاج تھیں، ڈرامے کے سیٹ پر ہم ہمیشہ ہنسی مذاق کرتے تھے۔ انہوں نے زندگی کی مشکلات کو کبھی بھی دل پر نہیں لیا۔‘

اظفر نے بتایا: ’دردانہ انتہائی تعلیم یافتہ بھی تھیں، انہوں نے 70 سال کی عمر میں نفسیات میں پی ایچ ڈی شروع کی تھی اور میں ہمیشہ ان سے پوچھتا تھا کہ آپ اتنی عمر میں کیسے اتنا مشکل کام کر رہی ہیں اور وہ ہمیشہ پر امیدی سے کہتی تھی کہ کچھ مشکل نہیں۔‘

دردانہ کی ایک اور ساتھی اداکارہ شمیم ظفر ہلالی نے ہمیں بتایا کہ وہ انہیں 1963 میں کنیئرڈ کالج کے زمانے سے جانتی ہیں۔ اس وقت دردانہ کے والد کا ٹرانسفر برطانیہ سے لاہور ہوا تھا اور وہ شمیم کے گھر سے تھوڑے ہی فاصلے پر رہتی تھیں۔

انہوں نے بتایا: ’ہم نے کالج میں چار سال ساتھ گزارے۔ ہم دونوں کو اداکاری کا بہت شوق تھا۔ میں اور دردانہ کالج کے ڈراموں میں ساتھ حصہ لیا کرتے تھے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اب تو رواج ہی نہیں رہا ڈرامے کے سکرپٹ کی لائنیں یاد کرنے کا لیکن ہماری پرانی ٹریننگ تھی۔ ہم نے جب جب ساتھ کام کیا ہے ہم کہتے تھے چلیں لائنیں یاد کرلیں۔‘

دردانہ بٹ کی اداکاری اور ان کے اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے شمیم ہلالی کا کہنا تھا کہ ’دردانہ بٹ ڈریم کو ایکٹر تھیں۔ بہت سارے لوگوں کے ساتھ انسان کام کرتا ہے لیکن اتنے خوش اخلاق لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ وہ سیٹ پر ہر ایک سے بہت خلوص سے ملتی تھیں۔ دردانہ کے ہونے سے سیٹ پر ہمیشہ رونق رہتی تھی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن