نانا کا ادھورا خواب پورا کرنے والی روڈ سائیکلنگ چیمپیئن

کراچی کی رہائشی 45 سالہ اسما نے بتایا: ’میں نے جب نیشنل چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا تو پہلی بار مجھے ایسا لگا کہ میں اپنے نانا کا ادھورا خواب مکمل کرسکتی ہوں۔‘

کراچی کی رہائشی 45 سالہ اسما کا انتخاب بیلجیئم میں اگلے ماہ ہونے والی ورلڈ روڈ سائیکلنگ چیمپیئن شپ میں ہوا ہے، جس میں چار رکنی ٹیم پاکستان کی نمائندگی کرے گی۔

اس چار رکنی ٹیم میں اسما کے علاوہ کنزہ ملک، علی الیاس اور خلیل احمد بھی شامل ہیں۔

 حال ہی میں اسما نے نیشنل سائیکل چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل بھی حاصل کیا ہے۔

 انہوں نے پچھلے دو سال سے سائیکل چلانا شروع کی اور ٹریننگ کرتے ہوئے کمپیٹیٹو سائیکلنگ میں اپنے قدم جما لیے۔

عموماً ان کھیلوں میں حصہ لینے والی خواتین کے مقابلے میں اسما کی عمر ذیادہ ہے، مگر وہ اپنی عمر کو اپنے لیے کسی قسم کی رکاوٹ نہیں سمجھتیں کیوں کہ ان کے نزدیک اچھی صحت کا مالک ہونا سب سے ضروری ہے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنی صحت کا بھی بہت خیال رکھتی ہیں۔ اسما چار بچوں کی والدہ ہیں۔

اسما نے بتایا کہ برصغیر کی تقسیم سے قبل ان کے نانا مہتا عبد الخالق پنجاب کے سائیکلنگ چیمپیئن تھے۔ ان کا خواب تھا کہ وہ اولمپکس میں حصہ لیں لیکن دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے باعث ان کے نانا کا یہ خواب ادھورا رہ گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 اسما نے بتایا: ’میں نے جب نیشنل چیمپیئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا تو پہلی بار مجھے ایسا لگا کہ میں اپنے نانا کا وہ ادھورا خواب مکمل کرسکتی ہوں۔‘

اسما ہر روز دن میں دو بار پریکٹس کرتی ہیں، مگر ان کے لیے شام میں کراچی کی سڑکوں پر سائیکل چلانا انتہائی مشکل ہے۔

 انہوں نے بتایا: ’ایک مرتبہ کچھ لوگ میری قمیص کے پیچھے کی جیب میں سے میرا فون چھین کر لے گئے۔ جب انہوں نے یہ کیا تو وہ میرے بہت قریب آگئے تھے اور توازن خراب ہونے کی وجہ سے میں بہت زور سے گرسکتی تھی مگر شکر ہے میں بچ گئی، اس لیے اب باقی خواتین کے ساتھ میں صرف صبح ہی پریکٹس کرتی ہوں۔‘

اسما کے مطابق یہ کھیل خواتین کے لیے بہت مفید ہے اور زیادہ سے زیادہ خواتین کو سائیکلنگ کرنی چاہیے مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ خواتیں محفوظ بھی ہوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل