فیس بک کے سمارٹ گلاسز اور دماغ سے کنٹرول ہونے والی مرسیڈیز کار

ٹیکنالوجی کی دنیا میں آئے روز نئی ریسرچ اور مصنوعات سامنے آتی ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو نے آپ کے لیے اس ہفتے کی اہم اور دلچسپ پانچ خبریں اکھٹی کی ہیں۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں یوں تو آئے روز نئی ریسرچ اور مصنوعات سامنے آتی ہیں جن کی وجہ سے ہماری روز مرہ کی زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ تبدیل ہوتی جا رہی ہے لیکن کچھ ایجادات مستقبل کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے آپ کے لیے اس ہفتے کی اہم اور دلچسپ پانچ خبریں اکھٹی کی ہیں۔

فیس بک کے سمارٹ گلاسز

فیس بک نے جمعرات کو اپنے پہلے سمارٹ گلاسز ریلیز کر دیے۔

روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق گلاسز کے مشہور برانڈ رے بین بنانے والی کمپنی ایزلور لگزوٹیکا کے اشتراک سے بننے والے یہ گلاسز موسیقی سننے، فون کالز کرنے، تصویر کھینچنے اور مختصر ویڈیوز بنا کر انہیں ایک ایپ کے ذریعے فیس بک کی تمام سروسز پر شیئر کرنے کی سہولت مہیا کرتے ہیں۔

فیس بک کے مطابق ’رے بین سٹوریز‘ نامی ان گلاسز کی قیمت 299 ڈالرز سے شروع ہو گی۔

2020 میں 86 ارب ڈالرز ریوینو کمانے والی کمپنی فیس بک کی آمدنی کا زیادہ حصہ اشتہاروں سے آتا ہے۔ تاہم اب یہ کمپنی ورچوئل اور آگمنٹ ریائلٹی (اے آر) میں بھی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

فیس بک کے چیف سائنس دان نے گذشتہ سال کہا تھا کہ کمپنی کو ’حقیقی‘ اے آر گلاسز بنانے میں پانچ سے 10 سال کا عرصہ درکار ہے۔

بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں جیسا کہ ایمزون، گوگل، مائیکرو سافٹ، ایپل اور سنیپ سمارٹ گلاسز بنانے کی دوڑ میں شامل رہی ہیں۔

گوگل کے ابتدائی سمارٹ گلاسز زیادہ قیمت اور ڈیزائن سے جڑے مسائل کی وجہ سے صارفین کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

فیس بک کے گلاسز میں ورچوئل اسسٹنٹ شامل ہے جو صارف کو محض آواز کی کمانڈز سے تصویر کھینچنے اور ویڈیوز بنانے میں مدد کرتا ہے۔

فیس بک نے گلاسز کے ذمہ درانہ استعمال کے لیے ایک ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے۔ مثلاً ان گلاسز کو نجی مقامات جیسے کہ پبلک ٹوائلٹس میں بند کرنے اور غیر قانونی سرگرمیوں جیسے کہ ہراسانی وغیرہ کے لیے استعمال نہ کرنا شامل ہے۔


دماغ سے کنٹرول ہونے والی مرسیڈیز کار

کیا آپ ایسی گاڑی چلانا چاہیں گے جس میں کوئی سٹیرئنگ ویل یا بٹن وغیرہ نہ ہوں؟ اس میں محض ڈسپلے سکرینز ہوں اور وہ آپ کے دماغ سے ملنے والی ہدایات پر چلتی ہو؟

مرسیڈیز۔ بینز ایک ایسی ہی کانسیپٹ گاڑی پر کام کر رہی ہے۔ کانسیپٹ گاڑیاں مستقبل میں امکانات پر مبنی ہوتی ہیں اور یہ ضروری نہیں کہ اگلے سال آپ کو ایسی گاڑی سڑک پر دوڑتی بھاگتی نظر آئے۔

مرسیڈیز۔ بینز نے میونخ میں گاڑیوں کے شو آئی اے اے موبلیٹی 2021 میں اس گاڑی کی ایک جھلک پیش کی ہے، جسے حاضرین نے بہت دلچسپی سے دیکھا۔

اس گاڑی سے رابطہ برین کمپیوٹر انٹرفیس (بی سی آئی) سسٹم کی مدد سے ہوتا ہے۔

ڈائملر اے جی اور مرسیڈٰز۔ بینز اے جی انتظامی بورڈ کی رکن بریٹا سیگر کہتی ہیں کہ مرسیڈیز۔ بینز گاڑیوں میں دماغ اور کمپیوٹر کا انٹرفیس بنا کر انسان اور مشین کے ملاپ کا ایک اور سنگ میل عبور کر رہا ہے۔ ’بی سی آئی ٹیکنالوجی مستقبل میں ڈرائیونگ کو مزید آرام دہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘

اس گاڑی میں ڈرائیور اپنے سر کی پشت پر ایک بی سی آئی ڈیوائس پہنے گا۔ یہ ڈیوائس دماغ سے نکلنے والی لہروں کی مدد سے پہلے سے طے شدہ ہدایات جاری کرے گی جس پر گاڑی عمل کرے گی۔

یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس گاڑی کی ڈرائیونگ کتنی قابل بھروسہ ہو گی اور ایک ڈرائیور کس طرح بیک وقت گاڑی کے علاوہ اطراف پر بھرپور توجہ دے پائے گا۔


ہارورڈ یونیورسٹی پر ہیکرز کا حملہ

امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی نے اپنے آئی ٹی نظام پر تاوان کے لیے ہونے والے سائبر حملے کے بعد اپنی کلاسیں کم از کم ایک دن کے لیے منسوخ کر دیں۔

ہیکرز نے یوم مزدور اور ویک اینڈ پر یونیورسٹی عملے کی چھٹی کا ممکنہ طور پر فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

یونیورسٹی عملے نے جمعے کو پہلی مرتبہ حملے کا نوٹس لیا اور وائرس کو مزید پھلینے سے روکنے کے لیے سکول کا نیٹ ورک بند کر دیا۔

یونیورسٹی نے ایک جاری بیان میں کہا کہ ’ہم بہترین بیرونی فرانسک ماہرین اور قانون نافذ کرنے والوں کے ساتھ مل کر واقعے اور اس کے اثرات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔‘

ہاورڈ یونیورسٹی کو خدشہ ہے کہ ہیکرز بدستور اس کے آئی ٹی نظام میں موجود ہو سکتے ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیکرز کس طرح یونیورسٹی کے آئی ٹی سسٹم میں داخل ہوئے۔ تاہم سائبر جرائم پیشہ افراد کسی بھی آئی ٹی سسٹم میں موجود خامیوں اور فشنگ ای میلز کی مدد سے تاوان کے لیے حملے کرتے ہیں۔

اس قسم کے حملوں میں کوشش کی جاتی ہے کہ سسٹم سے منسلک زیادہ سے زیادہ کمپوٹرز کو متاثر کرتے ہوئے اس میں موجود تمام ڈیٹا کو انکرپٹ کر دیا جائے۔

کامیاب حملے کے بعد متاثرہ ادارے سے تاوان میں بھاری رقم مانگی جاتی ہے، جو ادا ہونے کی صورت میں سسٹم کو واپس بحال کر دیا جاتا ہے۔

ایک اور صورت میں متاثرہ کمپیوٹرز سے خفیہ معلومات چوری کرنے کے بعد اسے پبلک میں لیک کرنے کی دھمکی دے کر تاوان وصول کیا جاتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے مطابق ابھی تک ایسے شواہد نہیں ملے کہ سسٹم میں موجود ذاتی نوعیت کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی گئی ہو۔


اب ہوا میں فون چارج کریں

موٹو رولا نے ایک نئی ٹیکنالوجی پیش کی ہے جس کی مدد سے ہوا میں 10 فیٹ دور سے موبائل فون وائر لیسلی چارج ہو سکتا ہے۔

موٹو رولا نے، جسے اب لینوو خرید چکا ہے، اپنی 30 سیکنڈز کی ویڈٰیو میں اس ٹیکنالوجی کا مظاہرہ کیا۔

اس ٹیکنالوجی میں استعمال ہونے والا وائر لیس چارجر دیکھنے میں ایک بڑا وائی فائی موڈیم جیسا نظر آتا ہے، جو اطراف میں موجود فون کو خود بخود تلاش کر کے اسے چارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔

موٹو رولا کے مطابق یہ سسٹم تین میٹر (9.8 فیٹ) کی دوری تک بیک وقت چار فون چارج کر سکتا ہے۔

اس سسٹم کی خاص بات یہ ہے کہ آپ کو موبائل فون کسی خاص زاویے یا سمت پر رکھنے کی ضرورت نہیں، بس فون جیسے ہی سسٹم کی پہنچ میں آئے گا چارجنگ خود بخود شروع ہو جائے گی۔

موٹو رولا نے یہ ٹیکنالوجی گرو وائر لیس (GuRu) کے اشتراک سے تیار کی ہے۔ گرو کمپنی موبائل ڈیوائسز، گیمنگ سسٹم اور سمارٹ ہوم ڈیوائسز کی وائر لیس چارجنگ میں خصوصی مہارت رکھتی ہے۔


بچوں کے لیے روبوٹ کی سواری

آپ نے بچپن میں کبھی گھڑ سواری تو کی ہو گی۔ اب نئے دور میں بچوں کے لیے روبوٹ (unicorn) سواری کی سہولت پیش کی جا رہی ہے۔

چین کی ایک الیکٹرک وہیکل کمپنی Xpeng نے بچوں کی سواری کے لیے یونی کارن روبوٹ بنانے کا اشارہ دیا ہے۔

اس کمپنی کو خود بخود چلنے والی گاڑیوں اور مختلف سطح زمین پر مصنوعی ذہانت سے چلنے پھرنے کی ٹیکنالوجی پر مہارت ہے جو یقیناً اس یونی کارن روبوٹ میں بھی نظر آئے گی۔

کمپنی نے زیادہ تفصیلات تو نہیں بتائیں البتہ روبوٹ کا ڈیزائن اور خدوخال آپ کو بوسٹن روبوٹکس کے ’سپاٹ‘ کی یاد دلائے گا۔

اس کا سائز بھی ایک بچے جتنا ہے۔ فی الحال یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ بچوں کو یہ سواری کب اور کتنی قیمت میں دستیاب ہو گی۔

بوسٹن روبوٹکس کا ’سپاٹ‘ 75 ہزار ڈالرز کا ہے لیکن اس یونی کارن کی قیمت 2019 میں پیش ہونے والے ایک اور روبوٹ ’ایبو‘ کی قیمت دو ہزار، 900 ڈالرز کے آس پاس متوقع ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی