’خدا جہاں لے جائے چلے جائیں گے‘: انخلا کے منتظر افغان شہری

کابل کے علاقے شہرِ نو میں بچوں اور خواتین سمیت سینکڑوں افغان شہری سڑک کنارے اس امید پر بیٹھے ہیں کہ انہیں بھی انخلا کا موقع ملے گا۔

کابل کے علاقے شہرِ نو میں بچوں اور خواتین سمیت سینکڑوں افغان شہری سڑک کنارے بیٹھے نظر آرہے ہیں کیونکہ انہیں کابل ایئرپورٹ کی جانب جانے کی اجازت نہیں ملی۔

اس علاقے میں فرانس اور کینیڈا کے سفارت خانے واقع ہیں، جو دونوں بند ہیں لیکن یہ لوگ یہاں اس امید پر بیٹھے ہیں کہ انہیں بھی انخلا کا موقع ملے گا۔

31 اگست کو امریکی اور اتحادی فورسز کے افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن قریب آنے اور طالبان کے ملک پر کنٹرول کے بعد اپنے اور اہل خانہ کے مستقبل کے لیے فکرمند افغان شہری جلد از جلد ملک چھوڑ دینا چاہتے ہیں۔

بہت سے افغان شہریوں کا انخلا کیا بھی جاچکا ہے، لیکن پھر لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے طالبان نے افغانوں کو کابل ایئرپورٹ جانے سے روک دیا، جس کے بعد شدت سے ملک سے جانے کے خواہش مند شہری اب شہر نو میں کھلے آسمان تلے بیٹھے نظر آتے ہیں۔

اس علاقے میں موجود 40 سالہ کابل کے ایک رہائشی محمد زمان نے بتایا: ’یہ لوگ اس لیے بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس دستاویزات نہیں۔ اگر اللہ نے چاہا تو باہر جاسکیں گے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ وہ کہاں جانا چاہتے ہیں؟ محمد زمان نے بتایا: ’نہیں معلوم بس خدا جہاں لے جائے چلے جائیں گے۔ بس اللہ پر توکل ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ وہ مستری کا کام کرتے تھے لیکن اب کام بند ہے۔ ’افغانستان میں کہاں کام ہے۔ ایک ہفتے میں ایک دن بھی کام نہیں کیا۔ بہت دنوں سے یہی حال ہے، سابق حکومت میں بھی یہی صورت حال تھی۔‘

ایک نئی زندگی کی امید میں زمان یہاں اکیلے نہیں۔ شہر نو میں فرانس اور کینیڈا کے سفارت خانوں کے قریب صدارتی محل ارگ بھی ہے۔

سفارت خانوں کو ماضی میں حملوں سے بچانے کے خاطر کنکریٹ کی اونچی اونچی دیواروں کے ساتھ ٹیک لگائے ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں خاندان ہیں۔ ان میں عورتیں بچے اور بوڑھے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

محمد زمان کے چھ بیوی بچے ان کے ساتھ صبح سات بجے سے یہاں بیٹھے ہیں۔ ’یہ لوگ اس لیے بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی دستاویزات نہیں۔ اگر اللہ نے کیا تو یہ باہر جاسکیں گے۔‘

وہ کرائے کے مکان میں رہتے تھے اس لیے سب چھوڑ آئے بس استعمال کی ایک دو چیزیں ساتھ لے آئے۔ یہ شاید انتہا ہے افغانستان سے کسی کی ناامیدی کی۔

یعنی ان کے پاس تو کوئی کشتی بھی نہیں جو وہ جلا سکتے۔ بس ایک عدد بیگ بھرا اور کھلے آسمان کے نیچے آ بیٹھے ایک اچھے مستقبل کی امید میں۔ 

افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے مغربی ممالک کے لیے کام کرنے والے مترجم اور عملے کے دیگر اراکین کے اہل خاندان کا انخلا جاری ہے۔

محمد زمان کے بظاہر باہر جانے کی کوئی سکیورٹی وجہ دکھائی نہیں دیتی لہٰذا ان کا امکان بہت کم ہے، لیکن امید پر کوئی پابندی نہیں اور ناامیدی کا کوئی تدارک نہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کوئی یہاں سے کابل ایئرپورٹ اور پھر بیرون ملک لے جایا بھی گیا ہے یا نہیں؟ تو محمد زمان کا کہنا تھا انہیں معلوم نہیں لیکن سنا ہے کہ لوگ یہاں سے ایک روز پہلے لے جائے گئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’مجھے نہیں معلوم بس لوگوں سے سنا تو یہاں آ کر بیٹھ گیا ہوں۔ اگر کچھ نہیں بنتا تو واپس گھر چلے جائیں گے۔ لوگ مجبور ہیں کیا کریں اس گرم موسم میں یہاں بیٹھے ہیں۔ سب بےچارے اسی طرح بیٹھے ہیں۔‘

تازہ اطلاعات کے مطابق طالبان نے لوگوں کی ایئرپورٹ جانے کی حوصلہ شکنی کرنے کی خاطر انہیں ہوائی اڈے کے اردگرد جانے سے منع کرنا شروع کر دیا ہے۔ صحافیوں خصوصاً مغربی جرنلسٹس کو بھی آگے نہیں جانے دیا جا رہا۔

محمد زمان نے بھی ایئرپورٹ جانے کی کوشش کی تھی لیکن رش اور افراتفری دیکھنے کے بعد یہاں ڈیرے ڈال دیے۔

دریافت کیا کہ جس بھی دوسرے ملک جانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور اگر وہاں حالات سخت ہوئے تو کیا کریں گے؟ تو جواب ملا کہ ’بس جو کام دیں گے کر لیں گے۔ وہاں کوئی نہیں میرا، کسی کو نہیں جانتا بس اللہ کو جانتا ہوں۔‘

’واللہ خدا مہربان ہے۔ اگر وہاں بھی حالات خراب ہوئے تو (مسکراتے ہوئے) کیا کر سکتے ہیں۔ کوئی چارہ نہیں ہے، کہاں چلے جائیں، کام ہی نہیں۔‘

کہا اگر طالبان یہاں کوئی کام کاج پیدا کر دیتے ہیں تو کیا رک جائیں گے تو محمد زمان فوراً بولے ’ہاں کیوں نہیں اگر یہاں روزگار پیدا ہوتا ہے تو یہیں رک جائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا