کنٹونمنٹ الیکشن: پی ٹی آئی کے 78 سالہ کارکن آزاد کھڑے ہوگئے

لاہور کے 78 سالہ غلام سرور قصوری کا کہنا ہے کہ 2015 کے کنٹونمنٹ الیکشن میں انہیں پی ٹی آئی کا ٹکٹ دینے کے بعد یہ یقین دہائی کروا کر دست بردار کرا لیا گیا کہ اگلی مرتبہ ٹکٹ دیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔

پاکستان میں 12 ستمبر کو ہونے والے کنٹونمنٹ کے بلدیاتی انتخابات میں امیدوار سیاسی بنیادوں پر حصہ لے رہے ہیں اور حکمران جماعت بھی اپنے امیدوار کامیاب کرانے کے لیے جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

لاہور میں والٹن کینٹ وارڈ نمبر سات میں ایک 78سالہ آزاد امیدوار غلام سرور قصوری ایسے بھی ہیں جو 2018 کے عام انتخابات میں وزیر اعظم عمران خان کے حلقہ انتخاب این اے 131 میں پی ٹی آئی کے چیف پولنگ ایجنٹ مقرر تھے۔

غلام کا کہنا ہے کہ 2015 کے کنٹونمنٹ انتخابات میں انہیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ٹکٹ جاری ہوا لیکن انہیں یہ یقین دہانی کروا کر دست بردار ہونے کا کہا گیا کہ اگلے انتخابات کے لیے ٹکٹ دیا جائے گا۔ تاہم اب جب اگلے انتخابات کا وقت آگیا ہے تو انہیں ٹکٹ نہیں ملا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس مرتبہ بھی پی ٹی آئی پنجاب کی قیادت نے انہیں ٹکٹ جاری نہیں کیا تو وہ آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوگئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی وزیر میاں محمودالرشید کی قیادت میں پانچ پی ٹی آئی اراکین کی وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ لاہور کے موقعے پر گورنر ہاؤس میں وزیر اعظم سے ملاقات کرائی گئی تاکہ انہیں آزاد کھڑا ہونے سے روکا جائے اور پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈرز کی کامیابی کو یقینی بنایا جائے۔

غلام کے مطابق انہوں نے وزیر اعظم کو ملاقات میں ان کا گذشتہ الیکشن میں ٹکٹ واپس لے کر اگلے انتخابات میں جاری کرنے کی یقین دہانی کا وعدہ یاد دلایا تو وزیر اعظم نے پھر بھی انہیں معاملہ قیادت سے مل کر حل کرنے کی ہدایت کی۔

78 سالہ بزرگ کارکن کے مطابق انہوں نے پارٹی سربراہ کو درخواست کی کہ اس بار ٹکٹ نہ ملی تو شاید آئندہ انتخاب میں حصہ نہیں لے سکیں کیونکہ ان کی عمر 80 سال کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے۔

غلام کے بقول مقامی قیادت نے انہیں ٹکٹ جاری نہیں کیا لہٰذا وہ الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لے رہے ہیں۔

آزاد امیدواروں کی دست برداری

تحریک انصاف کی مقامی قیادت کے آزاد حیثیت میں کھڑے ہونے والے دیگر چار امیدوار قیادت کی ہدایت پر پارٹی امیدواروں کے حق میں دست بردار ہو چکے ہیں۔

تاہم مبینہ طور پر انہیں دست برداری کے بدلے پرکشش سرکاری عہدوں سے نوازا گیا ہے۔

حکومتی نوٹیفکیشنز کے مطابق سابق آزاد امیدوار جہانگیر ہمایوں کو پنجاب ویلفیئر ٹرسٹ کا نائب صدر اور سوشل ویلفیئر اور بیت المال کے بورڈ آف گورنس کا ممبر بنا دیا گیا۔

اسی طرح لاہور کنٹونمنٹ ورڈ نمبر دو سے آزاد امیدوار شیخ آصف کو انڈسٹریل لیبر انڈسٹری کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا ہے۔

وارڈ نمبر نو سے آزاد امیدوار کے کاغذات جمع کروانے والے بلال بھٹی سوشل سکیورٹی ہسپتالوں کے فوکل پرسن مقرر ہوئے ہیں جبکہ وارڈ نمبر پانچ سے آزاد امیدوار راؤ کاشف کو انڈسٹریل اینڈ پرائیویٹ یونینز کا فوکل پرسن مقرر کیا گیا۔

وارڈ نمبر آٹھ سے رانا تنویر کو پرائیویٹ آرگ ومنٹ اینڈ سمال لیبر کا فوکل پرسن جبکہ وارڈ نمبر تین سے آزاد امیدوار آصف انصاری کو لوکل باڈیز کینٹ کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں تین آزاد امیدواروں کی بھی وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورے پر ان سے ملاقات کرائی گئی تھی۔

پی ٹی آئی سینٹرل پنجاب کے صدر سینیٹر اعجاز چوہدری نے اس معاملے پر انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سوال کیا کہ کیا میرٹ پر سرکاری عہدوں پر حق صرف ان جماعتوں کا ہے تو 35 سال حکمران رہیں؟

انہوں نے کہا: ’اگر ہم نے اپنے کارکنوں کو ان کے حق پر عہدوں پر تعینات کردیا تو کون سی قیامت آ گئی۔

’یہ تاثر غلط ہے کہ یہ عہدے وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد دیے گئے۔ ملاقات کرنے والوں کو اپنے امیدواروں کی حمایت کرنے کی درخواست ضرور کی گئی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا