ہیٹی میں زلزلے سے 1400 ہلاکتیں

سینکڑوں شہری کھلے آسمان تلے کیلے کے درختوں کے نیچے پناہ لیے ہوئے ہیں، مگر وہ آنے والے طوفان ’گریس‘ کے حوالے سے بھی فکر مند ہیں، لیکن گھروں کے تباہ ہونے کے بعد ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔

جنوبی ہیٹی کے چھوٹے سے گاؤں ٹوریک میں چرچ کی آخری رسومات کے دوران جب زمین لرزنے لگی تو کیٹنی فرانکوئس بھی ان افراد میں شامل تھیں، جو بھگدڑ کا حصہ بن گئیں۔

لوگوں نے انہیں تو باہر نکال لیا، لیکن ان کی نوعمر بیٹی اور بوڑھی والدہ اتنی خوش قسمت نہیں تھیں۔ وہ ان سینکڑوں لوگوں میں شامل تھیں، جو ہفتے کو علی الصبح آنے والے 7.2 شدت کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں جان سے چلے گئے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان دونوں کی موت سینٹ فیملی ڈو ٹوریک چرچ کے داخلی دروازے اور چھت کا کچھ حصہ گرنے سے واقع ہوئی۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ دیہی کمیونٹی کی اس عمارت میں ایک اندازے کے مطابق 20 جانیں ضائع ہوئیں۔

چرچ کے باہر بیٹھی فرانکوئس نے بتایا: ’میں پکار رہی تھی، میری والدہ کہاں ہیں؟ میری بیٹی کہاں ہے؟‘ یہ کہتے ہی وہ اچانک دہشت سے آگے بڑھیں۔ ’زلزلے کے بعد سے، مجھے لگ رہا ہے کہ زمین کانپ رہی ہے، کہ یہ دوبارہ ہو رہا ہے۔‘

حکام نے اس زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 1419 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جبکہ 6900 افراد زخمی ہیں۔ امدادی کارکن لیس کیز اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں ملبے سے لاشوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں زلزلہ آیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ امدادی کارکن اب ان علاقوں میں جارہے ہیں جہاں تک رسائی کے لیے راستے کچے ہیں، جس میں زلزلے کے باعث مزید دراڑیں پڑ چکی ہیں اور جہاں ہسپتال جانے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگتا ہے۔

سینکڑوں شہری اب کھلے آسمان تلے کیلے کے درختوں کے نیچے پناہ لیے ہوئے ہیں، مگر وہ آنے والے طوفان ’گریس‘ کے حوالے سے بھی فکر مند ہیں، لیکن گھروں کے تباہ ہونے کے بعد ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔

روئٹرز کو ایک درجن سے زائد شہریوں نے بتایا کہ وہ اب بھی سرکاری امداد کے منتظر ہیں اور نہیں جانتے کہ گاؤں میں 40 سے 50 کے درمیان ہونے والی ہلاکتوں کو قومی تعداد میں شامل کیا گیا ہے یا نہیں۔

ایک مقامی رہائشی پرینور لیفلور نے بتایا کہ اتنے لوگوں کی ہلاکت کے بعد، رہائشیوں نے چرچ متاثرین کو قریبی قبرستان میں اجتماعی طور پر دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔

لیفلور نے کہا: ’ہم نے صرف تمام متاثرین کے نام نکالے اور ان کے اہل خانہ سے کہا کہ وہ انہیں دفن کرنے کی اجازت کے لیے دستخط کریں۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ اور کیا کرنا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا