بی آر ٹی کا ایک سال : یومیہ مسافر تخمینے سے پچاس فیصد کم 

بی آرٹی انتظامیہ کے مطابق اس منصوبے میں شامل پارکنگ پلازے، دکانیں اور کرایوں کی مد میں آنے والی آمدنی اتنی ہونی تھی کہ منصوبے  کی آپریشن اینڈ مینٹیننس کاسٹ  اس سے برداشت ہو سکے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا پشاور میں  ٹرانسپورٹ شعبے میں 70 ارب روپے سے زائد میں بننے والا  سب سے بڑا  منصوبہ بس ریپیڈ ٹرانسٹ یعنی بی آرٹی کا ایک آج ایک سال مکمل ہوگیا۔

بی آرٹی ایک طرف اگر شہر کے لاکھوں سفر کرنے والوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے تو دوسری جانب اسی ایک سال میں  اس پراجیکٹ میں مختلف حادثات بھی پیش آئے ہیں۔

ان واقعات میں  آگ لگنے کے واقعات بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے بی آرٹی انتظامیہ کو تقریباً ایک مہینے تک بس سروس کو بند کرنا پڑا اور جس چینی کپنی نے بسیں بنائی تھیں، ان کو پشاور بلانا پڑا تاکہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کر کے بسوں سے فالٹ کو نکالا جا سکے۔

تاہم دیگر عوامل ایک طرف لیکن بی آرٹی میں سب سے اہم اس بس کو چلانے کے لیے درکار بجٹ ہے۔ صوبائی حکومت نے بارہا یہ بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کے دور میں بنی پشاور بی آرٹی دیگر شہروں میں بنے میٹرو منصوبوں سے مختلف ہے۔

صوبائی حکومت کہا کرتی تھی کہ یہ اپنا خرچہ خود برداشت کرے گی اور حکومت کو اس پر کوئی سبسڈی نہیں دینے پڑے گی۔

بی آرٹی انتظامیہ کے مطابق اس منصوبے میں شامل پارکنگ پلازے، دکانیں اور کرایوں کی مد میں آنے والی آمدنی اتنی ہونی تھی کہ منصوبے  کی آپریشن اینڈ مینٹیننس کاسٹ  اس سے برداشت ہو سکے۔

تاہم حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کو دستیاب بی آرٹی کی سرکاری دستاویز کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک کی مدد سے بننے والی بی آرٹی کے آپریٹنگ اخراجات میں بی آرٹی کو چلانے والی کمپنی ٹرانس پشاور کے خرچے، ڈرائیوروں کی تنخواہیں ، گاڑیوں کی مینٹیننس، کرایوں کے سسٹم یعنی ٹکٹ مشینز وغیرہ کے اخراجات اور سٹیشنز کی صفائی شامل ہے۔

دستاویز کے مطابق آپریٹنگ اخراجات کے علاوہ گاڑی کے تیل کا خرچہ تقریباً 78 روپے فی کلومیٹر ہے۔ ڈپو سے لے کر سٹیشن تک ٹکٹنگ عملے سے متعلق اخراجات تقریباً  48 روپے فی کلومیٹر ہوں گے ۔ لبریکینٹ ، فلٹرز اور ٹائرز کا تخمینہ تین روپے فی کلومیٹر لگایا گیا ہے اور اسی طرح تقریبا تین روپے فی کلومیٹر کا خرچہ دیگر اخراجات میں شامل ہے۔

ایشیائی ڈوپلمنٹ بینک کے تخمینے کے مطابق بی آرٹی میں روزانہ کی بنیاد پر تقریبا چار لاکھ مسافر سفر کریں گے اور سالانہ کی بنیاد پر بی آرٹی کو چھ ارب روپے آمدنی حاصل ہوگی ۔

آمدنی کا بڑا ذریعہ کرایوں کی مد میں ملنے والی رقم ہوگی جواوسطً 25 روپے فی لٹر کے حساب سے ہوگا جبکہ اشتہارات کی مد میں ہونے والی آمدنی کرایوں سے ملنے والی آمدنی کا تین فیصد ہوگی۔

دستاویزات کے مطابق سالانہ چھ ارب کی آمدنی میں بی آرٹی پیکج میں شامل پارکنگ پلازوں اور دکانوں سے آنے والی آمدنی میں شامل ہوگی۔

کرایوں کی مد میں آنے والی آمدنی کی اگر بات کی جائے تو صوبائی مشیر اطلاعات کامران بنگش نے گزشتہ سال  ایک انٹرویو میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اگر بی آرٹی میں روزانہ کی بنیاد پر تین لاکھ 50 ہزار سے زائد مسافر سفر کریں تو منصوبہ اپنا خرچہ خود برداشت کرے گا۔

’اگر ہمارے اندازے کے مطابق روزانہ تین لاکھ 60 ہزار مسافر اس بس میں سفر کریں تو کرایوں کی مد میں ہمیں وہی آمدنی ہوگی جو ہم نے اندازہ لگایا ہے ۔‘

اسی انٹرویو میں کامران بنگش نے بتایا تھا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ دسمبر تک پارکنگ پلازے اور اس کے ساتھ منسلک کمرشل دکانوں پر کام دسمبر 2020 تک مکمل کر لیں تاکہ اس سے ملنے والی آمدنی سے پراجیکٹ چل سکے۔

زمینی حقائق کیا ہیں؟

حکومت اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے جو اندازے لگائے ان کے برعکس صورتحال یکسر مختلف ہے۔ 

منصوبے کا ایک سال مکمل ہونے کے باوجود ابھی تک بی آر ٹی میں شامل پارکنگ پلازوں کی تعمیر مکمل نہیں کی جا سکی ہے۔

اسی طرح کچھ سٹیشنز میں دکانیں تعمیر کی گئی ہیں لیکن  ان میں سے ابھی تک  بہت سے دکانیں خالی ہیں۔

اسی طرح  بی آرٹی انتظامیہ کی جانب سے تقریباً پانچ مہینے پہلے جاری اعداد و شمار کے مطابق بی آرٹی میں روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ  30 ہزار سے زائد مسافر کرتے ہیں۔

یعنی جو اندازہ لگایا گیا تھا اس سے مسافروں کی یومیہ تعداد 50 فیصد سے بھی کم ہے جب کہ ابھی تک چھ لاکھ سے زائد ’زو‘ کارڈ (وہ کارڈ جو بی آرٹی میں سفر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے) مسافروں کو دیے جا چکے ہیں۔

بی آرٹی انتظامیہ کو حالیہ روزانہ رائڈر شپ اور سالانہ آمدنی کے حوالے سے  ڈیٹا فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے لیکن اس رپورٹ کے فائل کرنے تک ابھی تک انتظامیہ کی جانب سے ڈیٹا فراہم نہیں کیا گیا ہے۔

بی آرٹی کا سالانہ خرچہ کتنا ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو کے پاس دستیاب  دستاویزات کے مطابق بی آرٹی کو چلانے کے لیے سالانہ پانچ ارب روپے درکار ہوں گے اور ان اخراجات میں سالانہ تین فیصد اضافہ بھی ہوگا جب کہ حکومت نے یہ بتایا ہے کہ اس منصوبے کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے منصوبے کے لیے کوئی سبسڈی دینا نہیں پڑے گی۔

تاہم ابھی تک بی آرٹی انتظامیہ نے اس سوال کا جواب انڈپینڈنٹ اردو کو نہیں دیا ہے کہ ایک سال میں اس منصوبے کی آمدنی کتنی تھی اور کیا وہ حکومت سے سبسڈی لینے کا مطالبہ کریں گے یا نہیں؟ 

بی آرٹی  کے ترجمان محمد عمیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو اتنا ضرور بتایا کہ کرونا وبا کی وجہ سے سفری پابندیوں اور تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے مسافروں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

انھوں نے بتایا ’جس طرح کرونا نے ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے اسی طرح بی آرٹی کو بھی متاثر کیا ہے۔ جب تعلیمی ادارے بند ہوں گے، سرکاری دفاتر میں 50 فیصد سٹاف ہو گا، کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوں تو بی آرٹی میں سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد میں بھی فرق نظر آئے گا۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ غیر متوقع صورتحال جب ختم ہوگی تو بی آرٹی کی رائڈر شپ میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملے گا لیکن یہ واضح ہے کہ لوگوں کا انحصار بی آرٹی پر بڑھ گیا ہے اور انھوں نے ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم کردیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پارکنگ پلازوں کے حوالے سے  عمیر کا کہنا ہے کہ پارکنگ پلازے پشاور ڈولپمنٹ اتھارٹی کے زیر نگرانی زیر تعمیر ہیں اور تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد بی آرٹی انتطامیہ کو دے دیے جائیں گے لیکن بی آرٹی کی آمدنی کا سو فیصد انحصار پارکنگ پلازوں پر نہیں ہے بلکہ ہمیشہ رائڈرشپ پر ہے۔

واش رومز کے حوالےسے عمیر کا کہنا تھا کہ وہ بھی زیر تعمیر ہیں اور جب بھی ان پر کام مکمل ہوجائے گا تو بی آرٹی انتطامیہ کے حوالے کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک پانچ واش رومز مکمل ہوگئے ہیں اور لوگوں کی رسائی ان تک ممکن ہے۔

عوام کیا کہتے ہیں؟

احمد علی پشاور کے رہائشی ہیں  اور جب سے بی آر ٹی بنی ہے ، تب سے اس کو استعمال کر رہے ہے۔ بی آرٹی کا ایک سال مکمل ہونے کے حوالے سے انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بی آرٹی منصوبہ کسی ترقی یافتہ ملک میں موجود پبلک ٹرانسپورٹ سے کم  نہیں ہے جس سے پشاور  میں رہنے والے لوگوں کے لیے کام بہت آسان کیا ہے۔

انھوں نے بتایا  ’اس تپتی دھوپ میں ائیر کنڈیشنر گاڑیوں میں سفر کرنا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ بہت خوش ہوں  کہ یہ منصوبہ پشاور میں بنایا گیا ہے جس سے پشاور کی دیگر سڑکوں پر بھی اچھا اثر پڑا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا